Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

پُراَسراربزرگ

حکایت نمبر:353 پُراَسراربزرگ

حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن ابونُوح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بہت عبادت گزار تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کابیان ہے :ایک مرتبہ مکۂ مکرمہ زَادَہَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًاجاتے ہوئے مجھے ایک بزرگ نظر آئے ، ان کی بارُعب وباوقار شخصیت نے مجھے تعجب میں ڈال دیا۔ میں نے ان سے کہا:” میں آپ کی رفاقت کا طالب ہو۔” فرمایا:” جیسے تمہاری مرضی ، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ چنانچہ، میں اُن کے ساتھ ہو لیا، وہ سارا سارا دن چلتے اور جہاں چاہتے ٹھہرجاتے۔بہت زیادہ گرمی کے باوجود، دن کو روزہ رکھتے، افطار کے وقت اپنے تھیلے سے کوئی چیز نکال کر اپنے منہ میں ڈال لیتے۔ روزانہ افطار کے وقت نہ جانے کون سی چیز تھیلے سے نکال کر صرف دو تین مرتبہ اپنے منہ میں ڈالتے پھر مجھے بلاتے اور کہتے:” آؤ! تم بھی اس میں سے کچھ کھالو ۔” میں اپنے دل میں کہتا :” اے بندۂ خدا! یہ تو تمہیں بھی کفایت نہ کریگا پھر بھی تمہارے ایثار کا یہ عالَم ہے کہ مجھے بھی کھانے کی دعوت دے رہے ہو،تمہارے جذبے کو سلام۔ ” وہ باصرارمجھے کچھ نہ کچھ کھلا دیتے۔ ان کے صبر اور عبادت وریاضت کو دیکھ کر ان کارعب و دبدبہ میرے دل میں گَھر کر چکا تھا۔
ہم منزلوں پر منزلیں طے کرتے سوئے حرم رواں دواں تھے۔ ایک دن راستے میں ایک شخص ملا جس کے پاس ایک گدھا تھا،بزرگ نے مجھ سے فرمایا:” جاؤ اور وہ گدھا خرید لاؤ۔” اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! بزرگ کی یہ بات سن کر ان کے جلال کی وجہ سے مجھ سے انکار نہ ہوسکا۔ میں نے گدھے والے سے قیمت معلوم کی تو اس نے کہا: ”میں تیس (30)دینار سے ایک درہم بھی کم نہ لوں گا ۔”میں نے بزرگ کو بتایا تو فرمایا:” جاؤ! اتنے ہی میں خرید لو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ سے بھلائی طلب کرو ۔” میں نے کہا: ”اس کی قیمت کہاں سے ادا کروں ۔” فرمایا:”بِسْمِ اللہ شریف پڑھ کر اپنا ہاتھ میرے تھیلے میں ڈالو اور اپنی مطلوبہ رقم حاصل کرلو۔” میں نے جیسے ہی بِسْمِ اللہ شریف پڑھ کر تھیلے میں ہاتھ ڈالا میرے ہاتھ میں ایک تھیلی آئی جس میں پورے تیس دینار تھے نہ کم نہ زیادہ ۔ میں دینار دے کر گدھالے آیا تو فرمایا:” تم اس پر سوار ہوجاؤ۔” میں نے کہا: ”حضور! آپ مجھ سے زیادہ عمر رسیدہ و کمزور ہیں، اس لئے آپ سوار ہوجائیں اور میں پیدل چلتا ہوں ۔” بہر حال میرے اصرار پر وہ سوار ہوگئے اور میں ان کے ساتھ چلنے لگا ،ہم سارا دن سفر اور رات کو قیام کرتے، وہ بزرگ پوری رات نماز پڑھتے ہوئے گزار دیتے ۔
جب ہم”عُسْفَان” پہنچے تو ایک شخص اس بزرگ سے ملا ، سلام کیا اور دونوں نے ایک طرف ہوکر کچھ گفتگو کی پھر دونوں نے رونا شروع کردیا ، کافی دیر روتے رہے ۔جب جد ا ہونے لگے تو بزرگ نے اس شخص سے کہا : ”مجھے کچھ نصیحت کیجئے۔” فرمایا: ”ہاں! دل کے تقویٰ کو لازم کرلو۔ ہرگھڑی قیامت کا ہولناک منظر تمہارے پیش نظر ہونا چاہے۔” عرض کی:” مزید کچھ نصیحت فرمایئے۔” فرمایا :” ہاں! جب آخرت کی طرف جاؤ تو اچھے اعمال لے کر جانا ۔ اپنے دل کو دنیوی مال ودولت کی محبت سے پاک
کر لو۔سنو! سمجھ دار لوگ وہ ہیں جو اُس وقت دنیا کے عیب اور دھوکے کو پہچان لیتے ہیں جب وہ اپنے چاہنے والوں کو ہرطرف سے گھیر لیتی ہے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تم پررحمت ،سلامتی اوربرکت ہو۔”( آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
پھر دونوں جدا ہوگئے ۔ میں نے اپنے رفیق بزرگ سے پوچھا:” اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے! یہ شخص کون تھا؟” میں نے آ ج تک اس سے بہتر کلام کرنے والا کسی کو نہیں پایا ؟” فرمایا:” یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندوں میں سے ایک خاص بندہ تھا۔” پھر ہم ”عُسْفَانَ” سے مکۂ مکرمہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا پہنچے ،مقامِ”اَ بْطَح”کے قریب وہ سواری سے اُترے اور کہا : ”تم یہیں ٹھہرنا میں بیت ُ اللہ شریف پر ایک محبت بھری نظر ڈال کر اِنْ شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ جلد ہی واپس آجاؤں گا۔” اتنا کہہ کر وہ چلے گئے میں وہیں کھڑا رہا۔کچھ دیربعد میرے پاس ایک شخص آیا اور کہا: ” کیا یہ گدھا فروخت کر و گے؟” میں نے کہا : ” ہاں! یہ تیس دینار کا ہے۔” اس نے کہا :” مجھے منظور ہے۔” میں نے کہا :” یہ گدھا میرا نہیں، میرے رفیق کا ہے، وہ مسجد حرام کی طرف گئے ہیں ابھی آتے ہی ہوں گے ۔” ابھی میں یہ بات کرہی رہا تھا کہ وہ آتے ہوئے دکھائی دیئے۔ میں ان کی طرف بڑھا اور کہا:” میں نے یہ گدھا تیس (30)دینار میں فروخت کردیا ہے۔” فرمایا: ”اگر تم چاہتے تو اس سے زیادہ میں بھی بیچ سکتے تھے ۔ لیکن اب بیچ دیاتو کوئی بات نہیں، اپنا قول پورا کرو۔”
چنانچہ، میں نے تیس دینار لے کر گدھا اس شخص کے حوالے کردیا۔ پھربزرگ سے پوچھا:” ان دیناروں کا کیا کروں؟” فرمایا:” یہ تمہارے لئے ہیں،انہیں اپنے استعمال میں لاؤ۔” میں نے کہا:” مجھے ان کی حاجت نہیں ۔” فرمایا:” اچھاتو پھر انہیں میرے تھیلے میں ڈال دو۔” میں نے وہ دینار تھیلے میں ڈال دیئے ۔ مقامِ ”اَ بْطَح” کے قریب ایک جگہ قیام کیا تو فرمایا: ”قلم، دوات اور ورق لے کر آؤ ۔” میں نے یہ اشیاء حاضرِ خدمت کیں توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دو خط لکھے ، پھر ایک خط مجھے دیتے ہوئے کہا: ”جاؤ! فلاں جگہ حضرتِ سیِّدُناعَبَّاد بن عَبَّادعلیہ رحمۃ اللہ الجواد ہوں گے، یہ خط دے کرانہیں اور وہاں موجود تمام لوگوں کو میرا سلام کہنا۔ پھر دوسرا خط دیتے ہوئے فرمایا: ”اس کو اپنے پاس رکھنا اور یومِ نحر (یعنی قربانی کے دن )پڑھنا ۔ جاؤ، اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہارا حامی وناصرہو ۔”
میں خط لے کر حضرتِ سیِّدُناعَبَّاد بن عَبَّادعلیہ رحمۃ اللہ الجواد کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ وہ لوگو ں کو حدیث سنا رہے ہیں ، بہت سے مسلمان ان کے اردگرد بیٹھے حدیث ِ نبوی سن رہے تھے۔ میں نے سلام کیا اور کہا:” اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے۔ آپ کے ایک بھائی نے یہ خط بھیجا ہے۔” انہوں نے خط پڑھاتو اس میں کچھ اس طر ح کا مضمون لکھا تھا:

” بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم”

اَمَّابَعْد! اے عَبَّاد! میں تجھے اس دن کی مفلسی ومحتاجی سے ڈراتا ہوں جس دن لوگ (جمع شدہ نیکیوں کے) ذخیرے کے

محتاج ہوں گے ۔بے شک آخرت کی محتاجی ومفلسی کو دنیا کا غنا نہیں روک سکتا ۔اگر آخرت میں اعمالِ صالحہ کم ہوئے تو مصیبت کا اِزالہ بہت مشکل ہے ۔ میں تیرا مسلمان بھائی ہوں ۔ جب تم میرے پاس پہنچو ں گے تو میں مرنے والا ہوں گا پس تم میرے پا س آؤ ، میری تجہیز وتکفین کرو اور نماز جنازہ پڑھ کر مجھے میری قبر میں اُتار دو ۔میں تمہیں اور تمام مسلمانوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حفاظت میں چھوڑتا ہوں۔ دو جہاں کے تاجور ، حبیب ِ ربِّ اکبر، محبوبِ داوَرعَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں میرا سلام ہو ۔ سب کو میر ی طرف سے سلام اورتم سب پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ہو۔ والسَّلام:” آپ کا بھائی”
خط پڑھ کر حضرتِ سیِّدُنا عَبَّاد بن عَبَّاد علیہ رحمۃ اللہ الجواد نے مجھ سے فرمایا:” جس نے یہ خط بھجوایا ہے، وہ کہا ں ہے؟ ”میں نے کہا :” مقامِ ”اَ بْطَح” کے قریب ۔”فرمایا :” کیاوہ بیمار ہے؟” میں نے کہا:” میں توبالکل تندرست چھوڑ کر آیا ہوں ۔” یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کھڑے ہوگئے۔ آپ کے ساتھ تمام حاضرین بھی کھڑے ہوئے اور ہم سب مقامِ”اَ بْطَح”میں اس بزرگ کے پاس پہنچے ، دیکھا تو ان کی رُوح قفسِ عنصری سے پرواز کرچکی تھی۔ ان کی میت ایک چادر میں لپٹی قبلہ رخ رکھی ہوئی تھی ۔ حضرتِ سیِّدُنا عَبَّاد بن عَبَّاد علیہ رحمۃ اللہ الجواد نے مجھ سے فرمایا :” کیا یہ تمہارا رفیق ہے ؟” میں نے کہا:”جی ہاں۔” فرمایا:” کیا تم اسے تندرست چھوڑ کر گئے تھے ؟” میں نے کہا :” جی ہاں ”۔یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بزرگ کی میت کے سرہانے کھڑے ہو کر کافی دیر روتے رہے پھر نمازِجنازہ پڑھا کر دفن کردیا۔ لوگو ں نے دور دور سے آکر جنازہ میں شرکت کی ۔جب یو مِ نحر ( یعنی قربانی کا دن) آیا تو میں نے کہا:” واللہ! اپنے رفیق کے حکم کے مطابق ان کا دیا ہوا دوسرا خط میں آج ضرور پڑھوں گا۔” چنانچہ، میں نے خط کھولا تو اس میں لکھا تھا:

”بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم”

اَمَّابَعْد!اے میرے بھائی ! اللہ ربُّ العالمین اس دن تجھے تیری نیکی کابہترین صلہ عطا فرمائے جس دن لوگوں کو اپنے اعمالِ صالحہ کی شدید ضرورت ہوگی ۔ اللہ جَلَّ شَانُہ، تجھے ہماری رفاقت کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ بے شک نیک شخص اپنی نیکی کو اپنے بالکل قریب پائے گا۔ میرے بھائی !مجھے تجھ سے ایک حاجت ہے ۔ جب اللہ تبارک وتعالیٰ تیرا حج مکمل فرمادے تو بیت ُ المقدس جاکر میری میراث میرے وارث کے حوالے کردینا ۔

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہ،

خط پڑھ کرمیں نے اپنے دل میں کہا:” اے میرے رفیق! اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے۔ آپ کا ہر کام عجیب ہے ، اور یہ وصیت نامہ تو بہت ہی زیادہ تعجب خیز ہے ۔میں بیتُ المقدس کس کے پاس جاؤں گا ؟ نہ تو مجھے وارث کانام بتایا گیا نہ کسی خاص علاقے کی نشاند ہی کی گئی۔ میں آپ کا سامان کسے دو ں گا؟مجھے کیا معلوم کہ آپ کا وارث کون ہے؟ کافی دیر اسی طر ح سوچتا رہا ۔ بالآخر میں نے ان کا سامان اپنی چادر میں لپیٹا ، سامان کیا تھا ایک پیالہ ، ایک تھیلا اور ایک لاٹھی جس سے وہ ٹیک لگایا
کرتے تھے ۔ یہ سامان محفوظ مقام پر رکھ کر مناسک ِ حج ادا کئے اور پختہ ارادہ کرلیا کہ اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ میں بیتُ المقدس ضرور جاؤں گا۔ ہوسکتا ہے میری ملاقات ان کے وارث سے ہوجائے ۔ ”
چنانچہ، بیتُ المقدس پہنچ کر میں مسجد میں داخل ہوا تو بہت سے فقراء ومساکین کا ہجوم دیکھا ۔ میں ان لوگو ں کے درمیان گھومتا رہا سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کس سے پوچھوں۔ اچانک ایک شخص نے مجھے میرانام لے کرپکارا،میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ بالکل میرے رفیق کی طر ح تھا۔ اس نے مجھ سے کہا:” فلاں کی میراث مجھے دے دو۔” میں عصا ،پیالہ اور تھیلا اس شخص کو دے کر واپس آنے لگا ۔ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! ابھی میں مسجد سے باہر بھی نہ نکلا تھا کہ میرے دل میں خیال آیا میں نے اپنے بزرگ رفیق کے عجیب وغریب معاملات دیکھے۔ پھر میں مکۂ مکرمہ سے بیتُ المقدس آیا یہاں بھی بہت عجیب بات دیکھی کہ ایک انجان شخص نے میرا نام لے کر پکارا،یہ سارے معاملات بہت حیران کُن ہیں اور میرا یہ حال ہے کہ میں نے نہ تو ان دونوں سے پوچھا کہ آپ کون ہیں اور نہ ہی لوگوں سے ان کے متعلق معلومات کیں کہ یہ کون ہستیاں ہیں۔ مجھے چاہے کہ جس کی طرف مجھے بھیجا گیا ہے تادمِ آخر اس کے ساتھ رہوں۔ بس اسی خیال کے تحت میں واپس پلٹا او راس شخص کو ڈھونڈنے لگا لیکن وہ کہیں نظر نہ آیا ہر جگہ تلاش کیا مگر ناکامی ہوئی لوگو ں سے پوچھا تو انہوں نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔ میں کافی دن بیتُ المقدس ٹھہرا رہا لیکن مجھے کوئی ایسا نہ ملا جو اس شخص کے متعلق میری رہنمائی کرتا ۔بالآخر اس کے دیدار کی حسرت دل ہی میں لئے، مَیں واپس عراق آگیا ۔”
؎ جس کی خاطر دل تھا بے چین ہر جگہ ڈھونڈا مگر کہیں نہ ملا
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)

error: Content is protected !!