Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

قبائل عرب اور عورت

قبائل عرب اور عورت

بعض قبائل جو سَفّاکی اوربے رحمی اور وَحشت میں لاثانی تھے ۔یہ عورتوں پر کچھ اِس انداز سے مظالم ٖڈھاتے تھے کہ روح تک بھی لرز اٹھتی ہے۔ایسے قبائل لڑائیوںمیں اپنی حاملہ عورتو ں کے پیٹ چاک کردیا کرتے تھے ۔کبھی کبھی عورتوں کوگھوڑے کی دم سے باندھ کر گھوڑے کواِتنا سرپٹ دوڑاتے کہ اِن کے ٹکڑے اڑجاتے ۔
غرض مجموعی حیثیت سے عورت بدترین مخلوق اورہر قسم کے جبروتعّدی کاتختہ گاہِ مشق تھی جس کے گھر میں لڑکی پیدا ہوئی اُس کو سخت رنج ہوتا اور شرم کے مارے لوگوں سے چھپتا پھرتا ۔سورۃ النحل میںہے: { وَ اِذَا بُشِّرَاَحَدُہُمْ بِالْاُنْثٰی ظَلَّ وَجْہُہٗ مُسْوَدًّا وَّہُوَکَظِیْمٌ ْ یَتَوَارٰی مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓئِ مَا بُشِّرَ بِہٖ اَیُمْسِکُہٗ عَلٰی ہُوْنٍٍ اَمْ یَدُسُّہٗ فِی التُّرَابِ اَلَا سَآئَ مَا یَحْکُمُوْنَ ْ}’’اور جب اُن میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اُس کا منھ کالا رہتا ہے اور وہ غصّہ کھاتا ہے ۔لوگوں سے چُھپتا پھرتا ہے اِس بشارت کی برائی کے سبب، کیا اِسے ذلّت کے ساتھ رکھے گا یا اِسے مٹی میں دبادے گا، اَرے بہت ہی بُرا حکم لگاتے ہیں۔‘‘(پارہ۱۴،سورۃ
النحل،اٰیت۵۹،۵۸)اورایسے لوگ ذلت کوقبول کرنے کے بجائے فخر سے اپنی بیٹیوں کوزندہ درگور کردیا کرتے تھے۔
ابوحمزہ ایک رئیس تھا اُس کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی تو اُس نے گھر میں رہنا چھوڑ دیا اِس پر اُس کی بیوی اَشعار پڑھ پڑھ کر بچی کو لوریاں دیتی تھی۔ترجمہ:’’ابوحمزہ کوکیا ہوگیا ہے…ہمارے پاس نہیں آتا…ہمسائے کے گھر میں رات بسر کرتا ہے وہ اِس بات پر ناراض ہے کہ ہم بیٹے نہیں جنتے ۔خداکی قسم یہ ہمارے اختیار کی بات نہیں ہے۔‘‘یہ کتنی ذلت کی بات تھی کہ وہ لوگ ہر چیز برداشت کرلیتے لیکن اِنہیں برداشت نہ تھی تو’’ عورت‘‘ وہ بھی اپنی لخت جگر۔

error: Content is protected !!