واقعات

قرآن وسنت سے خلیفہ وقت کونصیحتیں

قرآن وسنت سے خلیفہ وقت کونصیحتیں

حضرت سیدنا عبد الرحمن بن عمراوزاعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:” ایک روز میں ساحل پر تھا کہ خلیفہ ابو جعفر منصور نے مجھے بلایا ، میں اس کے پاس گیا اور سلام کیا اس نے جواب دیا، مجھے اپنے ساتھ بٹھایا پھر کہنے لگا: اے اوزاعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ! آپ نے میرے پاس آنے میں بہت دیر لگائی اس کی کیا وجہ ہے؟حالانکہ میں تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے علم وعمل کی باتیں سیکھنا چاہتاہوں۔” میں نے کہا :اے ابو جعفر منصور! سوچ سمجھ کر بات کرو اور جو میں کہوں اس سے غفلت میں نہ رہو، ابو جعفر نے کہا: ”میں تو خود آپ سے کچھ سیکھنے کا متمنی ہوں پھر بَھلامیں کیونکر آپ کی باتوں کی طرف تو جہ نہ دوں گا؟ ”میں نے اسی لئے تو آپ کو بلوایا ہے کہ میں اپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کچھ سیکھوں۔” میں نے کہا:” اے خلفیہ منصور! تم علم کی باتیں تو سنتے ہو لیکن ان پرعمل نہیں

کرتے۔”یہ سن کر ربیع نے میری طر ف تلوار بڑھائی اورغصے کا اظہار کیا ، خلیفہ ابو جعفر منصور نے ربیع کو ڈانتے ہوئے کہا :” اے ربیع ! یہ علم کی مجلس ہے، عقوبت (یعنی سزاوغیرہ ) کی مجلس نہیں ۔
جب میں نے خلیفہ کی یہ بات سنی تو میری ڈھارس بندھی پھر میں نے کہا :اے ابو جعفر منصور! نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا : ” جس کے پاس اللہ عزوجل کی طرف سے کوئی دینی نصیحت آئے تو بے شک وہ اللہ عزوجل کی جانب سے اس کے لئے نعمت ہے ، اگر وہ اس نصیحت کو قبول کرے اور شکر ادا کرے (توبہت اچھی بات ہے) ورنہ وہ نصیحت اللہ عزوجل کی جانب سے اس (بندے) کے خلاف حجت ہوگی، اور اس شخص کے گناہوں میں اضافہ ہوگا اور اللہ عزوجل کی ناراضگی اس پرزیادہ ہوگی۔”

(شعب الایمان للبیھقی، باب فی طاعۃ أولی الأمر، فصل فی نصیحۃ الولاۃ، الحدیث:۷۴۱۰، ج۶،ص۲۹)

اے منصور! حضرت سیدنا عطیہ بن بشر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”جو حاکم اس حال میں رات گزارے کہ اپنی رعایا سے بے خبر ہو تو اللہ عزوجل اس پر جنت حرام فرما دیتا ہے۔”

(شعب الایمان للبیھقی، باب فی طاعۃ أولی الأمر، فصل فی نصیحۃ الولاۃ، الحدیث۷۴۱۱،ج۶،ص۳۰)

اے خلیفہ! لوگوں کے دل اس لئے تیرے بارے میں نرم ہیں کہ تواللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اقرباء میں سے ہے ،اسی قرابت داری کی وجہ سے لوگو ں نے تجھے اپنا حاکم مان لیا،ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم لوگو ں پر بہت رحم وکرم فرماتے، کسی کے لئے اپنے دروازے بند نہ فرماتے اور کسی کو ملاقات سے نہ روکتے ، سب سے مشفقانہ رویّہ رکھتے ۔ جب لوگو ں کو کوئی خوشی پہنچتی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بھی خوش ہوتے او راگر انہیں کوئی تکلیف پہنچی توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر یشان ہوجاتے ، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمہر معاملے میں عدل وانصاف سے کام لیتے ۔
اے خلیفہ منصور! تمہیں بہت سارے لوگوں کی ذمہ داری ملی ہے تم ان پر حاکم ہو ۔ تمہیں تو سب کی فکر ہونی چاہےئ، لیکن معاملہ اس کے بر عکس ہے تم صرف اپنی ہی بھلائی کی فکر میں ہو، تم پر تو لازم ہے کہ لوگوں میں عدل وانصاف قائم کرو، ذرا سوچو تو سہی کہ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب لوگ تمہارے بارے میں ظلم وزیادتی کی شکایت کریں گے ؟۔
اے خلیفہ منصور ! حضرت سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی کو حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ہاتھوں چھڑی سے بلا قصد خراش آگئی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس اعرابی کو بلایا او رفرمایا :” مجھ سے بدلہ لے لو ، اس نے عرض کی :”یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! میرے ماں باپ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر قربان ! میں نے آپ کو معاف کیا، خدا عزوجل کی قسم! اگر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مجھے قتل بھی کر دیں تو میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے بدلہ نہیں لوں گا ۔

” یہ سن کرحُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس کے لئے دعائے خیر فرمائی۔

(المستدرک، کتاب الرقاق، باب دعاالنبی اعرابیا الی القصاص من نفسہ، الحدیث۸۰۱۳،ج۵،ص۴۷۱)

اے خلیفہ منصور ! نفسانی خواہشات کی پیر وی چھوڑدو، اپنے نفس کو راضی کرنے کے بجائے خدا عزوجل کی رِضا کے طلب گار بنو ، اور اس جنت کی طرف رغبت کرو جس کی چوڑائی آسمانوں و زمین سے زیادہ ہے، اور جس جنت کے بارے میں سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا: ”( جنت میں) تم میں سے کسی کا ایک کمان پر قبضہ دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے۔”

(صحیح البخاری، کتاب الجھاد، باب الحور العین وصفتھن، الحدیث۲۷۹۶،ص۲۲۵، لقید:بدلہ:لقاب)

اے منصور ! بادشاہی اگر ہمیشہ رہنے والی شئے ہوتی تو تجھے ہر گز نہ ملتی، جس طر ح یہ تم سے پہلو ں کے پاس نہ رہی اسی طرح تمہارے پاس بھی نہ رہے گی ، تمہارے بعد کسی اور کو، پھر کسی او رکو، اور اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہے گا ۔
اے خلیفہ! کیا تجھے معلوم ہے کہ تمہارے دادا حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس آیت کی کیا تشریح فرمائی:

مَالِ ہٰذَا الْکِتٰبِ لَایُغَادِرُ صَغِیۡرَۃً وَّلَاکَبِیۡرَۃً اِلَّاۤ اَحْصٰىہَا ۚ

ترجمہ کنزالایمان:اس نوشتہ کو کیا ہوانہ اس نے کوئی چھوٹاگناہ چھوڑ ا نہ بڑاجسے گھیر نہ لیاہو۔(پ15، الکہف:49 )
سنو ! انہوں نے فرمایا:” اس آیت میں صغیرہ خطا سے مراد تبسّم اور کبیرہ خطا سے مراد ضحک (یعنی ہنسنا ہے) ہے ، اب ذرا سوچو کہ جو اعمال ہاتھوں اور زبان سے سرزد ہوتے ہیں تو ان کا کیا حال ہوگا ۔”
امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر فارو ق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کافرمان ہے:” اگر دریائے فرات کے کنارے ایک بکری کا بچہ بھی مرجائے تو مجھے اس بات کا خوف ہے کہ کہیں مجھ سے اس کے بارے میں ( بر وزِ قیامت) سوال نہ کرلیا جائے ۔”
اے منصور! تمہارے دور ِخلافت میں توکتنے لوگ ظلم وزیادتی کے شکار ہوئے ہیں تم بروزِ قیامت کیا جواب دو گے ؟
اے خلیفہ !تم بہت بڑی آزمائش میں مبتلا کر دیئے گئے ہو ،یہ ذمہ داری جو تجھے سونپی گئی ہے اگر آسمانوں اور زمین کو سونپی جاتی تو وہ اسے لینے سے ڈرتے اور انکار کر دیتے ،مروی ہے کہ” امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک انصاری کو صدقہ کے مال پر عامل مقرر کیا ، کچھ دنوں بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معلوم ہو ا کہ وہ انصاری شخص عامل بننے کے لئے تیار نہیں ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے بلایا اور فرمایا :”تجھے اپنی ذمہ داری پوری کرنے سے کس بات نے روکا ؟ تمہیں معلوم نہیں کہ تمہاری اس ذمہ داری کاثواب ایسا ہے جیسا کہ اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا ، اس کے باوجود تم یہ ذمہ داری قبول نہیں کر رہے، آخر کیا وجہ ہے ؟ اس انصاری نے عرض کی: اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ! مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ رسولِ اکرم ،نور مجسم، شاہ بنی

آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد رفرمایا:” جو شخص لوگو ں کا حاکم بنا کل بر وزِ قیامت اسے دوزخ کے پل پر کھڑا کیاجائے گا اس کے ہاتھ اس کی گر دن سے بندھے ہونگے اور اس وقت اس جسم کے تمام اعضاء جدا جدا ہوجائیں گے ،پھر دو بارہ اسے صحیح وسالم کھڑا کیاجائے گا ،پھر اس سے حساب لیا جائے گا ، اگر وہ نیک ہو اتو اپنی نیکیوں کی بدولت نجات پائے گا ، اگر گناہ گا ر ہو ا تو اس کی وجہ سے جہنم کی آگ میں گرجائے گا ۔”
اس انصار ی سے یہ حدیث سن کر حضرت سیدنا عمر فارو ق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:”تم نے یہ حدیث کس سے سنی ؟ عرض کی: حضرت سیدنا ابو ذر اور حضرت سیدناسلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے سنی ہے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان دونوں صحابہ کرام علیہم الرضوان کے پاس ایک قاصد بھیج کر تصدیق کروائی تو ان دونوں حضرات نے فرمایا :”واقعی ہم نے یہ حدیث پاک سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے سنی ہے۔”
جب امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر فارو ق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ سنا تو فرمایا :”ہائے عمر! اب کون حاکم بنے گا ، ذمہ داریاں اب کون قبول کریگا؟” یہ سن کرحضرت سیدنا ابوذر ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : ”وہی قبول کریگا جسکا چہرہ اللہ عزوجل زمین سے چپکا دے گا۔ ”

(شعب الایمان للبیھقی، باب فی طاعۃ أولی الأمر، فصل فی نصیحۃ الولاۃ، الحدیث۷۴۱۵/۷۴۱۶،ج۶،ص۳۱تا۳۲)

حضرت سیدنا امام عبدالرحمن بن عمر اوزاعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:” میری یہ باتیں سن کر منصور نے رومال منگوایا اور اپنا چہرہ اس میں چھپا کر زارو قطار رونے لگا، اس کی حالت ایسی تھی کہ اس نے ہمیں بھی رُلادیا ۔
اے خلیفہ منصور!امیرالمؤمنین حضر ت سیدنا عمر فارو ق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:” حاکم وہی شخص بن سکتا ہے جو مضبوط عقل والا ، صاحب رائے ، شرم وحیا کا پیکر او راللہ عزوجل کے معاملے میں کسی ملامت گو کی ملامت سے نہ ڈرتا ہو۔
پھر فرمایا:” حکمران چار طرح کے ہوتے ہیں:
(۱)۔۔۔۔۔۔ وہ حاکم جو خود بھی گناہوں سے بچے اور اپنے عمّال(یعنی گورنروں) کو بھی گناہوں سے بچائے ،ایسا حاکم اس مجاہد کی طر ح ہے جو راہِ خدا عزوجل میں جہاد کرے ۔
(۲) ۔۔۔۔۔۔وہ حاکم جو خود توگناہوں سے دور رہتا ہو لیکن اپنے عمّال کو برائی سے روکنے میں سُستی سے کام لے اور انہیں گناہوں سے نہ روکے، تو ایسا حاکم ہلاکت کے بالکل قریب ہے، ہاں اگر اللہ عزوجل چاہے تو وہ ہلاکت و بربادی سے بچ سکتا ہے۔
(۳) ۔۔۔۔۔۔وہ حاکم جو اپنے عمّال کو تو گناہوں سے باز رکھے لیکن خود مرتکبِ معاصی ہوتو وہ ” حطمہ” حاکم کی طر ح ہے ، جس کے بارے میں نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :” سب سے

زیادہ برا حاکم” حطمہ”ہے ۔( یعنی یہ حاکم دوسرو ں کو تو گناہوں سے بچا تا رہا لیکن خود گناہوں میں منہمک رہا اور ہلاک ہوگیا ۔)

(شعب الایمان للبیھقی، باب فی طاعۃ أولی الأمر، فصل فی نصیحۃ الولاۃ، الحدیث۷۴۱۷/۷۴۱۸/۷۴۱۹، ج۶، ص۳۲ تا ۳۳)
(صحیح مسلم،کتاب الامارۃ، باب فضیلۃ الأمیر العادل وعقوبۃ الجائر۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۱۸۳۰،ص۱۰۰۶)

(۴) ۔۔۔۔۔۔وہ حاکم جو خود بھی گناہ کرے او راس کے عمّال بھی گناہ کریں تو یہ حاکم او رعمّال سب ہلاک ہونے والے ہیں۔
اے ابو جعفر! مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ، ایک بار حضرت سیدنا جبرائیل امین علیہ السلامسیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃُ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں اس وقت آیا جب اللہ رب العزت نے (فرشتوں )کو حکم دیا کہ ، قیامت تک جہنم کی آگ بھڑکاتے رہو۔
سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:” میرے سامنے دوزخ کے کچھ احوال بیان کرو، عرض کی: ”یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! اللہ عزوجل نے ابتدأًدوزخ کی آگ بھڑکانے کا حکم دیا چنانچہ وہ ایک ہزار سال تک جلتی رہی یہاں تک کہ سرخ ہوگئی،پھرایک ہزار سال تک دوبارہ بھڑکایاگیا تو زرد ہوگئی،پھر ایک ہزار سال تک بھڑکایا گیا تو سیاہ ہوگئی، اور اب وہ سیاہ،سخت اندھیرے والی ہے، اس کے شعلے اور انگاروں میں روشنی نہیں،اس پا ک پروردگار عزوجل کی قسم ! جس نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی نبی بر حق بنا کر بھیجا اگر جہنمیوں کے لباس کا ایک کپڑا بھی زمین والوں پر ظاہر کردیا جائے تو رو ئے زمین کے تمام لوگ ہلاک ہوجائیں، اگر جہنم کے پانی کا ایک قطرہ بھی زمین کے پانی میں ڈال دیا جائے توسارا پانی کڑوا ہوجائے اور جو بھی اسے چکھے وہ ہلاک ہوجائے ،اور جہنم کی وہ زنجیر یں جن کا تذکرہ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے ،اگر ان میں سے ایک ذراع کے برابر بھی زمین کے تمام پہاڑوں پر ڈال دی جائے تو تمام پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں،او راگر جہنمیوں میں سے کوئی شخص جہنم سے باہر آجائے تو اس کی بد بو اور جلے ہوئے جسم کو دیکھ کر تمام لوگ ہلاک ہوجائیں۔ ”
سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم یہ سن کر رونے لگے، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو روتا دیکھ کر حضرت سیدنا جبریل امین علیہ السلام بھی رونے لگے اور پھر عرض کی: یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!اللہ عزوجل نے تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صدقے آپ کے اگلوں، پچھلوں کے گناہ معاف فرمادیئے ہیں پھربھی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّماس قدر رو رہے ہیں ؟ یہ سن کررسولوں کے سالار دوعالم کے مالک ومختارباذنِ پروردگار ،شہنشاہِ ابرار عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”کیا میں اپنے رب عزوجل کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟
؎ فکرِ امت میں راتوں کو روتے رہے عاصیوں کے گناہوں کو دھوتے رہے
تم پہ قربان جاؤں مرے ماہ جبیں تم پہ ہردم کروڑوں درود وسلام

اے جبریل امین علیہ السلام تم کیو ں رو رہے ہو؟ حالانکہ تم تو روح الامین ہو اور اللہ عزوجل کی جانب سے وحی پرامین ہو،یہ سن کر حضرت سیدناجبریل امین علیہ السلام نے عرض کی:یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم، مجھے اس خوف نے رلایا کہ کہیں میں بھی ہَارُوْتاورمَارُوْت( یہ دو فرشتوں کے نام ہیں)کی طر ح آزمائش میں مبتلا نہ ہوجاؤں بس اسی خوف نے مجھے اس مرتبے پر اعتماد کرنے سے روک دیا جو مرتبہ میرا بارگاہ خداوندی عزوجل میں ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ میں بھی قرب ِالٰہی عزوجل سے دورہوجاؤں۔”

(شعب الایمان للبیھقی، باب فی طاعۃ أولی الأمر، فصل فی نصیحۃ الولاۃ، الحدیث۷۴۲۰،ج۶،ص۳۳تا۳۴)

اے ابو جعفر منصور !امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اس طرح دعا کی: ”اے میرے پاک پروردگار عزوجل! جب میرے پاس دو شخص فیصلہ کر وانے آئیں اور میرا دل ان میں سے کسی ایک کی جانب کے مائل ہوجائے تو مجھے تھوڑی سی بھی مہلت نہ دینا۔
؎ اللہ اس سے پہلے ایماں پہ موت دے دے
نقصاں میرے سبب ہو سنتِ نبی کا
اے ابو جعفر منصور ! ”اللہ عزوجل کے حضور حساب وکتا ب کے لئے کھڑا ہو نا بہت شدید ہے ، اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے زیادہ مکرّم شے تقوی وپرہیز گاری ہے ،جو شخص اللہ عزوجل کی فرمانبرداری کے ذریعے عزت کا طلب گار ہو تو اللہ عزوجل اسے عزت و بلندی عطا فرماتا ہے ، او رجو اس کی نافرمانی کے ذریعے عزت کا طلب گار ہو تو اللہ عزوجل اسے ذلیل وخوار کردیتا ہے۔”
اے خلیفہ ابو جعفر منصور! یہ میری طر ف سے کچھ نصیحت آموز کلمات تھے انہیں قبول کرلو،اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے اور سلامتی عطا فرمائے، اتنا کہنے کے بعد میں واپس جانے لگا تو خلیفہ نے کہا:” حضور کہا ں جار ہے ہیں ؟” میں نے کہا:”میں امیر کی اجازت سے اپنے شہر اور اہل وعیال کی طرف جارہا ہوں کیا تم مجھے جانے کی اجازت دیتے ہو ؟۔”
خلیفہ ابو جعفر منصور نے کہا:” جایئے خوشی سے جائیے اور میں آپ کا شکر گزارہوں کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجھے نصیحت فرمائی، میں ان باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کرو ں گا ۔( ان شاء اللہ عزوجل) اللہ عزوجل ہی بھلائی کی تو فیق عطا فرماتا ہے اور وہی مدد گار ہے، میں اسی سے مدد طلب کرتا ہوں، اسی پر بھروسہ کرتاہوں ،وہی میرا نگہبان اور کارساز ہے ،اے عبدالرحمن بن عمر اوزاعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ! آپ مجھے نہ بھولنا اور اسی طرح کی نصیحتیں وقتاً فوقتا ًکرتے رہنا ان شاء اللہ عزوجل میں آپ کی باتوں پر ضرور عمل کروں گا۔” میں نے کہا :”اے خلیفہ ! ان شاء اللہ عزوجل میں بھی تمہیں ایسی باتیں بتا تا رہوں گا ۔”
حضرت سیدنا محمد بن معصب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:” جب حضرت سیدنا امام اور زاعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جانے لگے تو

خلیفہ منصور نے تحائف اور رقم وغیرہ بھجوائی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تحائف وہدایا لینے سے انکار کر دیااور فرمایا:” مجھے ان چیزوں کی ضرورت نہیں کیونکہ میں اپنی دینی نصیحتو ں کو دنیوی حقیرمال کے بدلے فروخت نہیں کرنا چاہتا ، مجھے میرے رب عزوجل کی طرف سے ملنے والا اجر ہی کافی ہے۔
؎ میرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو
کر اخلاص ایسا عطا یا الٰہی
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!