توبہ میں جلدی اور وقت کی قدرو قیمت

توبہ میں جلدی اور وقت کی قدرو قیمت

نورِ نظر! 
اپنے نفس کے تئیں ہمیشہ چاق چوبند رہنا، کبھی اس سے مطمئن نہ ہونا۔ جو کچھ
گناہ پہلے ہو چکے ان پر اشک ندامت بہاتے رہنا، اہل کمال سے اکتساب فیض  اور ان کی صحبتوں میں اُٹھنے بیٹھنے کا موقع میسرآئے
تو اسے غنیمت جاننا،جب تک دم میں دم ہے اَپنی شاخِ عمل کوسرسبزوشاداب رکھنے کی
کوشش کرتے رہنا۔
 تمہاری زندگی
کے جو لمحے بیکار بیت گئے ان کا سوچواُن میں خود تمہارے لیے درسِ عبرت موجود ہے۔تو
نے لذتوں کے دام میں آ کر عمر عزیز کی کتنی گھڑیاں گنوا دیں اور فضل و کمال کے
کتنے زینے طے کرنے سے محروم رہ گئے،حالاں کہ سلف صالحین -رحمہم اللہ- ہر قسم کے
فضائل و کمالات کی تحصیل میں خود کو ہمہ تن مشغول رکھتے تھے، اگر ان میں سے کوئی ایک
فضیلت بھی جاتی رہتی تواس کے غم میں ان کی پلکوں سے اشکوں کے آبشار جاری ہو جاتے
تھے۔
حضرت ابراہیم بن ادہم رحمہ اللہ(م۱۶۲ھ)
فرماتے ہیں کہ ہم کسی بیمار عبادت گزار کی عیادت کے لیے گئے، کیا دیکھتے ہیں کہ وہ
اپنے دونوں قدموں پر نگاہیں جمائے ہوئے آہ و فغاں کر رہا ہے، ہم نے پوچھا: یہ بتائیں
کہ اتنی گریہ و زاری کیوں کر رہے ہیں ؟ فرمایا: ان قدموں کو اللہ کی راہ میں جادہ
پیمائی نصیب نہ ہوئی، پھر دوبارہ رونے لگے تو پوچھا گیا: اب کیوں رو رہے ہیں ؟فرمایا:
دراصل ایک دن میں روزہ نہ رکھ سکا تھا اور ایک مرتبہ رات کے قیام کی توفیق نہ ملی
تھی۔
کاشانۂ  دل کے
مکیں !  تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دنوں کی
حقیقتیں گھنٹوں میں چھپی ہوئی ہیں اور لمحے کے تار سانسوں سے بندھے ہوئے ہیں۔یاد
رہے کہ ہر سانس ایک خزانہ ہے۔دیکھنا کہیں ایسانہ ہو کہ تمہاری حیاتِ مستعار کی کوئی
سانس بے کار چلی جائے اور وہ ناآشنائے لذتِ عمل رہ جائے، کیوں کہ اِس  خزانے کو عرصۂ  محشر میں پھر کھلنا ہے، لہٰذا آگاہ رہنا کہ اسے
خالی دیکھ کر کہیں تمہیں کف ندامت ملنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔
کسی شخص نے عامر بن عبدقیس سے عرض کیا کہ ذرا رُکیے
مجھے آپ سے کچھ باتیں کرنی ہیں۔فرمایا: پہلے سورج کو روکو۔
کچھ لوگ حضرت معروف کرخی رحمہ اللہ (م۲۰۰ھ)کی
بارگاہ میں بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے فرمایا: آپ لوگوں کو اُٹھنے کی طبیعت نہیں چاہتی؟ذرا
سوچیں کہ آفتاب کا مالک اسے مستقل کھینچے جا رہا ہے، اور اسے ایک ذرا تکان نہیں آتی۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

حدیث شریف میں آتا ہے کہ’سُبحَانَ اللہِ وَ
بِحَمْدِہٖ‘ پڑھنے والے کے لیے جنت میں ایک باغ لگا دیا جاتا ہے۔اب ذرا فکر کو آنچ
دے کرسوچوکہ اپنے قیمتی وقتوں کا ضیاع کرنے والا کتنے بہشتی باغات کھو بیٹھتا ہے۔
سلف صالحین کا معمول یہ تھا کہ وہ ہر ہر لمحہ کو غنیمت
جانتے تھے۔ اندازہ لگاؤ کہ حضرت کہمس بن حسن تمیمی علیہ الرحمہ (م
۱۴۹ھ)
شب و روز میں تین قرآن ختم فرمایا کرتے تھے۔ اور ہمارے اسلاف میں چالیس نفوسِ قدسیہ
ایسی گزری ہیں جو عشا کے وضو سے نمازِ فجر ادا کیا کرتی تھیں۔ اور حضرت رابعہ بصریہ
علیہا الرحمہ (م
۱۸۰ھ)کا حال یہ تھا کہ وہ پوری
رات یادِ مولا میں اپنے پہلو کو بستر سے جدا رکھتیں،  پھر جب سپیدۂ  سحرپھوٹنے کا وقت آتا ذرا دیر کے لیے لیٹتیں، پھر
گھبرائی ہوئی اُٹھتیں اور اپنے نفس سے کہتیں : اتنا نہ سویا کر قبر کے اندر بہت
لمبی نیندسوناہے۔

(اپنے لختِ جگر کے لیے
مصنف ابن جوزی

مترجم علامہ محمدافروز القادری چریاکوٹی 
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!