تعمیر ِکعبہ

تعمیر ِکعبہ

جب حضرت کی عمر مبارک پینتیس سال کی ہوئی تو قریش نے کعبہ کو ازسرنوبنایا۔علامہ (2) ازرقی (متوفی ۲۲۳ھ) نے تاریخ مکہ میں لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے پتھروں سے جو تعمیر کی تھی اس کا طول وعرض حسب ذیل تھا :
اس عمارت کو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام تعمیر کر رہے تھے اور حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ السَّلَام کندھے پر پتھر لا دکر لا رہے تھے جب دیواریں اونچی ہو گئیں تو مقام پر کھڑے ہو کر کام کرتے رہے جب حجر اَسود کی جگہ تک پہنچ گئے تو آپ نے حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ السَّلَام سے فرمایا کہ ایک پتھر لاؤ، میں اسے یہاں نصب کر دوں تاکہ لوگ طواف یہاں سے شروع کیاکریں حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ السَّلَام پتھر کی تلاش میں گئے تو حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام حجر اسود لے کر حاضر ہوئے۔ اس بنا میں دروازہ سطح زمین کے برابر تھا مگر چو کھٹ بازونہ تھے نہ کو اڑ تھے نہ چھت۔حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے بعد عَمَالِقَہ (1) وجُرْہُم وقُصٰی نے اپنے اپنے وقت میں اس عمارت کی تجدید کی۔چونکہ عمارت نشیب میں واقع تھی وادی مکہ کی رَوؤں کا پانی حرم میں آجاتا تھا اس پانی کی روک کے لئے بالا ئی حصہ پر بند بھی بنوادیا گیا تھا مگر وہ ٹوٹ ٹوٹ جاتا تھا۔ ا س دفعہ ایسے زور کی رَو (2) آئی کہ کعبہ کی دیواریں پھٹ گئیں اس لئے قریش نے پرانی عمارت کو ڈھاکر نئے سرے سے مضبوط ومُسَقَّف (3) بنا نے کاا را دہ کیا۔حسن اتفاق یہ کہ ایک رومی تا جر باقُوم کا جہاز ساحل جدہ پر کنارے سے ٹکراکر ٹوٹ گیا۔ باقوم مذکور معمار ونجار بھی تھا۔قریش کو جو خبر لگی تو وَلید بن مغیر ہ چند اور قریشیوں کے ساتھ وہاں پہنچا، اس نے چھت کے لئے جہاز کے تختے مول لے لئے اور باقوم کو بھی ساتھ لے آیا۔دیواروں کے لئے قریش کے ہر ایک قبیلہ نے الگ الگ پتھر ڈھونے شروع کیے، مرد دودو مل کر دور سے پتھر وں کو کندھوں پراُ ٹھا کر لا تے تھے، چنانچہ اس کا م میں حضرت اپنے چچا عباس کے ساتھ شریک تھے اور کوہ صفاکے متصل اَجیاد سے پتھر لارہے تھے۔جب سامان عمارت جمع ہو گیا تو ابو وہب بن عمروبن عائذ مخزومی کے مشور ے سے قبائل قریش نے تعمیر کے لئے بیت اللّٰہ کی چاروں طرفیں آپس میں تقسیم کر لیں ۔
ابو وہب مذکور حضرت کے والد ماجد عبداللّٰہ کا ماموں تھا، اسی نے قریش سے کہا تھا کہ کعبہ کی تعمیر میں کسب حلال کی کمائی کے سوااور مال صرف نہ کیا جائے۔ جب عمارت حجر اسود کے مقام تک پہنچ گئی تو قبائل میں سخت جھگڑا پیدا ہوا، ہر ایک قبیلہ چاہتا تھا کہ ہم ہی حجر اسود کواٹھا کر نصب کریں گے اسی کشمکش میں چاردن گز رگئے اور تلواروں تک نوبت پہنچ گئی۔ بنو عبدالدار اور بنو عَدِی بن کعب نے تو اس پر جان دینے کی قسم کھائی اور حسب دستور اس حلف کی تاکید کے لئے ایک پیالہ میں خون بھر کراپنی انگلیاں اس میں ڈبو کر چاٹ لیں ۔پانچو یں دن سب مسجد حرام میں جمع ہوئے۔ ابوامیہ بن مغیرہ مخزومی
نے جو حضرت اُمُّ المُومنین اُم سَلَمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا والد اور قریش میں سب سے مُعَمَّر (1) تھا یہ رائے دی کہ کل صبح جو شخص اس مسجد کے باب بنی شیبہ سے حرم میں داخل ہو وہ ثالث قرار دیا جائے۔ سب نے اس رائے سے اتفاق کیا۔ دوسرے روز سب سے پہلے داخل ہو نے والے ہمارے آقائے نا مدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تھے۔دیکھتے ہی سب پکار اٹھے: ’’ یہ امین ہیں ہم ان پر راضی ہیں ۔ ‘‘ جب انہوں نے آپ سے یہ معاملہ ذکر کیا تو آپ نے ایک چادر بچھاکر اس میں حجر اَسو د کو رکھا، پھر فرمایا کہ ہر طرف والے ایک ایک سردار کا انتخاب کرلیں اور وہ چاروں سردار چادر کے چاروں کو نے تھا م لیں اور اوپر کو اٹھائیں ، اس طرح جب وہ چادر مقام نصب کے برابر پہنچ گئی تو حضرت نے حجر اسود کو اپنے مبارک ہاتھ سے اٹھا کر دیو ار میں نصب فرمادیا اور وہ سب خوش ہوگئے۔ (2)
قریش نے اس تعمیر میں بہ نسبت ِسابق کئی تبدیلیاں کر دیں ۔بنائے خلیل میں ارتفاع (3) نو گز تھا، اب اٹھارہ گز ارتفاع کر کے عمارت مسقف (4) کر دی گئی مگر سامانِ تعمیر کے لئے نفقہ حلال کافی نہ ملا اس لئے بنا ئے خلیل میں سے جانب غرب کا کچھ حصہ چھوڑ دیا گیا اور اس کے گر دچار دیواری کھینچ دی گئی کہ پھر موقع ملے گا تو کعبہ کے اندر لے لیں گے اس حصہ کو حجر یا حطیم (5) کہتے تھے۔ بنائے خلیل میں کعبہ کا دروازہ سطح زمین کے برابر تھا مگر اب قریش نے زمین سے اونچا کر دیا، تاکہ جس کو چاہیں اندر جانے دیں اور جس کو چاہیں روک دیں ۔ عہد نبوت میں حضرت کا ارادہ ہوا کہ حجر کو عمارت کعبہ میں ملالیں اور دروازہ سطح زمین کے برابر کردیں ، مگر بدیں خیال ایسا نہ کیا کہ قریش نئے نئے مسلمان ہیں کہیں دیو ار کعبہ کے گرانے سے بد ظن ہوکر دین اسلام سے نہ پھر جائیں ۔

ارتفاع ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۹گز۔ (3)
طول (سامنے کی طرف) حجر اسودسے رکن شامی تک۔۳۲ گز (۳۲ہاتھ)
عرض (میزاب شریف کی طرف) رکن شامی سے رکن غربی تک۔۲۲گز (۲۲ہاتھ)
طول (پچھواڑے کی طرف ) رکن غربی سے رکن یمانی تک۔۳۱گز ( ۳۱ہاتھ )
عرض رکن یمانی سے حجر اسودتک …………… ۲۰ گز (۲۰ہاتھ )

________________________________
1 – السیرۃ الحلبیۃ،باب تزویجہ خدیجۃ۔۔۔الخ،ج۱،ص۱۹۹۔۲۰۴ملخصاً علمیہ۔
2 – اعلام باعلام بیت اللّٰہ الحرام للعلامۃ قطب الدین الحنفی، ص۱۴۔
3 – شرعی گز۲۴ اُنگل کاہوتا ہے۔۱۲منہ

 

________________________________
1 – بڑی عمر کا۔
2 – الکامل فی التاریخ،ذکرھدم قریش الکعبۃ وبنائھا،ج۱،ص۵۷۱-۵۷۳۔علمیہ
3 – بلندی۔
4 – چھت دار۔
5 – بقول حضرت ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا حجر کو حطیم نہ کہنا چاہیے کیونکہ یہ نام ایام جاہلیت میں وضع ہوا ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ ایام جاہلیت میں وہاں باہم قسم کھایا کرتے تھے اور عقد حلف کی علامت یہ ہوا کرتی تھی کہ معاہدین اپنا جوتا یا چابک یا کمان حجر کی طرف پھینک دیا کرتے تھے، اس واسطے حجر کو حطیم کہا کرتے تھے۔( بخاری شریف)۔۱۲منہ شارِح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ رحمۃاللّٰہ القوی نزہۃ القاری شرح بخاری میں اس کے بعد فرماتے ہیں :یہ ابن عباس (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) کی اپنی پسند تھی ورنہ حطیم کو حطیم کہنا پوری امت میں زمانۂ رسالت سے معمول رہا ہے۔(نزہۃ القاری ج۴ ص۶۷۱)لہٰذا حطیم کو حطیم کہنے میں کوئی حرج نہیں ۔علمیہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *