انگوروں کی غیبی ٹوکری:

انگوروں کی غیبی ٹوکری:

Advertisement

حضرت سیِّدُنا لیث بن سعدعلیہ رحمۃ اللہ الاحد فرماتے ہیں:” ایک مرتبہ میں جب حج کے ارادے سے مکۂ مکرمہ

زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّتَعًظِیْمًا حاضر ہوا۔ میں نے نمازِ عصر اداکی پھر جبلِاَبِیْ قُبَیْس کی طرف چل پڑا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ ایک شخص بیٹھا یہ دُعا کر رہا تھا : ”یا رب عَزَّوَجَلَّ !یارب عَزَّوَجَلَّ !” یہا ں تک کہ اس کی سانس پھول گئی ۔پھر کہنے لگا:”یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! یااللہ عَزَّوَجَلَّ!” یہاں تک کہ اس کی سانس پھول گئی۔پھر کہا: ”یا حیی، یا قیوم!”یہاں تک کہ اس کی سانس پھول گئی ۔پھر کہنے لگا :”یا رحمن عَزَّوَجَلَّ! یا رحمن عَزَّوَجَلَّ! ” یہاں تک کہ اس کی سانس پھول گئی۔پھر ”یَا اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْن”کا ورد کرتا رہاحتی کہ اس کی سانس پھول گئی۔” جب وہ دعاسے فارغ ہوا تو عرض کرنے لگا:”یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! انگور کھانے کی خواہش ہے مجھے انگور کھلادے اور میری چادر پھٹ گئی ہے مجھے نئی چادر عطاکر دے ۔”حضرت سیِّدُنا لیث بن سعد علیہ رحمۃ اللہ الاحد فرماتے ہیں:”اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !اس کی بات ابھی پوری نہ ہوئی تھی کہ میں نے ایک ٹوکری دیکھی جو انگوروں سے بھری ہوئی تھی حالانکہ ان دنوں انگوروں کاموسم نہ تھا۔ ساتھ ہی دو چادریں بھی تھیں۔جب اس نے کھانے کا ارادہ کیا تو میں نے کہا:”میں بھی آپ کا شریک ہوں۔”اس نے پوچھا،”وہ کیسے؟” میں نے عرض کی،”جب آپ نے دعاکی تھی تو میں نے آمین کہا تھا۔” اس نے کہا : ”توآؤ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نام لے کر کھاؤاور کوئی چیز بچاکر نہ رکھنا۔” میں نے آگے بڑھ کرانگور کھانا شروع کردیا۔ وہ انگور بیج کے بغیر تھا۔میں نے ایسا عمدہ انگور پہلے کبھی نہ کھایا تھا۔ پس میں نے خوب سیر ہوکر کھایا۔ مگر ٹوکری میں سے کچھ بھی کم نہ ہوا۔پھراس نے کہا:”ان چادروں میں سے جو پسند ہو لے لو۔” میں نے کہا: ”مجھے چادر کی ضرورت نہیں۔” پھر وہ کہنے لگا: ”تم تھوڑی دیر چھپ جاؤ تاکہ میں چادریں پہن لوں۔”میں اَوٹ میں ہو گیا۔ اس نے ایک چادر کو تہبند کے طور پراستعمال کیا اور دوسری اوپر اوڑھ لی پھر دوسری دو چادریں اپنے ہاتھ میں لیں جو پہلے سے اس کے پاس موجود تھیں اور چل دیا۔میں بھی اس کے پیچھے چل پڑا یہاں تک کہ جب وہ صفا ومروہ کے مقام پر پہنچا تو اسے ایک آدمی ملا اور کہنے لگا:”اے اللہ کے پیارے رسول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے چچا زاد! مجھے لباس پہنائیے، اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو پہنائے۔” اس نے دونوں چادریں مانگنے والے کے حوالے کر دیں۔ میں نے اس آد می سے پوچھا: ”اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے، یہ کون تھے؟” اس نے
جواب دیا:”یہ حضرت سیِّدُنا جعفر بن محمدعلیہ رحمۃ اللہ الصمد تھے۔” حضرت سیِّدُنا لیث رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”اس کے بعدمیں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بہت تلاش کیا مگرکہیں نہ پایا۔ مجھے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی جدا ئی پر بہت صدمہ ہوا۔”

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!