ایک ڈاکو کی توبہ

) ایک ڈاکو کی توبہ

Advertisement

حضرت سَیِّدُنا فضیل بن عیاض علیہ الرحمۃ بہت نامور محدث اور مشہور اولیائے کرام میں سے ہیں ۔ یہ پہلے زبردست ڈاکو تھے ۔ ایک مرتبہ ڈاکہ ڈالنے کی غرض سے کسی مکان کی دیوار پر چڑھ رہے تھے کہ اتفاقاً اس وقت مالک مکان قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول تھا ۔ اس نے یہ آیت پڑھی ،

اَلَمْ یَاۡنِ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخْشَعَ قُلُوۡبُہُمْ لِذِکْرِ اللہِ

ترجمہ کنزالایمان :کیاایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد (کے لئے )۔(پ۲۷، الحدید:۱۶)
جونہی یہ آیت آپ کی سماعت سے ٹکرائی ،گویا تاثیرِ ربّانی کا تیر بن کر دل میں پیوست ہوگئی اور اس کا اتنا اثر ہوا کہ آپ خوفِ خدا عزوجل سے کانپنے لگے اور بے اختیار آپ کے منہ سے نکلا ، ”کیوں نہیں میرے پروردگار عزوجل ! اب اس کا وقت آگیا ہے ۔”
چنانچہ آپ روتے ہوئے دیوار سے اتر پڑے اور رات کو ایک سنسان اور بے آباد کھنڈر نما مکان میں جاکر بیٹھ گئے ۔ تھوڑی دیر بعد وہاں ایک قافلہ پہنچا تو شرکائے قافلہ آپس میں کہنے لگے کہ،”رات کو سفر مت کرو ، یہاں رک جاؤ کہ فضیل بن عیاض ڈاکو اسی اطراف میں رہتا ہے ۔” آپ نے قافلے والوں کی باتیں سنیں تو اور زیادہ رونے لگے کہ ،”افسوس ! میں کتنا گناہ گار ہوں کہ میرے خوف سے امتِ رسول اکے قافلے رات میں سفر نہیں کرتے اور گھروں میں عورتیں میرا نام لے کر بچوں کو ڈراتی ہیں ۔”
آپ مسلسل روتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی اور آپ نے سچی توبہ کر کے یہ ارادہ کیا کہ اب ساری زندگی کعبۃ اللہ کی مجاوری اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزاروں گا ۔ چنانچہ آپ نے پہلے علمِ حدیث پڑھنا شروع کیا اور تھوڑے ہی عرصے میں ایک صاحبِ فضیلت محدث ہوگئے اور حدیث کا درس دینا بھی شروع کر دیا ۔(اولیائے رجال الحدیث ص۲۰۶ )

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!