تجارت کے فضائل :

تجارت کے فضائل :

Advertisement

احادیث میں تجارت کے بے شمار فضائل بیان کئے گئے ہیں ، ان میں سے 4 احادیث درج ذیل ہیں :
(1)… حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’سچا اور امانت دار تاجر انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی التجار وتسمية النبی صلی الله علیه وسلم ایاهم، ۳ / ۵، الحدیث : ۱۲۱۲)
(2)… حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’پاکیزہ کمائی ان تاجروں کی ہے جو گفتگو کے وقت جھوٹ نہیں بولتے ، وعدہ کریں تو خلاف ورزی نہیں کرتے ، جب ان کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت نہیں کرتے ، جب کوئی چیز خریدیں تو اس کی برائی بیان نہیں کرتے اور جب کچھ بیچیں تو ا س کی تعریف نہیں کرتے ، جب ان پر کسی کا آتا ہو تو دینے میں پس و پیش نہیں کرتے اور جب انہوں نے کسی سے لینا ہو تو اس پر تنگی نہیں کرتے ۔ (در منثور، النساء، تحت الاٰية : ۲۹، ۲ / ۴۹۵)
(3)… حضرت رفاعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’قیامت کے دن تاجر فاسق اٹھائے جائیں گے سوائے اس تاجر کے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرے ، بھلائی کرے اور سچ بولے ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی التجار وتسمية النبی صلی الله علیه وسلم ایاهم، ۳ / ۵، الحدیث : ۱۲۱۴)
(4)… حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس اس کی روح قبض کرنے فرشتہ آیا تو اس سے کہا گیا : کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے ؟ وہ بولا : میں نہیں جانتا ۔ اس سے کہا گیا : غور تو کر ۔ کہنے لگا : اس کے سوا کچھ اور نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان سے (اپنی رقم کا) تقاضا کرتا تو امیر کو مہلت دیتا تھا اور غریب کو معاف کر دیتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’اے فرشتو! اس سے درگزر کرو ۔
(مسند امام احمد ، حدیث حذیفة بن الیمان، ۹ / ۹۸، الحدیث : ۲۳۴۱۳، مسلم، کتاب المساقاة والمزارعة، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۳، الحدیث : ۲۶(۱۵۶۰))

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!