اسمائے حُسنٰی کاوسیلہ کام آگیا:

اسمائے حُسنٰی کاوسیلہ کام آگیا:

حضرتِ سیِّدُنا اَنَس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ”نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے زمانۂ اقدس میں ایک شخص شام کے شہروں سے مدینہ اور مدینہ سے شام تجارت کے لئے جایا کرتا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ پر توکُّل کرتے ہوئے قافلے کے بغیر ہی سفر کرتا۔ ایک مرتبہ وہ شام سے مدینہ آرہا تھا کہ ایک گھوڑے سوار چور کی زد میں آگیا۔ چور نے اسے رکنے کوکہا تووہ رُک گیااور کہنے لگا:”تمہیں مال چاہے تو مال لے لواور میرا راستہ چھوڑ دو۔” چور نے کہا: ”مال تو اب میرا ہی ہے،مگر مجھے تمہاری بھی ضرورت ہے، لہٰذامیرے ساتھ چلو۔” تاجر نے کہا :”میراکیا کرو گے، مال لے لو اور میراراستہ چھوڑ دو۔”چور نے دوبارہ وہی الفاظ کہے۔توتاجر نے کہا:”پھر تھوڑی دیر میرا انتظار کرو،میں وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرلوں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دُعا کر لوں۔”چور نے کہا:”ٹھیک ہے، جو بہترسمجھو کر لو۔” چنانچہ، تاجر اُٹھا اور وضو کرکے چار رکعت نماز اداکرلیں، پھر اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کر دیا اورتین مرتبہ یہ دعا مانگی: ”یَا وَدُوْدُ! یَا وَدُوْدُ! یَاوَدُوْدُ! یَا ذَا الْعَرْشِ الْمَجِیْدِ! یَا مُبْدِئُ! یَا مُعِیْدُ!یَا فَعَّالًا لِّمَا یُرِیْدُ! اَسْأَلُکَ بِنُوْرِ وَجْھِکَ الَّذِیْ مَلَأَ اَرْکَانَ عَرْشِکَ وَ بِقُدْرَتِکَ الَّتِیْ قَدَّرْتَ بِھَا عَلٰی خَلْقِکَ وَبِرَحْمَتِکَ الَّتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ اَنْتَ الَّذِیْ وَسِعْتَ کُلَّ شَیْءٍ رَحْمَۃً وَّعِلْمًا لَآ اِلٰہَ اِلَّا ۤ اَنْتَ یَا مُغِیْثُ اَغِثنِیْ یعنی اے اپنے بندوں سے بہت زیادہ محبت کرنے والے! اے اپنے بندوں سے بہت زیادہ محبت کرنے والے! اے اپنے بندوں سے بہت زیادہ محبت کرنے والے! اے عرشِ عظیم کے مالک عَزَّوَجَلَّ! اے پیدا کرنے والے! اے لوٹانے والے ! اے ہمیشہ جو چاہے، کر لینے والے! میں تجھ سے تیرے نور کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں جس نے تیرے عرش کو گھیررکھا ہے اور تیری اس قدرت کے واسطے سوال کرتا ہوں جس کے ساتھ تو اپنی مخلوق پر قادر ہے اور تیری اس رحمت کے وسیلے سے سوال کرتاہوں جوہر شئے کو گھیرے ہوئے ہے، تو نے رحمت اور علم کے اعتبار سے ہر شئے کا احاطہ کیا، تیرے سوا کوئی معبود نہیں ،اے مدد کرنے والے! میری مدد فرما۔”
جب وہ دعا سے فارغ ہوا تو سیاہ گھوڑے پر سوار ایک شخص دیکھا۔جس نے سبز رنگ کے کپڑے زیبِ تن کر رکھے تھے، اس کے ہاتھ میں چمکتا ہوا نیزہ تھا۔چور نے گھوڑے سوار کو دیکھا تو تاجر کو چھوڑ کر اس کی جانب بڑھا۔ جب اس کے قریب ہوا تو اس نے تیزی سے اپنا نیزہ مار کر چورکوگھوڑے سے گرادیااور پھر تاجر کے پاس آیااور کہنے لگا:”اُٹھو، اور جا کر اُسے قتل کر دو۔” تاجر نے پوچھا: ”آپ کون ہیں؟میں نے کبھی کسی کو قتل نہیں کیااور نہ ہی اسے قتل کرنا پسند کرتاہوں۔” پھر گھوڑے سوار نے خو د ہی چور کا کام تمام کر دیااور تاجر کے پاس آ کر کہا:”میں تیسرے آسمان کا فرشتہ ہوں۔جب آپ نے پہلی مرتبہ دعا کی تھی تو ہم نے آسمان کے دروازوں کی کھٹکھٹاہٹ سنی۔ہم نے کہا: آج کوئی نئی بات ہوئی ہے۔ پھر دوسری مرتبہ دعا کی تو آسمان کے دروازے

کھول دیئے گئے اوران سے آگ کی چنگاریوں جیسی چنگاریاں ظاہر ہوئیں۔
پھر جب تیسری مرتبہ دعاکی تو حضرتِ سیِّدُناجبرائیل علیہ السلام ہمارے پاس تشریف لائے اور پوچھا: ”اس غم زدہ کی مدد کون کریگا۔” میں نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے دعاکی کہ مجھے اس چور کے قتل کی توفیق عطاکی جائے، لہٰذا اے شخص! جان لے کہ جو شخص کسی بھی رنج و غم اور مصیبت و تکلیف میں یہ دُعا کریگااللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی مدد کرتے ہوئے اس سے مصائب و آفات دور فرمادے گا۔”
حضرتِ سیِّدُنااَنَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اس تاجر نے بخیر وعافیت مدینہ شریف پہنچ کر حضور سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمتِ اَقدس میں حاضری دی اور یہ واقعہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے گوش گزار کیا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تجھے اپنے اسمائے حُسنٰی تلقین فرمائے ہیں کہ جب ان کے وسیلے سے دعا کی جائے توقبول ہوتی ہے اور جب کچھ مانگا جائے تو عطا کیا جاتاہے ۔”

(الموسوعۃ لابن ابی الدنیا،کتاب مجابی الدعوۃ،الحدیث۲۳،ج۲،ص۳۲۱،بتغیرٍواختصارٍ)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *