اپنی صفیں سیدھی رکھو

اپنی صفیں سیدھی رکھو

Advertisement

شفیعُ المُذْنِبِین، انیسُ الغریبین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : اپنی صفیں سیدھی کروکہ صفیں سیدھی کرنا نماز قائم کرنے سے ہے ۔(بخاری، کتاب الاذان، باب اثم من لم یتم الصفوف، ۱/ ۲۵۷حدیث:۷۲۳)
مُفَسِّرِشَہِیر، حکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : رب تعالیٰ نے جو فرمایا : یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ (پ۱، البقرۃ:۳)(ترجمۂ کنزالایمان : نماز قائم رکھیں ۔)یا فرمایا : وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ (ترجمۂ کنزالایمان : نماز قائم رکھو۔(پ ۱ ، البقرۃ : ۴۳ ))اس سے مراد ہے نماز صحیح پڑھنا اور نماز صحیح پڑھنے میں صف کا سیدھا کرنا بھی داخل ہے کہ اس کے بغیر نماز ناقص ہوتی ہے ۔(مراٰۃ المناجیح، ۲/ ۱۸۳)

شیطان صفوں میں گھس جاتا ہے

نبی پاک، صاحبِ لولاک ، سیّاحِ افلاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّمنے اِرشاد فرمایا : اپنی صفیں سیدھی کرو، ان میں نزدیکی کرو، اپنی گردنیں مقابل رکھو، اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ میں شیطان کو صفوں کی کشادگی میں بکری کے بچے کی طرح گُھستا دیکھتا ہوں ۔(ابوداؤد، کتاب الصلاۃ، باب تسویۃ الصفوف، ۱/ ۲۶۶حدیث:۶۶۷)

مُفَسِّرِشَہِیر، حکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : معنی یہ ہوئے کہ نماز کی صفیں سیدھی بھی رکھو اور ان میں مل کر کھڑے ہو کہ ایک دوسرے کے آپس میں کندھے ملے ہوں ۔
مفتی صاحب رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ حدیث ِپاک اس حصے ’’ان میں نزدیکی کرو‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : صفیں قریب قریب رکھو اس طرح کہ دو صفوں کے درمیان اور صف نہ بن سکے یعنی صرف سجدہ کا فاصلہ رکھو، نماز جنازہ میں چونکہ سجدہ نہیں ہوتا اس لئے وہاں صفوں میں اس سے بھی کم فاصلہ چاہئے ۔
مفتی صاحب رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ حدیث ِپاک کے اس حصے ’’اپنی گردنیں مقابل رکھو‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : اس طرح کہ اونچے نیچے مقام پر نہ کھڑے ہو، ہموار جگہ کھڑے ہوتاکہ گردنیں برابر رہیں ، لہٰذا یہ جملہ مکرر نہیں آگے پیچھے نہ ہونا ’’رَصُّوْا ‘‘میں بیان ہوچکا تھا۔خیال رہے کہ گردنوں کا قدرتی طور پر اونچا نیچا ہونا معاف ہے کہ بعض لمبے اور بعض پستہ قد ہوتے ہیں ۔
مفتی صاحب رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ حدیثِ پاک کے اس حصے ’’شیطان کو صفوں کی کشادگی میں بکری کے بچے کی طرح گھستا دیکھتا ہوں ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : خنزب شیطان جو نماز میں وسوسہ ڈالتا ہے وہ صف کی کشادگی میں بکری کے بچے کی شکل میں داخل ہو کر نمازیوں کو وسوسہ ڈالتا ہے ۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے : ایک یہ کہ شیطان مختلف شکلیں اختیار کرسکتا ہے ، دیکھو اس شیطان کی شکل اپنی تو کچھ
اور ہے مگر اس وقت بکری کی شکل میں بن جاتا ہے ۔دوسرے یہ کہ رب تعالیٰ نے حضور انورصلی اللّٰہ علیہ وسلّم کو وہ طاقت بخشی ہے کہ خالق (عزوجل)کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بھی ہر مخلوق پر نظر رکھتے ہیں ۔تیسرے یہ کہ جب شیطان جیسی غیبی مخلوق آپ کی نگاہ سے غائب نہیں تو انسان آپ سے کیسے چھپ سکتے ہیں !(مراٰۃ المناجیح، ۲/ ۱۸۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!