تنگدستی کے ”44”اسباب

تنگدستی کے ”44”اسباب

قبلہ شیخِ طریقت امیرِ اَہلسنت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ اپنی مشہور زمانہ تصنیف ”فیضانِ سنّت ” کے باب ”آدابِ طعام ”میں ص88تا 90پر تحریر فرماتے ہیں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جس طرح روزی میں بَرَکت کی وجوہات

ہیں اِسی طرح روزی میں تنگی کے بھی اسباب ہیں اگر ان سے بچا جائے تو اِنْ شآء اللہ عَزَّوَجَلَّ روزی میں بَرَکت ہی بَرَکت دیکھیں گے۔ آپ کی معلومات کے لئے تنگدستی کے 44اَسباب عرض کرتا ہوں۔

(۱)بِغیر ہاتھ دھوئے کھانا کھانا، (۲)ننگے سر کھانا، (۳) اندھیرے میں کھانا کھانا،(۴)دروازے پر بیٹھ کر کھانا،(۵)میت کے قریب بیٹھ کر کھانا،(۶) جِنابَت (يعنی جماع یا احتلام کے بعد غسل سے قبل)کھانا کھانا، (۷) چارپائی پر بِغیر دستر خوان بچھائے کھانا(۸)نکلے ہوئے کھانے میں دیرکرنا ،(۹)چار پائی پر خود سرہانے بیٹھنا اور کھانا پائینتی (یعنی جس طرف پاؤں کئے جاتے ہیں اس حصے ) کی جانب رکھنا (۱۰) دانتوں سے روٹی کُتَرنا، (برگر وغیرہ کھانے والے بھی احتیاط فرمائیں)(۱۱)چینی یا مِٹّی کے ٹوٹے ہوئے برتن استعمال میں رکھنا خواہ اِس میں پانی پینا(برتن یا کپ کے ٹوٹے ہوئے حصّے کی طرف سے پانی، چائے وغیرہ پینا مکروہ ہے، مِٹّی کے دراڑوالے یا ایسے برتن جن کے اندرونی حصّہ سے تھوڑی سی بھی مِٹّی اُکھڑی ہوئی ہو اُس میں کھانا نہ کھائيے کہ مَیل کچیل اور جراثیم پیٹ میں جاکر بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں)(۱۲)کھائے ہوئے برتن صاف نہ کرنا،(۱۳)جس

برتن میں کھانا کھایا اُسی میں ہاتھ دھونا،(۱۴)خِلال کرتے وقت جو ریشہ و ذرّات وغیرہ دانتوں سے نکلے اسے پھر منہ میں رکھ لینا،(۱۵)کھانے پینے کے برتن کُھلے چھوڑ دینا، (کھانے پینے کے برتن بسم اللہ کہہ کر ڈھانک دینے چاہیں کہ بلائیں اُترتی ہیں اور خراب کردیتی ہیں پھر وہ کھانا اور مُشروب بیماریاں لاتا ہے) (۱۶)روٹی کو خوار رکھنا کہ بے ادَبی ہو اور پاؤں میں آئے۔

(ملخص از: سنی بہشتی زیور ص ۵۹۵ تا۶۰۱)

حضرتِ سیِّدُنا امام بُرہان ُالدّین زَرنُوجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تنگدستی کے جو اَسباب بیان فرمائے ہیں اُن میں یہ بھی ہیں۔(۱۷)زیادہ سونے کی عادت( اس سے جہالت بھی پیدا ہوتی ہے)(۱۸)ننگے سونا(۱۹)بے حیائی کے ساتھ پیشاب کرنا(لوگوں کے سامنے عام راستوں پر بلا تکلُّف پیشاب کرنے والے غور فرمائیں) (۲۰)دستر خوان پر گرے ہوئے دانے اور کھانے کے ذرّے وغیرہ اُٹھانے میں سُستی کرنا (۲۱)پیاز اور لہسن کے چھلکے جلانا،(۲۲)گھر میں کپڑے سے جھاڑو نکالنا(۲۳)رات کو جھاڑو دینا(۲۴)کُوڑا گھر ہی میں چھوڑدینا(۲۵)مَشائخ کے آگے چلنا(۲۶)والِدَین کو ان کے نام سے پُکارنا (۲۷)ہاتھوں کو گارے یا مِٹّی

سے دھونا۔ (۲۸)دروازے کے ایک حصّے سے ٹیک لگا کر کھڑے ہونا، (۲۹)بیتُ الخَلا میں وُضو کرنا (۳۰)بدن ہی پر کپڑا وغیرہ سی لینا، (۳۱)چہرہ لباس سے خشک کرلینا(۳۲)گھر میں مکڑی کے جالے لگے رہنے دینا(۳۳)نَماز میں سُستی کرنا (۳۴)نَمازِ فَجر کے بعد مسجِد سے جلدی نکل جانا(۳۵)صبح سویرے بازار جانا(۳۶)دیر گئے بازار سے آنا(۳۷)اپنی اولادکو ”کوسنیں” (یعنی بددعائیں) دینا(اکثر عورتیں بات بات پر اپنے بچوں کو بد دعائیں دیتی ہیں اور پھر تنگدستی کے رونے بھی روتی ہیں) (۳۸)گناہ کرنا خُصُوصاً جھوٹ بولنا (۳۹)چراغ کو پھونک مار کر بُجھا دینا(۴۰)ٹُوٹی ہوئی کنگھی استِعمال کرنا(۴۱)ماں باپ کیلئے دعائے خیر نہ کرنا(۴۲)عِمامہ بیٹھ کر باندھنا اور(۴۳)پاجامہ یا شلوار کھڑے کھڑے پہننا(۴۴)نیک اعمال میں ٹال مٹول (ٹال-م َ۔ٹول)کرنا۔

(تَعْلِیْمُ الْمُتَعَلِّمِ طَرِیْقُ التَّعَلِّمِ ۷۳ تا ۷۶ بابُ المدینہ کراچی)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *