یقین کامل

یقین کامل

حضرت سیدنا ابو عبداللہ احمد بن عاصم انطا کی علیہ رحمۃ اللہ الکافی فرماتے ہیں، ایک شخص نے حضرت سیدناامام محمد بن سیرین علیہ رحمۃ اللہ المُبین کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کی : ”میں نے لوگوں سے پوچھا کہ بصرہ میں سب سے زیادہ متقی و پرہیز گا ر شخص کون ہے؟تو انہوں نے آپ کی طرف میری رہنمائی کی کہ آپ پورے بصرہ میں سب سے زیادہ متقی وپرہیز گار ہیں۔” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” تم میرے ساتھ چلو میں تمہیں بصرہ کے سب سے بہتراور بڑے عبادت گزار سے ملواتا ہوں۔” یہ کہہ کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے روٹی کا ایک ٹکڑا اپنی جیب میں ڈالااور اس شخص کو لے کر ایک جانب چل دیئے۔
پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بصرہ شہر کے ایک گاؤں میں گئے وہاں ایک شخص کے پاس پہنچے ،جس کے دو ننھے بچے تھے ،وہ بھوک کی وجہ سے رو رہے تھے اور اپنے والد سے کہہ رہے تھے کہ ہمیں کوئی چیز کھانے کو دو لیکن اس شخص کے پاس اس وقت کوئی بھی شے نہیں تھی۔
اس شخص نے بچو ں کو سمجھا تے ہوئے کہا:” میرے بچو!میں تمہارا خالق نہیں ہوں، تمہارا خالق تو اللہ عزوجل ہے، اس نے ہی تمہیں پیدا کیا،تمہیں قوتِ گویائی اور قوتِ بصارت عطا فرمائی، وہی تمام جہانوں کو رزق دینے والاہے، جس کریم ذات نے تمہیں پیدا کیا ہے وہ تمہیں رزق بھی ضرور دے گا۔ اس کی ذات پر کامل یقین رکھو، وہ عنقریب تمہیں تمہارے حصہ کا رزق عطا فرمائے گا ۔”
علامہ ابن سیرین علیہ رحمۃ اللہ المُبین نے اپنے رفیق سے فرمایا:” اس عظیم مرد کا تو کُّل دیکھو اور اس کی ایمان افر وز باتیں سنو، اس کو اپنے پر وردگار عزوجل پر کتنا یقین ہے۔” پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے دوست کے ساتھ اس شخص کے پاس پہنچے اور فر مایا: ”ہم یہ روٹی لے کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس آئے ہیں ،آپ اسے قبول فرمالیں ۔” یہ سن کر اس شخص نے کہا:” آپ صحیح وقت پر پہنچے ہیں۔”
اسی دوران حضرت سیدنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفّا ر بھی تشریف لے آئے ،آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے آتے ہی اس شخص سے فرمایا: ” میں یہ دو درہم آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کے پاس لے کر آیا ہوں، انہیں قبول فرمالیجئے ۔” وہ شخص کہنے لگا: ”ان درہموں کی اب کوئی ضرورت نہیں، الحمد للہ عزوجل! ہمارے پاس آج کا رزق پہنچ چکا ہے ،وہ ہمیں آج کے لئے کافی ہے ۔” حضرت سیدنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفار نے ارشاد فرمایا:” آپ یہ دو درہم اپنے پاس رکھیں تا کہ کل آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) ان سے کھانے کی کوئی چیزخرید سکیں ۔”

یہ سن کر وہ شخص کہنے لگا: ”کیا تم مجھے اس بات سے خوفزدہ کر رہے ہو کہ کل ہمیں رزق کہا ں سے ملے گا؟ حالانکہ تم دیکھ چکے ہو کہ اللہ عزوجل نے میرے آج کا رزق آج عطا فرمادیا ہے اور اسی طر ح وہ پاک پر وردگار عزوجل ہمیں روز انہ ہمارا رزق عطا فرماتا ہے، میرا اس کی ذات پر پختہ یقین ہے۔آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) اپنے درہم واپس لے جائیں، کل ہمارا پر وردگار عزوجلہ میں ہمارے حصے کا رزق ضرور عطا فرمائے گا، وہ ہمارا خالق عزوجل ہے وہ ہمیں ہرگز بے یارو مدد گار نہ چھوڑے گا ۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!