اطاعت کو اپنا شعار بنائیں

اطاعت کو اپنا شعار بنائیں

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا، ”اگر تم پر کوئی نک کٹا حبشی غلام بھی حاکم (نگران)بنا دیا جائے جو تم کو اللہ عزوجل کی کتاب کے مطابق چلائے تو اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔”

(صحیح مسلم رقم الحدیث ۱۸۳۸ ص ۱۰۲۳، دارابن حزم بیروت)

لہذا!جب تک مدنی مرکز آپکو شریعت کے مطابق کوئی بھی مدنی کام کرنے کو کہے ،بلا چون چرااس کو بجا لائیے ۔کسی بھی تحریک یا ادارے کے ذمہ دار کی اہم ترین خصوصیت ”اطاعت ”کو سمجھا جاتا ہے ۔ جس میں اطاعت کا عنصر نہیں ہو گا تو ہو سکتا ہے کہ ترک ِ اطاعت کی عادت کی وجہ سے ایسی ہدایت کی بھی خلاف ورزی کر بیٹھے جسے پورا

کرنا شرعاً بھی واجب ہو۔ایسے ذمہ دار کی اہمیت آہستہ آہستہ تنظیم کے نزدیک بھی ختم ہوتی چلی جاتی ہے۔اگر ہر کوئی اپنی اپنی سمجھ کے مطابق کام کرنے لگے گا تو اس کا نقصان اجتماعی طور پر تحریک کو برداشت کرنا پڑے گا ، لہذا!کسی بھی تنظیم کی ترقی اور بقاء کے لئے اطاعت ناگزیر ہے ۔ ہمارے شیخ طریقت، امیرِ اہل سنت مدظلہ العالی’ عالی مرتبت ہونے کے باوجود اطاعت کی کیسی تنظیمی سوچ رکھتے ہیں اس کا اندازہ اس حکایت سے لگائيے ۔

حکایت

ایک مرتبہ نگرانِ شوریٰ کسی نگراں اسلامی بھائی کے ہاں اس کا مسئلہ حل کر نے تشریف لے گئے،وہاں بھی عدمِ اطاعت کا ہی مسئلہ درپیش تھا۔ اسی نگران نے انہیں بتایا کہ ”ایک مرتبہ میں نے امیرِ اہل سنت مدظلہ العالی سے اپنے علاقے میں بیان کی تاریخ مانگی توآپ نے ارشاد فرمایا،” چند ہفتوں کے بعد لے لینا۔”چند ہفتوں کے بعد جب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا،” بیٹا! میں تاریخ تو آپ کو ابھی دے دوں مگر جن دنوں میں ‘میں نے آپ کو تاریخ دینے کا کہا تھا اس وقت باب المدینہ(کراچی) کا کوئی نگران نہیں تھالیکن اب حاجی مشتاق (علیہ الرحمۃ) باب المدینہ کے نگران ہیں، اگر آپ اُن سے اجازت لے لیں تو میں ضرور حاضر ہو جاؤں گا۔ ” سبحان اللہ عزوجل ! امیرِ اہل سنت دامت برکاتھم العالیہ کی عاجزی پر قربان جائیے ۔اس حکایت میں ان ذمہ داران کے لئے سبق ہے جو اپنے نگران کی اجازت کے بغیر مختلف علاقوں یا شہروں میں اپنے بیان کی تاریخیں دے کر دعوتِ اسلامی کے اصولوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔اے کاش! ہمیں امیرِ اہل سنت کے اس طرزِ عمل کو بھی

اپنانے کی سعادت نصیب ہو جائے ۔ہمیں چاہے کہ امیرِ اہل سنت سے محبت ،پیار اور الفت کا ثبوت دینے کے لئے ان کی مدنی تحریک ” دعوتِ اسلامی”کو نقصان سے بچانے کی کوشش کر تے ہو ئے اطاعت کو اپنا شعار بنائیں۔

(۶) اپنے مدنی مقصد کو نہ بھولیں

آپ کتنی ہی بڑی ذمہ داری پر فائز کیوں نہ ہوں اپنے مدنی مقصد کو ہر گز نہ بھولیں کہ ”مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کو شش کر نی ہے، ان شاء اللہ عزوجل ۔” یاد رکھئے ! اپنی اصلاح کے لئے مدنی انعامات پر عمل اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کے لئے راہِ خدا عزوجل میں سفر کرنے والے ”دعوتِ اسلامی”کے مدنی قافلوں کا مسافر بننا بے حد ضروری ہے ۔بانی دعوتِ اسلامی، امیرِ اہلِ سنت مدظلہ العالی فرماتے ہیں ،۔۔۔۔۔۔
مد ینہ(۱):مجھے ایسے ذمہ داران چاہیں جومدنی قافلوں میں سفر کرنے والے ہوں۔
مد ینہ(۲):دنیاوی یا تنظیمی کام میں چاہے جتنی بھی مصروفیت ہو جب تک کوئی مانعِ

شرعی نہ ہو ہر ماہ ۳ دن کے مدنی قافلے میں ضرور سفر کیجئے۔
مد ینہ(۳):دعوتِ اسلامی کی تمام مجالس بشمول مرکزی مجلس ِ شوریٰ کا ہر نگران ورکن اور ہر ذمہ دار ہرماہ تین دن کے مدنی قافلے میں جدول کے مطابق سفر کرے ۔

(نصاب مدنی قافلہ ،حصہ اول ، ص۱۳،۱۴،مطبوعہ مکتبۃ المدینۃ)

لہذا!ذمہ داران اسلامی بھائیوں کو چاہے کہ وہ مدنی انعامات پر عمل اور مدنی قافلوں میں سفر میں کو تاہی کر کے اسلامی بھائیوں کی تنقید یاحوصلہ شکنی کا سبب نہ بنیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *