آبِ زمزم ستّو، دودھ اور شہد بن گیا:

آبِ زمزم ستّو، دودھ اور شہد بن گیا:

Advertisement

حضرت سیِّدُناسعید بن اسحاق بصری علیہ حمۃ اللہ الغنی فرماتے ہیں:”میں سحری کے وقت آب ِ زمزم شریف کے کنوئیں کے پاس تھاکہ اچانک ایک بزرگ تشریف لائے، ڈول بھرا اور پانی پی کر چل دئیے۔ میں نے ان کا جوٹھا پانی پیا تو وہ میٹھے سَتُّو کی طرح تھا۔ ایسا شربت میں نے پہلے کبھی نہ پیا تھا۔جب میں ان کی طرف متوجہ ہوا تو وہ جا چکے تھے۔ میں دوسرے دن دوبارہ زمزم کے کنوئیں کے پاس آگیا۔ وہ بزرگ پھر تشریف لائے اور ڈول بھر کر پانی نوش فرمایا۔اب میں نے ان کا بچا ہوا پانی پیا تو وہ خوشبودار میٹھے شہد کی طرح تھا۔ ایسا لذیذ مشروب میں نے پہلے کبھی نہ چکھا تھا۔میں دوبارہ متوجہ ہوا تو وہ بزرگ تشریف لے جا چکے تھے۔ تیسرے روز میں سحری کے وقت زمزم شریف کے کنوئیں پر موجود تھا کہ وہ بزرگ پھر تشریف لائے اورڈول بھر کرپانی پیا۔ میں نے ان کا جوٹھا پانی پیا تو میٹھے دودھ کی طرح تھا۔ ایسا لذیذ دودھ میں نے کبھی نہ پیا تھا۔میں نے عرض کی،” اس گھر کی حرمت کی قسم!یہ بتائیے! آپ کون ہیں؟” تو انہوں نے فرمایا: ”کیا میری موت تک اسے ظاہر تو نہ کرو گے؟” میں نے عرض کی، ”جی ہاں۔”تو انہوں نے بتایا:”میں سفیان ثوری ہوں۔”

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!