بیوی کے ساتھ حُسن سُلُو ک

بیوی کے ساتھ حُسن سُلُو ک

Advertisement

ایک بزرگ نے کسی عورت سے نکاح کیا ، وہ ہمیشہ اُس کی خدمت کرتے

رہتے حتّٰی کہ عورت نے شرم محسوس کی اور اس بات کا تذکرہ اپنے والد سے کیا کہ میں اس شخص پر حیران ہوں ، کئی سال سے میں اس کے گھر میں ہوں ، میں جب بھی بیت الخلا جاتی ہو ں یہ مجھ سے پہلے ہی وہاں پانی رکھ دیتا ہے ۔(احیاء علوم الدین، کتاب کسر الشہوتین، بیان ماعلی المرید فی ترک التزویج وفعلہ، ۳/ ۱۲۷)

(حکایت:31)

دو بیویوں میں انصاف کی عمدہ مثال
حضرت سیِّدُنایحییٰ بن سعید علیہ رَحْمَۃُ اللّٰہ المجیدسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَل رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی دو بیویاں تھیں ۔جس دن ایک کی باری ہوتی اس دن دوسری کے گھر میں وضو تک نہ فرماتے تھے ۔جب ملکِ شام میں کسی مرض میں مبتلا ہوکردونوں انتقال کرگئیں توچونکہ اس وقت سب لوگ اپنے اپنے معاملات میں مصروف تھے ، اس لئے دونوں کو ایک ہی قبر میں دفن کردیا گیا ، اورقبرمیں اُتارتے وقت بھی آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہنے قُرعہ ڈالا کہ پہلے کس کو قبر میں رکھا جائے ۔(صفۃ الصفوۃ ، معاذ بن جبل ، ذکر نبذہ من ورعہ ، ۱/ ۲۵۵)

(حکایت: 32)

دنیا والی زوجہ جنت میں بھی زوجہ کیسے بنے ؟
حضرت سیِّدُنالقمان بن عامرعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القادرسے مروی ہے کہ حضرت سَیِّدَتُنا اُمّ دَرْدَاء رضی اللّٰہ تعالٰی عنہانے بارگاہ ِ الٰہی میں یوں التجا کی : یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے دنیامیں مجھے نکاح کا پیغام بھیجا اور مجھ سے شادی کی، میں تیری بارگاہ میں عرض کرتی ہوں کہ مجھے جنت میں بھی ان کی
زوجیت میں رکھنا ۔‘‘حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے اُن سے فرمایا : ’’ اگر تو اس بات کوپسندکرتی ہے تو میں بھی یہی چاہتاہوں ، لہٰذامیرے بعد کسی سے شادی نہ کرنا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں کہ’’ حضرت سَیِّدَتُنا اُمّ دَرْ داء رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا صاحبِ حسن و جمال تھیں ۔حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی وفات کے بعد حضرت سیِّدُنا امیر مُعَاوِیَہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے انہیں نکاح کا پیغام بھجوایا تو انہوں نے جواب دیا : اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی قسم ! میں دنیا میں کسی سے شادی نہیں کروں گی ، اگراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے چاہا توجنت میں حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی زوجیت میں رہوں گی ۔(صفۃ الصفوۃ ، ابو الدرداء عویمر بن زید ، ذکر وفاۃ ابی الدرداء ، ۱/ ۳۲۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!