توبہ

توبہ :

ترغیب و ترہیب میں بخاری ؒ اور مسلم ؒ وغیرہ سے منذری ؒ نے نقل کیا ہے کہ فرمایا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب کوئی بندہ توبہ کر تاہے تو خداے تعالیٰ کو اس مسافر سے بھی زیادہ خوشی ہو تی ہے جو اپنا کھانا پانی وغیرہ حوائج اونٹ پر رکھ کر جا رہا تھا کسی جنگل میں اونٹ سے اتر کر سورہا جب بیدار ہو اتو دیکھا کہ اونٹ غائب ہے اس کی تلاش میں نکلا اور بہت پریشان اِدھر اُدھر پھرا مگر کہیںاس کا پتہ نہ پایا جب دھوپ سخت ہو ئی اور بھوک اور پیاس غلب ہوئی اور موت آنکھیں میں پھر گئی تو کہا چلو اسی مقام پر جاکر مر جائیں جہاں سے اونٹ چلا گیا اور اس مقام میں آکر سو رہا جب آنکھ کھلی تو کیا دیکھتا ہے کہ اونٹ کھڑا ہے اور توشہ پانی وغیرہ محفو ظ ہے یہ دیکھ کر مارے خوشی کے کہنے لگا یا اللہ تو میرابندہ اور میں تیرا رب ہوں ! کمال خوشی میں یہ بھی نہ معلوم ہوا کہ کیا کہہ رہا ہے ۔ اب غور کیجئے کہ اس حالت مایوسی میں کس قدر خوشی ہو نی چاہئے اس کا صحیح اندازہ آرام سے گھر میں بیٹھنے والے نہیں کر سکتے ۔ مگر اتنا تو معلوم ہو تاہے کہ اس سے زیادہ خوشی کا کوئی درجہ نہ ہوگا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما تے ہیں کہ جب کوئی بندہ توبہ کر تا ہے تو حق تعالیٰ کو اس بھی زیا دہ ہو تی ہے جو شخص مذکورہ کو ہوئی،یہ شان الرحم الراحمین ہے کہ تو بہ کا نفع تو بندہ کو ہو اور ابدالآ باد بے انتہا ء نعمتوں میں خوش رہے اور خوشی خداے تعالیٰ کو ہو ۔
اسی کی تائید اس حدیث شریف سے ہوتی ہے جو کنز العمال میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر فرمایا لو لم تذ نبو الذہب اللہ بکم ۔الخ،جس کا ترجمہ یہ کہ : ’’اگر تم گناہ نہ کر تے تو خدا ے تعالیٰ تم کو فناء کر کے ایک ایسی قوم پیدا کرتا جو گناہ کر تی اور خداے تعالیٰ سے مغفرت ما نگتی اور وہ اس کو بحش دیتا‘‘۔ اس سے مقصود یہ نہیں کہ آدمی گناہ کیا کرے ، بلکہ بات یہ ہے کہ صحابہؓ سے جب کبھی گناہ سرزد ہو تا تھا تو مارے خوف کے زندگی ان پر وبال ہو جا تی تھی ،اس کی تصدیق ما عز کے واقعہ سے ہوتی ہے جو کتب احادیث میں مذکورہے کہ ان سے زنا وقوع میں آیا ،ساتھ ہی وہ آنحضرتؐ کی

خدمت میں حاضر ہو گئے اور عرض کی یا رسول اللہ میں نے زنا کیا مجھ پر حد جاری فر مائیے !حضرت ؐ نے بہت کچھ اغماض فرمایا اور ٹالا مگر وہ نہ مانے چنانچہ رجم کا حکم دیا گیا ،جس سے وہ شہید ہوگئے ۔جب صحابہ کو گناہ سے اس درجہ خوف تھا کہ زندگی ان پر وبال ہو جا تی تھی تو ان کی تسکین کے لئے ارشاد ہواکہ: اگر تم گناہ نہ کرتے تو خداے تعالیٰ ایسی قوم کو پیدا کرتا جو گناہ کر تی اور توبہ کرتی۔ مقصود یہ کہ اگر گنا ہو جا ئے تو توبہ کرلینا چاہئے اور رحمت خداوندی سے ہر گز مایوس نہ ہو نا چاہئے ۔
الحاصل حدیث مذکورسے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ خدا ے تعالیٰ کو یہ امر نہایت مرغوب ہے کہ گناہ گا رتو بہ کرے اور وہ اس کو بخشدے ۔چونکہ حق تعالیٰ ارحم الرحمین ہے اور صفت رحمت اس میں بڑھی ہوئی ہے ،اورمغفرت رحمت کا ایک شعبہ ہے اس لئے توبہ کو نہایت دوست رکھتا ہے جیسا کہ ارشاد ہے ان اللہ یحب التوابین تاکہ توبہ کے بعد مغفرت فرمادے ،اور توبہ بغیر گناہ کے نہیں ہو سکتی تھی اس لئے یہ اہتمام ہو اکہ ایک بھٹکا نے و بہکانے والا پیدا کیا گیا ،چنانچہ حدیث شریف میں ہے جو کنزالعمال میں مذکورہے کہ :’’اگر خداے تعالیٰ کو یہ منظور ہو تا کہ کوئی اس کی معصیت نہ کرے تو ابلیس کو نہ پیدا کرتا ‘‘ ۔اور ارشاد باری تعالیٰ ہے ولو شاء لہد اکم اجمعین ۔
جب توبہ سے خداے تعالیٰ کو نہایت خوشی ہو تی ہے تو ہر مسلمان کو شاہئے کہ توبہ کرے ۔ کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ اے لوگو توبہ کرو ،خدا کی قسم میں ہر روز سوبار توبہ کیا کرتا ہوں ‘‘۔ اس میں شبہ نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو توبہ کی کوئی ضرورت نہ تھی ،کیونکہ آپ سے گناہ صادر ہی نہیں ہوا ،مگر باوجود اس کے آپ توبہ کر تے تھے ،اس وجہ سے کہ حسنات الابرار سیئات المقربین یعنی نیک لوگوں کے حسنات مقربین کے گناہ ہیں ۔کیونکہ مقربین کی شان کے گنا ہ بھی ایسے ہو تے ہیں کہ اگر ہمیں وہ نصیب ہو جائیں تو ہماری نجات ہو جائے ۔
بہر حال آنحضرتؐ کا توبہ کرنا ثابت ہے ۔تو اب مشا ئخین اور پیروں کو کس قدر توبہ کی ضرورت ہو گی !ایہاں تو علا نیہ وہ گناہ ہیں جس کو ظاہر شریعت نے گناہ قرار دیا ہے ۔یوں تو ہر بندہ کا فرض ہے کہ اپنے خالق کو خوش کرے ،مگر جن لوگوں کو محبت الٰہی کا دعویٰ ہے اور زمرۂ اہل اسلام میں اسی خصوصیت سے سربرآوردہ سمجھے جا تے ہیں جس کی وجہ سے لوگ ان کی تعظیم و توقیر کر تے ہیں وہ بہ نسبت مردین کے زیادہ اس امر کے مستحق ہیں کہ گناہوں سے توبہ کرکے اپنے محبوب کو خوش کریں ۔ اگر یہی حضرات ایسے کاموں میں مبتلاہوں جن کو خدا ے تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گناہ قرار دیا اور صاف ارشادہوا کہ اسیے کام کرنے والوں سے خدا ے تعالیٰ نا خوش ہے توکہئے کہ کس قدر بے موقعہ ہو گا ۔ اور مریدین کو بھی لازم ہے کہ سلوک کی راہ میں آنے سے قبل
خدا ے تعالیٰ ک وخوش کریں ۔ چنانچہ قوت القلوب وغیرہ کتب تصوف میں لکھا ہے کہ پیر کو چاہئے کہ مرید کو سب سے پہلے توبہ کرنے کا حکم دے ۔
مگر یہ بات یاد رہے کہ ’’توبہ توبہ ‘‘ یا اتوب الی اللہ کہہ دینا کا فی نہیں ،بلکہ بزرگان دین کے نزدیک یہ خود گناہ ہے ،جیسا کہ قوت القلوب جو حضرات صوفیہ کے نزدیک معتبرکتاب ہے اور بزرگان دین نے اس کے مطالعہ کی تاکید فرما یا کر تے تھے اس میں لکھا ہے کہ بعض بزرگوں کا قول ہے کہ :جب استعفراللہ زبان سے کہتاہوں اوردل میں ندامت نہیں ہوتی اس اسبات سے استغفار کر تاہوں اور خداے تعالیٰ سے مغفرت مانگتا ہوں ۔او رلکھا ہے کہ حدیث شریف میں ہے کہ :زبان سے استغفار کرنا بغیر اس کے دل میں ندامت ہو جھوٹوں کی توبہ ہے ۔اور رابعہ بصریہ ؒ کا قول نقل کیا ہے کہ : ہمارا استغفار کرنا خوذ دوسر ے استغفار کا محتاج ہے ،اسی طرح توبہ اس کی محتاج ہے کہ اس سے توبہ کی جائے ۔
حضرت غوث الثقلین رضی اللہ تعالیٰ عنہ غنیتہ الطالبین میں لکھتے ہیں کہ :توبہ ہر شخص کے لئے فرض عین ہے کوئی بشر اس سے مستغنی نہیں ،کیونکہ وہ جوراح اوراعضاء کی معصیتوں سے بچ نہیں سکتا اور اگر اس سے بچ بھی گیا تو دل کے گنا ہوں کے ارادہ سے بچ نہیں سکتا ،اوراگر اس سے بھی بچ گیا تو شیطان جو دل میں مختلف خطرے ڈالتا ہے جن کی وجہ سے ذکر الٰہی سے غافل ہوجا ئے بچ نہیں سکتا ،اور اگراس سے بھی بچ جائے تو غفلت اور علم صفات و افعال الٰہی کے حاصل کرنے میں قصور اور کوتاہی کرنے سے بچ نہیں سکتا ۔ یہ تمام مؤ منین کے احوال اور مقامات ہیں ، جن کے لئے طاعات اور گناہ اور

حدود اور شروط مقررہیں ، حفاظت ان کی اطاعت ہے اور ان کا چھوڑ دینا اور ان سے عفلت کرنا گناہ ہے ۔ بہر حال ہر شخص کو ہر حالت میں توبہ کی ضرورت ہے ،مگر مقامات جدا جدا ہیں ۔ عوام کی توبہ گناہوں سے ہوگی ،اور خواص کی توبہ غفلت سے ،اور خاص الخاص کی توبہ ما سویٰ اللہ کے طرف مائل ہونے سے ۔
اور فرمایا کہ : توبہ ایسی ہو نی چاہئے کہ پھر معصیت کی جانب پلٹنے کا خیال کرے نہ اور کسی گناہ کا خیال کرے ، بلکہ گناہو ں کا خالص اللہ کے لئے چھوڑ دے تاکہ خاتمہ اچھا ہو ۔
اور فرمایا کہ :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ : ایماندار اپنے گناہ کو مثل پہاڑ کے سمجھتا ہے جو اس کے سرپر معلق ہو ، وہ ڈرتا ہے کہ یہ پہاڑ کہیں مجھ پر گرنہ جائے ،او رمنا فق گناہ کو ایسا سمجھتا ہے جیسے مکھی ناک پر بیٹھی اوراس کو اڑا دیا ۔
اب غورکیجئے کہ جب حضرت پیر دستگیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ گناہوں سے اس قدر خوف دلا تے ہیں اور توبہ کی شدید ضرورت بیان فرما تے ہیں تو ہم مریدوں کو اس کا کس قدر اہتمام کرنا چا ہئے ۔اس کی وجہ یہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا من لا یستغفر لا یغفر اللہ لہ ،ومن لا یتوب لایتوب اللہ علیہ یعنی :’’جو شخص خدا ے تعالیٰ سے مغفرت نہ ما نگے خدا ے نہیں بخشتا ،اور جو شخص توبہ نہ کرے خدا اس کی طرف توجہ بہ رحمت نہیں کرتا ‘‘۔یہ روایت کنزالعمال میں ہے ۔
بہرحال جنتے بزرگان دین ہیں سب نے اپنے مریدو ں کو یہی تعلیم تلقین و وصیت کی ہے کہ گناہوں سے توبہ کیا کریں ۔کیوں نہ ہوحق تعالیٰ کا ارشاد ہے فتوبو االی اللہ جمیعاً ایھا المؤمنون لعلکم تفلحون یعنی اے ایمان والوتم سب کے سب توبہ کرو اور اللہ کی طرف رجوع کرو تاکہ تم فلا ح پائو ۔ اور ارشاد ہے توبو الی اللہ توبۃ ًنصوحا عسیٰ ربکم ان یکفر عنکم سیئا تکم یعنی :اے مسلمانوں خالص توبہ کرو خدا ے تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا ۔
یہاں یہ امر قابل توجہ ہے کہ اذکار و اشغال نوافل میں داخل ہیں،اور گناہوں سے توبہ کر نا فرض ہے ،کیونکہ بار بار خدا ے تعالیٰ نے اس کا حکم فرمایا ہے ۔اور ظاہر ہے فرض کو چھوڑ کر نوافل کا اداء کرنا مفید نہیں ہو سکتا کیونکہ نوافل کو ترک کرنے سے مؤاخذہ نہیں ، اور فرض کو ترک کرنے پر سوال اور مؤاخذہ ہوگا ۔
فوائد الفؤادی کی مجلس ہفتم ؍ماہ رجب ۷۱۵؁ ہجری میں لکھا ہے کہ حضرت محبوب الٰہی سید نظام الدین قدس سرہ نے فرمایا کہ توبہ تین قسم پر ہے :حال ،ماضی ،مستقبل ۔حال یہ ہے کہ جو گناہ کیا ہے اس سے نادم او رپشیمان ہو ۔ ماضی وہ ہے کہ مخالفوں کو خوش کرے اگر کسی سے د س درہم غصب کیا ہو اور اس سے توبہ کرنے کے خیال سے ’’توبہ توبہ ‘‘کہے تو یہ توبہ ،توبہ نہ ہوگی ۔ توبہ وہ ہے کہ درہم اس کو واپس کر کے اس کو خوش کرے ، او اگر وہ کسی کو بد کہا ہو اس کی معذرت کرکے اس کو خوش کرے اور اگروہ شخص مرگیا ہو تو جتنے بار اس کی برائی کی ہے اس کی تعریف کرے ۔ اور اگر شراب سے توبہ کرنا چاہئے تو عمدہ شربت اور ٹھنڈاپانی کثرت سے پائے ۔مقصود یہ ہے کہ توبہ کے وقت معذرت ہر معصیت کی اسی کے مناسب ہو نی چاہئے ۔توبہ کی تیسری قسم جو مستقبل ہے وہ یہ ہے کہ نیت کرے کہ آئندہ اس قسم کا گناہ نہ کروں گا ۔
اس کے بعد فرمایا کہ : میں جب شیخ الاسلام فرید الحق والدّین قدس سرہ العزیز کی خدمت میں بعیت کی غرض سے حاضر ہوا تو بار بار فرمایا کہ :اپنے خصموں کو راضی کرنا چاہئے !جب اس میں بہت غلو فرما یا تو مجھے یا دآگیا کہ میرے ذمہ بیس جیتل واجب الاداء ہیں اور ایک شخص سے میں نے کتاب عاریت لی تھی وہ گم ہو گئی ،میں سمجھ گیا کہ حضرت کثف سے یہ بیان فر ما رہے ہیں ، میں نے دل میں یہ عہد کر لیا کہ جب دہلی جائوں گا تو ان کو خوش کر دوں گا ، جب اجود ھن سے دہلی آیا اس وقت میری معیشت بہت کم تھی ، کبھی پانچ چیتل میرے پاس جمع ہوئے اور کبھی زیادہ ایک باردس چیتل جمع ہوگئے تواس بزاز کے مکان پر گیا جس سے کپڑا لیا تھا جن کی قیمت بیس چیتل میرے ذمہ تھی اور اس سے کہا کہ بیس چیتل تمہارے میرے ذمہ ہیں مجھے ایک ہی دفعہ میں میسر نہ آئے یہ دس چیتل جو لا یاہوں ان کو لے لو اور باقی بھی انشاء اللہ دے دوں گا !جب اس نے یہ بات سنی تو کہا کہ :ہاں تم مسلمان کے پاس سے
آتے ہو ! اور وہ لے لیا او رکہا کہ باقی دس چیتل تمہیں معاف کردیا ۔ اس کے بعد میں اس شخص کے پا س میں گیا جس سے کتاب لی تھی اس سے کہا کہ جو کتاب آپ سے میںنے لی تھی وہ گم گئی اب کہیں سے اس کی نقل لے کر آپ کو پہونچا دوں گا ! اس نے یہ سن کر کہا کہ : ہاںجہاں سے تم آئے ہو اس کا ثمرہ یہی ہونا چاہئے !اس کے بعد کہا کہ میں نے وہ کتاب آپ کو بخش دی ۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!