آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فضائل وخصائص کا بیان

آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فضائل وخصائص کا بیان

حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے فضائل و کمالات کا احاطہ طاقت بشری سے خارج ہے۔ علمائے ظاہر و باطن سب یہاں عاجز ہیں ۔ چنانچہ حضرت خواجہ صالح بن مبارک بخار ی خلیفہ مجاز حضرت خواجہ خواجگان سید بہاؤالدین نقشبندی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ’’ انیس الطالبین ‘‘ ص ۹میں لکھتے ہیں :
اجماع اہل تصوف است کہ صدیقیت نزدیک ترین مقامے و مرتبہ ایست بہ نبوت وسخن سلطان العار فین ابو یزید بسطامی است قُدِّسَ سِرُّہٗ کہ آخرنہایت صدیقان اول احوالِ انبیاء است واز کلمات قدسیہ و ایشانست کہ نہایت مقام عامۂ مومناں بدایت مقامِ اولیا ست ونہایت مقام اولیاء بدایت مقام شہیدان است و نہایت مقام شہیداں بدایت مقام صدیقان است و نہایت مقام صدیقاں بدایت مقام انبیاء است و نہایت مقام انبیاء بدایت مقام رسل است و نہایت مقام رسل بدایت مقام اولوالعزم است و نہایت مقام اولوالعزم بدایت مقام مصطفیٰ است صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم و مقام مصطفیٰ را نہایت پیدا نیست جز حق جَلَّ وَ عَلَاکسے نہایت مقام وے را نداند و در روزِازل مقام ارواح و بروزِ میثاق ہم بریں مراتب بود کہ ذکر کردہ شد ودر روز ِقیامت ہم بریں مراتب باشد۔ (۱ )
صوفیۂ کرام کا اس امر پر اتفا ق ہے کہ نبوت کے سب سے نزدیک مقام و مرتبہ ’’ صدیقیت ‘‘ ہے۔ اور سلطان العارفین ابو یزید بسطامی قُدِّسَ سِرُّہٗ کا قول ہے کہ صدیقوں کے مقام کی نہایت نبیوں کے مقام کی ابتداء ہے۔ اور انکے کلمات قدسیہ میں سے ہے کہ عامۂ مومنین کے مقام کی غایت (۲ ) اولیاء کے مقام کی ابتداء ہے اور اولیاء کے مقام کی غایت شہیدوں کے مقام کی ابتداء اورشہیدوں کے مقام کی غایت صدیقوں کے مقام کی ابتداء ہے اور صدیقوں کے مقام کی غایت نبیوں کے مقام کی ابتداء ہے ، اور نبیوں کے مقام کی غایت رسولوں کے مقام کی ابتداء ہے، اور رسول کے مقام کی غایت اولو العزم کے مقام کی ابتداء ہے، اور اولوالعزم کے مقام کی غایت حضرت مصطفیٰ کے مقام کی ابتداء ہے۔ صَلَّی اللّٰہُ

تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور حضرت مصطفیٰ کے مقام کی کوئی انتہاء نہیں اور حق جَلَّ وَعَلَا کے سوا اور کوئی آپ کے مقام کی انتہا نہیں جانتا روزازل میں میثاق کے دن روحوں کا مقام ان ہی مراتب پر تھا جو مذکور ہوئے اور قیامت کے دن بھی ان ہی مراتب پر ہوگا۔
شیخ ابو الحسن خرقانی قُدِّسَ سِرُّہٗ (متوفی روز عاشورہ ۴۲۵ھ) یوں فرماتے ہیں :
’’ سہ چیز را غایت ندانستم غایت درجات مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ندانستم و غایت کید نفس ندانستم و غایت معرفت ندانستم۔ ‘‘ (نفحات الانس) (۱ )
مجھے ان تین چیزوں کی غایت وحد معلوم نہ ہوئی: حضرت مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے درجات، مکر نفس، معرفت۔
امام شرف الدین بوصیری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (متوفی ۶۹۴ ھ) اپنے قصیدہ بردہ شریف میں فرماتے ہیں :
دَعْ مَا ادَّعَتْہُ النَّصَارٰی فِیْ نَبِیِّھِمٖ وَاحْکُمْ بِمَا شِئْتَ مَدْحًا فِیْہِ وَاحْتَکِمٖ
فَانْسُبْ اِلٰی ذَاتِہٖ مَاشِئْتَ مِنْ شَرَفٍ وَانْسُبْ اِلٰی قَدْرِہٖ مَا شِئْتَ مِنْ عِظَمٖ
فَاِنَّ فَضْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ لَیْسَ لَہٗ حَدٌّ فَیُعْرِبَ عَنْہُ نَاطِقٌ بِفَمٖ ( ۲)

چھوڑ کر دعویٰ وہ جس کے ہیں نصاریٰ مدعی چاہو جو مانو اسے زیبا ہے اللّٰہ کی قسم!
جو شرف چاہو کرومنسوب اس کی ذات سے کوئی عظمت کیوں نہ ہو ہے منزلت سے اسکی کم
حد نہیں رکھتی فضیلت کچھ رسول اللّٰہ کی لب کشائی کیا کریں اہل عرب اہل عجم
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ’’ مدارج النبوت ‘‘ میں یوں فرماتے ہیں : ؎
ہر رتبہ کہ بود در امکان برو ست ختم ہر نعمتے کہ داشت خدا شد برو تمام (۳ )
شیخ سعدی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ رقم طراز ہیں :

یَا صَاحِبَ الْجَمَالِ وَ یَا سَیِّدَ الْبَشَرْ مِنْ وَّجْھِکَ الْمُنِیْرِ لَقَدْ نُوِّرَ الْقَمَرْ
لاَ یُمْکِنُ الثَّنَآئُ کَمَا کَانَ حَقُّہٗ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
اے صاحب جمال! اے سید البشر! آپ کے روشن چہرہ سے چاند روشن ہے آپ کی ثنا کماحقہ ممکن نہیں قصہ مختصر یہ کہ خدا کے بعد آپ ہی بزرگ ہیں۔
جو معجزات و کمالات و فضائل دیگر انبیاءے کرام صَلَواتُ اللّٰہِ عَلَیْہِم اَجْمَعِیْن میں جدا جدا موجود تھے ان سب کے نظائریا ان سے بھی بڑھ کر حضورانوربِاَبِیْ ہُوَ وَاُمِّیْ کی ذات شریف میں مجتمع تھے۔ ؎
حسن یوسف دم عیسیٰ یدبیضا داری آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
بغرض توضیح صرف چند مثالیں ذیل میں درج کی جاتی ہیں :

انبیاءے سابقین عَلَیْہِمُ السَّلام

{1} حضرت آدم عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامآپ کو اللّٰہ تعالٰی نیتمام چیزوں کے ناموں کا علم دیا آپ کو فرشتوں نے سجدہ کیا۔
سید نا و مولیٰنا محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم
سیدناومولیٰنا محمد مصطفی احمد مجتبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ کو اللّٰہ تعالٰی نے اَسماء کے علاوہ مُسَمَّیات کا بھی علم دیا ( ۱) جیسا کہ حدیث ’’ طبرانی ‘‘ و ’’ مسند فردوس ‘‘ کے حوالہ سے پہلے آچکا ہے۔ آپ پر اللّٰہ اور اللّٰہ کے فرشتے درود بھیجتے رہتے ہیں اور مومنین بھی سلام و درود بھیجتے ہیں ۔ یہ شرف اتم و اکمل ہے کیونکہ سجدہ تو ایک دفعہ ہوکر منقطع ہوگیا اور درود و سلام ہمیشہ کے لئے جاری ہے اور اَعَم بھی کیونکہ سجدہ تو صرف فرشتوں سے ظہور میں آیا اور درود میں اللّٰہ اور فرشتے اور مومنین شامل ہیں ۔ علاوہ ازیں امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ’’ تفسیر کبیر ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ اللّٰہ تعالٰی نے فرشتوں کو اس لئے سجدہ کا حکم دیا تھا کہ نور محمد ی حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلامکی پیشانی میں تھا۔ (۲ )

{2} حضرت ادریس عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام آپ کو اللّٰہ تعالٰی نے آسمان پر اٹھایا۔
آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللّٰہ تعالٰی نے شب معراج میں آسمانوں کے اوپر مقام قاب قوسین تک اٹھایا۔ ( ۱)
{3} حضرت نُوح عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اللّٰہ تعالٰی نے آپ کو اور آپ پر ایمان لانے والوں کو غرق ہونے سے نجات دی۔
آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وجود کی برکت سے آپ کی امت عذاب استیصال (۲ ) سے محفوظ رہی وَ مَا كَانَ ( ۳) اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ- (۴ ) اللّٰہ تعالٰی نے کشتی نوح کو بھی آ پ ہی کے نور کی برکت سے غرق ہونے سے بچایا کیونکہ اس وقت نورِ محمد ی حضرت ( ۵) سام کی پیشانی میں تھا۔ (۶ )
{4} ہُودعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ و َالسَّلام آپکی مدد کیلئے اللّٰہ تعالٰی نے ہوا بھیجی۔
آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ بادصبا (۷ ) سے میری مدد کی گئی اور قوم عاد مغربی ہوا سے ہلاک کی گئی۔ ( ۸)
{5} حضرت صالح عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام آپ کے لئے اللّٰہ تعالٰی نے پتھر میں سے اونٹنی نکالی آپ فصاــحت میں یگانہ رُوزگار تھے۔
اُونٹ نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت کی اور آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کلام کیا۔ فصاحت میں کوئی آپ کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا۔ ( ۹)

{6} حضرت ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اللّٰہ تعالٰی نے آپ کیلئے آگ کوٹھنڈا کردیا۔
آپ ہی کے (۱ ) نو رکی برکت سے حضرت ابراہیم خلیل اللّٰہ پرآگ ٹھنڈی ہو گئی۔ (۲ ) آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ولادت شریف پر فارس کی آگ جو ہزار برس سے نہ بجھی تھی گل ہو گئی۔ شب معراج میں کرۂ نار سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا گزرہوا اور کوئی تکلیف نہ پہنچی۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی امت میں بھی ایسے بزرگ گزرے ہیں کہ آگ میں ڈالے گئے اور سلامت رہے چنانچہ ابو مسلم خولانی (۳ ) وذُوَیب بن کلیب۔ ( ۴)
آپ کو مقام خلت عطا ہوا اسی واسطے آپ کو خلیل اللّٰہ کہتے ہیں ۔
آپ کونہ صرف درجہ خلت عطا ہوا بلکہ اس سے بڑھ کر درجہ محبت عطاہو ا اسی واسطے آپ کو حبیب اللّٰہ کہتے ہیں ۔ (۵ )
آپ نے اپنیقوم کے بت خانے کے بت توڑے۔
آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خانہ کعبہ کے گرد اور اوپر جوتینسو ساٹھ بت نصب تھے محض ایک لکڑی کے اشارے سے یکے بعد دیگرے گرا دئیے۔
آپ نے خانہ کعبہ بنایا۔
آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی خانہ کعبہ بنایا اور حجر اسود کو اس کی جگہ پر رکھ دیا تاکہ آپ کی امت کے لوگ طواف وہاں سے شروع کیا کریں ۔

{7} حضرت اسمٰعیل عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام آپ کو والد بزرگوار ذبح کرنے لگے تو آپ نے صبر کیا۔
اس کی نظیر آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا شق صدر ہے جو وقوع میں آیا حالانکہ ذبح اسمٰعیل وقوع میں نہ آیا بلکہ ان کی جگہدنبہ ذبح کیا گیا۔ (۱ )
{8} حضرت یعقوب عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام آپ کو جب برادرانِ یوسف نے خبردی کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیاہے تو آپ نے بھیڑیے کو بلا کر پوچھا بھیڑیا بولاکہ میں نے یوسف کو نہیں کھایا۔ (خصائص کبریٰ، جزء ثانی، ص۱۸۲)
آپ سے بھی بھیڑیے نے کلام کیا جیساکہ پہلے آچکا ہے۔ (۲ )
آپ فراق یوسف میں مبتلا ہوئے اور صبر کیا یہاں تک کہ غم کے مارے آپ کی آنکھیں سفید ہوگئیں اور قریب تھا کہ ہلاک ہو جاتے۔
آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم اپنے صاحبزادے ابراہیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی دائمی مفارقت میں مبتلاہوئے مگر آپ نے صبر کیا حالانکہ اس وقت اور کوئی صاحبزادہ آپ کا نہ تھا۔
{9} حضرت یوسف عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام آپ کو اللّٰہ تعالٰی نے بڑا حسن وجمال عطا فرمایا۔
آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ایسا حسن عطا ہواکہ کسی کو نہیں ہوا حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلام کو تو نصف حسن ملا تھامگر آ پ کو تمام ملا۔ (۳ )

آپ خوابو ں کی تعبیر بیان کرتے تھے مگر قرآن مجید میں صرف تین خوابوں کی تعبیر آپ سے وارد ہے۔
آپ سے تعبیر رویا کی کثیر مثالیں احادیث میں مذکور ہیں ۔
آپ اپنے والدین اور وطن کے فراق میں مبتلا ہوئے۔
آپ نے اہل اور رشتہ داروں اور دوستوں او ر وطن کو چھوڑکر ہجرت کی۔
{10} حضرت ایوب عَلٰی نَبِیِّنَا و َعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام آپ صابر تھے۔
صبر میں آپ کے احوال حد حصر سے خارج ہیں ۔
{11} حضرت موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام آپ کو یدبیضا عطا ہوا۔
آپ کی پشت مبارک پر مہر نبوت تھی، علاوہ ازیں آپ سراپا نور تھے، اگر آپ نے نقاب بشریت نہ اوڑھا ہوتا توکوئی آپ کے جمال کی تاب نہ لاتا۔
آپ نے عصا مار کر پتھر سے پانی جاری کردیا۔
آپ نے اپنی انگلیوں سے چشموں کی طر ح پانی جاری کردیا۔ (۱ ) یہ اس سے بڑھ کر ہے کیونکہ پتھر سے پانی کا نکلنا متعارف ہے مگر خون وگوشت میں سے متعارف نہیں آپ کو عصا عطا ہوا جو اژدہا بن جاتا تھا۔
ستون حنانہ جو کھجور کا ایک خشک تنا تھا آپ کے فراق میں رویا اور اس سے اس بچہ کی سی آواز نکلی جو ماں کے فراق میں رو رہا ہو۔ (۲ ) آپ نے کوہِ طُور پر اپنے رب سے کلام کیا۔
آپ نے عرش پر مقامِ قاب قوسین میں اپنے رب سے کلام کیا اور دیدارِ الہٰی سے بھی بہرہ ور ہوئے اور حالت تمکین میں رہے۔ ؎
موسیٰ زہوش رفت بیک پرتو صفات
تو عین ذات می نگری در تبسّمے

آپ نے عصا سے بحیرۂ قلزم کو دو پارہ کردیا۔
آپ نے انگشت شہادت سے چاند کو دو ٹکڑے کردیا۔ (۱ ) معجزۂ کلیم تو زمین پر تھا اور یہ آسمان پر وہاں عصا کا سہارا تھا اور یہاں صرف انگلی کا اشارہ۔
{12} حضرت یُوشع عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام آپ کے لئے آفتاب ٹھہرایا گیا۔
آپ کے لئے بھی آفتاب غروب ہونے سے روکا گیا۔ (۲ )
آ پ نے حضرت موسیٰ کے بعد جبارین سے جہاد کیا۔
آپ نے بدر کے دن جبارین سے جہاد کیا اور ان پر فتح پائی آپ وفات شریف تک جہاد کرتے رہے اور جہاد قیامت تک آپ کی امت میں جاری رہے گا۔
{13} حضرت داؤد عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامآپ کے ساتھ پہاڑ تسبیح پڑھتے تھے۔
آ پ کے دست مبارک میں سنگریزوں نے تسبیح پڑھی بلکہ آپ نے دوسروں کے ہاتھ میں بھی کنکروں سے تسبیح پڑھو ادی۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ آپ کے طعام میں سے تسبیح کی آواز آیا کرتی تھی کیونکہ پہاڑ تو خشوع و خضوع سے متصف ہیں مگر طعام سے تسبیح معہود (۳ ) نہیں ۔
پرندے آپ کے مسخر کر دئیے گئے۔
پرندوں کے علاوہ حیوانات (اونٹ، بھیڑیئے، شیر وغیرہ) آپ کے مسخرو مطیع کر دئیے گئے۔
آپ کے ہاتھ میں لوہا موم کی طرح نرم ہوجاتا۔
آپ کے لئے شب معراج میں صخرۂ بیت المقدس خمیر کی مانند ہوگیا تھا پس آپ نے اس سے اپنا براق باندھا۔ (۴ ) (دلائل حافظ ابو نعیم اصفہانی )
آپ نہایت خوش آواز تھے۔
آ پ بھی نہایت خوش آواز تھے چنانچہ ترمذی نے حدیث انس میں نقل کیا ہے:

وکان نبیکم احسنھم وجھا و احسنھم صوتا۔ (۱ )
{14} حضرت سلیمان عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام آپ کو ملک عظیم عطا ہوا۔
آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کو اللّٰہ تعالٰی نے اختیار دیا کہ نبوت کے ساتھ ملک لیں یا عبودیت آپ نے عبودیت کو پسند فرمایا بایں ہمہ اللّٰہ تعالٰی نے خزائن الارض کی کنجیاں آپ کو عطا فرمائیں اور آپ کو اختیار دیا کہ جس کو چاہیں عطا کریں ۔
آپ کے تخت کو جہاں چاہتے ہوا اُڑا لے جاتی صبح سے زوال تک ایک مہینہ کی مسافت اور زوال سے شام تک ایک مہینے کی مسافت طے کرتے تھے۔
آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو شب معراج میں براق عطا ہوا جو ہوابلکہ بجلی سے بھی تیز رفتار تھا۔ (۲ )
جن بقَہْر و غلبہ آپ کے مطیع تھے۔ جن بطوع و رغبت آپ پر ایمان لائے۔
آپ پرندوں کی بولی سمجھتے تھے۔
آپ اونٹ بھیڑیے وغیرہ حیوانات کا کلام سمجھتے تھے آپ سے پتھر نے کلام کیا جسے آپ نے سمجھ لیا۔
{15} حضرت عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامآپ مردوں کو زندہ اور اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو اچھا کر دیتے تھے۔
آپ نے مردوں کو زندہ اور اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو اچھا کیا۔ جب خیبر فتح ہوا تو وہاں کی ایک یہودی عورت نے آپ کو زہر آلود بکری کا گوشت بطور ہدیہ بھیجا آپ نے بکری کا بازو لیا اور اس میں سے کچھ کھایا وہ بازو بولا کہ مجھ میں زہر ڈالا گیا ہے۔ ( ۳) یہ مردے کو زندہ کرنے سے بڑھکر ہے کیونکہ یہ میت کے ایک جزو کا زندہ ہونا ہے حالانکہ اس کا بقیہ جواس سے الگ تھا مردہ ہی تھا۔
آپ نے مٹی سے پرندہ بنا دیا۔
غزوۂ بدر میں حضرت عکاشہ بن محصن کی تلوار ٹوٹ گئی آپ نے ان کو ایک خشک لکڑی دے دی جب انہوں نے اپنے ہاتھ میں لے کر ہلائی تو وہ سفید مضبوط لمبی تلوار بن گئی۔ ( ۱)
آپ نے گہوارہ میں لوگوں سے کلام کیا۔
آپ نے ولاد ت شریف کے بعد کلام کیا۔
آپ بڑے زاہدتھے۔
آپ کا زہد سب سے زیادہ تھا۔

________________________________
1 – انیس الطالبین (مترجم)، قسم اوّل، ولی اور ولایت کی تعریف، ص ۳۴۔علمیہ
2 – انتہاء۔

________________________________
1 – پ ۲۷، سورۃالنجم:۹۔علمیہ
2 – ایسا عذاب جو انہیں بالکل نیست و نابود کر دے۔
3 – یعنی اللّٰہ تعالیٰ ان کو عذاب نہیں دینے کا جس حال میں کہ آپ ان میں موجود ہیں ۔۱۲منہ
4 – ترجمۂکنزالایمان:اور اللّٰہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرما ہو۔ (پ۹،الانفال:۳۳)۔علمیہ
5 – دیکھو زرقانی علی المواہب، جزء ثالث، ص ۵۴۔۱۲منہ
6 – شرح الزرقانی علی المواھب،المقصدالاول۔۔۔الخ، غزوہ تبوک۔۔۔الخ،ج۴،ص۱۰۴۔علمیہ
7 – خصائص کبریٰ بحوالہ صحیحین، جزء اول، ص ۲۳۰۔
8 – شرح الزرقانی علی المواھب،المقصدالاول۔۔۔الخ،غزوہ خندق۔۔۔الخ،ج۳،ص۵۵۔علمیہ
9 – الخصائص الکبریٰ،ذکر معجزاتہ فی ضروب الحیوانات،باب قصۃ الجمل،ج۲،ص۹۵۔علمیہ

________________________________
1 – جب غزوۂ تبوک کے بعد رمضان ۹ھ میں حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو حضرت عباس نے آپ کی اجازت سے آپ کی مدح میں چند شعر کہے۔ ان میں سے ایک شعر یہ ہے:
وردت نار الخلیل مکتتما فی صلبہ انت کیف یحترق
آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت خلیل اللّٰہعَلَیْہِ السَّلَام کی آگ میں پوشیدہ داخل ہوئے آپ ان کی پشت میں تھے وہ کیسے جل سکتے تھے۔
طبرانی وغیرہ نے اس قصہ کو روایت کیاہے۔ دیکھو مواہب وزرقانی، غزوۂ تبوک۔۱۲منہ
2 – شرح الزرقانی علی المواھب،المقصدالاول۔۔۔الخ، غزوہ تبوک۔۔۔الخ،ج۴، ص۱۰۵۔علمیہ
3 – خصائص کبریٰ، جزء ثانی، ص۷۹۔
4 – الخصائص الکبریٰ،ذکر معجزاتہ الخ،باب:الایۃ فی عدم احراق النار الخ،ج۲،ص۱۳۳۔علمیہ
5 – زرقانی علی المواہب، جزء خامس، ص۱۹۳۔ (التفسیر الکبیرسورۃ البقرۃ،تحت الایۃ:۲۵۳، الحجۃ السابعۃ عشر، ج۲، الجزء۶، ص۵۲۴۔علمیہ)

________________________________
1 – شرح الزرقانی علی المواھب،المقصدالخامس۔۔۔الخ، فی تخصیصہ بخصائص المعراج،ج۸، ص۲۸-۲۹۔علمیہ
2 – الخصائص الکبریٰ،ذکر معجزاتہ فی ضروب الحیوانات،باب:قصۃ الذئب ،ج۲، ص۱۰۴۔علمیہ
3 – الخصائص الکبریٰ، باب اختصاصہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم بأنہ اوّل النبیّین۔۔۔إلخ،ج ۲، ص ۳۱۵۔علمیہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *