جادو کرنے کروانے والا ہم سے نہیں

جادو کرنے کروانے والا ہم سے نہیں

رسولِ نذیر ، سِراجِ مُنیر،محبوبِ ربِّ قدیرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے: لَیْسَ مِنَّا مَنْ تَطَیَّرَاَوْ تُطُیِّرَلَہ اَوْ مَنْ تَکَہَّنَ اَوْ تُکُہِّنَ لَہ اَوْ مَنْ سَحَرَ اَوْسُحِرَ لَہُ یعنی جس نے بد شگونی لی یا جس کے لئے بد شگونی لی گئی ،یا جس نے کہانت کی یا جس کے لئے کی گئی ،یا جادو کرنے اور کروانے والا ہم سے نہیں۔ (مسند بزار، اول حدیث عمران بن حصین،۹/۵۲،حدیث:۳۵۷۸)

جادو کیا ہے ؟

شریعت میں سحر (جادو)کے معنی ہیں خفیہ طور پر کسی چیز کو خلافِ اصل ظاہر کرنا۔ (تفسیر نعیمی،۱/ ۵۷۱)جادو کی ایک تعریف یہ بھی ہے کہ کسی شریر اور بدکار شخص کا
مخصوص عمل کے ذریعے عام عادت کے خلاف کوئی کا م کرناجادو کہلاتا ہے۔
(شرح المقاصد، المقصد السادس، الفصل الاول فی النبوۃ، ۵/۷۹)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *