معجزات

معجزات

(۱)’’ عَنْ أَنَسٍ قَالَ إِنَّ أَہْلَ مَکَّۃَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُرِیَہُمْ آیَۃً فَأَرَاہُمْ الْقَمَرَ شِقَّتَیْنِ حَتَّی رَأَوْا حِرَاء بَیْنَہُمَا‘‘۔ (1)
حضرت انس ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ مکہ والوں نے حضور سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے کہا کہ آپ کوئی معجزہ دکھائیں تو سرکارِ اقدس نے چاند کے دو ٹکڑے فرما کر انہیں دکھادیا یہاں تک کہ مکہ والوں نے حرا پہاڑ کو چاند کے دو ٹکڑوں کے درمیان دیکھا۔ (بخاری، مسلم، مشکوۃ ص ۵۲۴)
(۲)’’ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ اِنْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِرْقَتَیْنِ فِرْقَۃً فَوْقَ الْجَبَلِ وَفِرْقَۃً دُونَہُ‘‘۔ (2)
حضرت ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسولِ کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم کے زمانہ مبارکہ میں چاند دو ٹکڑے ہوگیا ایک ٹکڑا پہاڑ سے اوپر تھا اور دوسرا ٹکڑا اس کے نیچے ۔ (بخاری، مسلم، مشکوۃ ص ۵۲۴)
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی بخاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ:
’’ انشقاق قمر بہ تحقیق واقع شدہ مرآں حضرت را صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وروایت کردہ آند آں راجمعے کثیر از صحابہ وتابعین وروایت کردہ اند از
یعنی حضور سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے لیے چاند کا ٹکڑے ہونا یقینا واقع ہے جس کو صحابہ و تابعین رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی کثیر جماعت نے بیان کیا ہے اور پھر ان سے محدثین کے جمِ غفیر نے روایت کیا
ایشاں جم غفیر از آئمہ حدیث، و مفسران اجماع دارند کہ مراد درآیت کریمہ { اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ(۱)} ہمیں انشقاق ست کہ معجزۂ آں حضرت واقع شد نہ آنکہ در قیامت واقع شود و سیاق آیت کریمہ کہ فرمودہ { وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ(۲)} دلالت دارد برآں‘‘ ۔ (1)

Advertisement

ہے اور مفسرین کرام کا اتفاق ہے کہ آیت کریمہ { اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ(۱)}میں یہی چاند کا دو ٹکڑے ہونا مراد ہے جو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا معجزہ واقع ہوا وہ انشقاق مراد نہیں ہے جو قرب قیامت میں واقع ہوگا اور اسی سے متصل دوسری آیت کریمۂ { وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ(۲)}(2)اسی مضمون کو بتاتی ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے چاند کو دو ٹکڑے کیا ہے ۔ (اشعۃ اللمعات، جلد چہارم ص ۵۱۸ )
(۳)’’ عَنْ أَسْمَاء بِنْتِ عُمَیْسٍ أَنَّہُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُوْحَی إِلَیْہِ وَرَأْسُہُ فِی حِجْرِ عَلِیٍّ فَلَمْ یُصَلِّ حَتَّی غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَصَلَّیْتَ یَاعَلِیّ قَالَ لَا فَقَالَ أَللَّھُمَّ إِنَّہُ کَانَ فِی طَاعَتِکَ وَطَاعَۃِ رَسُوْلِکَ فَارْدُدْ عَلَیْہِ الشَّمْسَ قَالَتْ أَسْمَائُ فَرَأَیْتُھَا غَرَبَتْ ثُمَّ رَأَیْتُھَا طَلَعَتْ وَوَقَفَتْ عَلَی الْجِبَالِ وَالْأَرْضِ وَذَلِکَ بِالصَّھْبَائِ فِی خَیْبَرَ‘‘۔ (3)
حضرت اسماء بنت عمیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا سے روایت ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر اس حال میں وحی نازل ہورہی تھی کہ آپ کا مبارک سر حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی گود میں تھا تو حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ (عصر کی) نماز نہیں پڑھ سکے یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا۔ بعدہ حضور علیہ الصلاۃ و السلام نے فرمایا کہ اے علی! کیا تم نے نماز پڑھی؟ انہوں نے عرض کیا نہیں تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے بارگاہِ الہی میں دعا کی۔ یَا إلٰہَ الْعٰلَمِیْنَعلی تیرے اور تیرے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری میں تھے (اس لیے ان کی نماز عصر قضا ہوگئی) لہذا تو ان کے لیے سورج کو لوٹا دے ۔ حضرت اسماء بنت عمیس فرماتی ہیں کہ میں نے

دیکھا کہ سورج ڈوب گیا تھا پھر ( دعائے نبوی کے بعد) میں نے دیکھا کہ وہ طلوع ہوگیا اور اس کی کرنیں پہاڑوں اور زمینوں پر پھیل گئیں۔ یہ واقعہ مقام صہبا میں پیش آیا جو خیبر سے قریب ہے ۔ (شفا مع نسیم الریاض، جلد سوم ص ۱۰)
(۴)’’عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ الشَّمْسَ فَتَأَخَّرَتْ سَاعَۃً مِنَ النَّہَارِ رَوَاہُ الطَّبَرَانِی فِی مُعْجَمَۃِ الْأَوْسَطِ بِسَنَدٍ حَسَنٍ ‘‘۔ (1)
حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے سورج کو حکم دیا کہ کچھ دیر کے لیے چلنے سے رک جائے وہ فوراً ر ک گیا ۔ (طبرانی شرح الشفا للملا علی قاری، مع نسیم الریاض، جلد سوم ص ۱۳)
(۵)’’عَنْ جَابِرٍ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ اِسْتَنَدَ إِلَی جِذْعٍ نَخْلَۃٍ مِنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ فَلَمَّا صُنِعَ لَہُ الْمِنْبَرُ فَاسْتَوَی عَلَیْہِ صَاحَتْ النَّخْلَۃُ الَّتِی کَانَ یَخْطُبُ عِنْدَہَا حَتَّی کَادَتْ أَنْ تَنْشَقَّ فَنَزَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَخَذَہَا فَضَمَّہَا إِلَیْہِ فَجَعَلَتْ تَئِنُّ أَنِینَ الصَّبِیِّ الَّذِی یُسَکَّتُ حَتَّی اسْتَقَرَّتْ ‘‘۔ (2)
حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم جب مسجد میں خطبہ پڑھتے تو کھجور کے اس تنہ پر جو ستون ( کھمبا) کے طور پر مسجد میں کھڑا تھا کمرلگالیتے پھر جب منبر تیار ہوگیا اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس پر خطبہ پڑھنے کے لیے رونق افروز ہوئے تو وہ ستون جس سے ٹیک لگا کر آپ خطبہ فرمایا کرتے تھے فراقِ نبی میں چیخ اٹھا اور قریب تھا کہ وہ شدتِ اضطراب سے پھٹ جائے تو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم منبر سے اترے یہاں تک کہ اس ستون کو پکڑ کر اپنے سینے سے لگالیا پھر اس ستون نے اس بچہ کی طرح رونا اور بلبلانا شروع کیا جس کو تسلی دے کر خاموش کیا جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ اس ستون کو قرار حاصل ہوا۔ (بخاری شریف، مشکوۃ ص ۵۳۶)
(۶)’’ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَفَرٍ فَأَقْبَلَ أَعْرَابِیٌّ،
حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے فرمایا کہ ہم رسولِ کریم علیہ الصلاۃ والسلام کے ساتھ سفر کررہے تھے کہ

فَلَمَّا دَنَا قَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ، وَأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ قَالَ وَمَنْ یَشْہَدُ عَلَی مَا تَقُولُ؟ قَالَ ہَذِہِ السَّلَمَۃُ فَدَعَاہَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ بِشَاطِیِٔ الْوَادِی، فَأَقْبَلَتْ تُخُدُّ الأَرْضَ حَتَّی قَامَتْ بَیْنَ یَدَیْہِ، فَاسْتَشْہَدَہَا ثَلاَثاً فَشَہِدَتْ ثَلاَثاً أَنَّہُ کَمَا قَالَ، ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَی مَنْبَتِہَا ‘‘۔ ()
ایک دیہاتی آیا جب وہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے قریب پہنچا تو آپ نے اس سے فرمایا کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ خدائے واحد کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) خدائے تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ دیہاتی نے کہا آپ کی باتوں پر میرے سوا اور کون گواہی دے گا؟حضور نے فرمایا یہ ببول کا درخت گواہی دے گا۔ یہ فرما کر آپ نے اس درخت کو بلایا آپ وادی کے کنارے تھے وہ درخت زمین کو پھاڑتا ہوا چلا
یہاں تک کہ آپ کے سامنے کھڑا ہوگیاحضور علیہ الصلاۃ والسلام نے اس سے تین بار گواہی طلب فرمائی اس درخت نے تینوں بار گواہی دی کہ حقیقت میں ایسا ہی ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا اس کے بعد وہ درخت اپنی جگہ واپس چلا گیا۔ (دارمی، مشکوۃ ص ۵۴۱)
(۷)’’ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَائَ أَعْرَابِیٌّ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ بِمَ أَعْرِفُ أَنَّکَ نَبِیٌّ قَالَ إِنْ دَعَوْتُ ہَذَا الْعِذْقَ مِنْ ہَذِہِ النَّخْلَۃِ یَشْہَدُ أَنِّی رَسُولُ اللَّہِ فَدَعَاہُ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ یَنْزِلُ مِنْ النَّخْلَۃِ حَتَّی سَقَطَ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ ارْجِعْ فَعَادَ فَأَسْلَمَ الْأَعْرَابِیُّ‘‘۔ ()
حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے فرمایا کہ ایک دیہاتی حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ کیونکر میں یقین کروں کہ آپ سچے نبی ہیں۔ حضورنے فرمایا کہ کھجور کے اس خوشہ کو اگر میںبلائوں اور وہ میرے پاس آکر اس بات کی گواہی دے کہ میںخدائے تعالیٰ کا رسول ہوں جب تجھے یقین آجائے گا۔ چنانچہ حضور نے اس خوشہ کو بُلایا تو وہ کھجور کے درخت سے اترنے لگایہاں تک

کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے قریب زمین پر آکر گرا پھر آپ نے فرمایا کہ واپس چلا جا تو وہ خوشہ واپس چلا گیا یہ دیکھ کر وہ اعرابی مسلمان ہوگیا۔ (ترمذی، مشکوۃ ص ۵۴۱)
(۸)’’ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ کُنَّا نَعُدُّ الْآیَاتِ بَرَکَۃً وَأَنْتُمْ تَعُدُّونَہَا تَخْوِیفًا کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَفَرٍ فَقَلَّ الْمَاء فَقَالَ اطْلُبُوا فَضْلَۃً مِنْ مَائٍ فَجَائُ وا بِإِنَائٍ فِیہِ مَائٌ قَلِیلٌ فَأَدْخَلَ یَدَہُ فِی الْإِنَائِ ثُمَّ قَالَ حَیَّ عَلَی الطَّہُورِ الْمُبَارَکِ وَالْبَرَکَۃُ مِنْ اللَّہِ وَلَقَدْ رَأَیْتُ الْمَاء یَنْبُعُ مِنْ بَیْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ‘‘۔ ()
حضرت عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ ہم تو معجزات کو باعث ِبرکت سمجھتے تھے اور تم ان کو تخفیف کا باعث سمجھتے ہو ہم ایک سفر میں رسولِ کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم کے ساتھ تھے ۔ پانی کم ہوگیا تو حضور نے فرمایا کہ تھوڑا سا بچا ہوا پانی تلاش کرلائو تو لوگ ایک برتن لائے جس میں تھوڑا سا پانی موجود تھا۔ حضور نے اپنا مقدس ہاتھ برتن میں ڈالدیا اور اس کے بعد فرمایا برکت والے پانی کے پاس آئو ۔ اور برکت خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہے پس میں نے قطعی طور پر دیکھا کہ حضور کی مقدس انگلیوں کی گھائیوں سے پانی اُبل رہا تھا۔ (بخاری ج۱ ص ۵۰۵، مشکوۃ ص ۵۳۸)
(۹)’’ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ عَطِشَ النَّاسُ یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ وَالنَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَ یَدَیْہِ رِکْوَۃٌ فَتَوَضَّأَ فَجَہِشَ النَّاسُ نَحْوَہُ قَالَ مَا لَکُمْ قَالُوا لَیْسَ عِنْدَنَا مَاء نَتَوَضَّأُ وَلَا نَشْرَبُ إِلَّا مَا بَیْنَ یَدَیْکَ فَوَضَعَ یَدَہُ فِی الرِّکْوَۃِ فَجَعَلَ الْمَائُ یَثُورُ بَیْنَ أَصَابِعِہِ کَأَمْثَالِ الْعُیُونِ فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا قُلْتُ کَمْ کُنْتُمْ قَالَ لَوْ کُنَّا مِئَۃَ أَلْفٍ لَکَفَانَا
حضر ت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ صلح حدیبیہ کے دن لوگ پیاسے تھے اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے سامنے ایک پیالہ تھا جس سے آپ نے وضو فرمایا۔ تو لوگ آپ کی جانب دوڑے حضور نے فرمایا کیا بات ہے ؟ لوگوںنے عرض کیا ہمارے پاس وضو کرنے اور پینے کے لیے پانی نہیں ہے مگر صرف یہی جو آپ کے سامنے ہے توحضورعلیہ الصلاۃوالسلام نے اپنا دستِ مبارک اسی پیالہ میں رکھ دیاتو

کُنَّا خَمْسَ عَشْرَۃَ مِائَۃً‘‘ ۔ (1)
آپ کی انگلیوں کے درمیان سے چشموں کی طرح پانی ابلنے لگا حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ ہم تمام لوگوں نے پانی پیا اور وضو کیا حضرت سالم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر سے پوچھا آپ حضرات کتنی تعداد میں تھے ؟انہوں نے فرمایا کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تب بھی وہ پانی کافی ہوتا۔ ( اس وقت) تو ہماری تعداد پندرہ سو تھی۔ (بخاری، ج۱، ص ۵۰۵، مشکوۃ ص ۵۳۲)
(۱۰)’’عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُتِیَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِإِنَائٍ وَہُوَ بِالزَّوْرَائِ فَوَضَعَ یَدَہُ فِی الْإِنَاء فَجَعَلَ الْمَاء یَنْبُعُ مِنْ بَیْنِ أَصَابِعِہِ فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ قَالَ قَتَادَۃُ قُلْتُ لِأَنَسٍ کَمْ کُنْتُمْ قَالَ ثَلَاثَ مِائَۃٍ أَوْ زُہَائَ ثَلاثِ مِائَۃٍ‘‘۔ (2)
حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم کے پاس پانی کا ایک برتن لایا گیا حضور اس وقت مقام زوراء میں تشریف فر ماتھے ۔ آپ نے اپنا مقدس ہاتھ اس برتن میں رکھ دیا تو پانی حضور کی انگلیوں کے درمیان سے ابلنے لگا جس سے تمام لوگوں نے وضوکر لیا۔
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس سے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے تھے ؟ انہوں نے فرمایا تین سو یا تین سو کے قریب ۔ (بخاری، ج۱، ص ۵۰۴، مشکوۃ ص ۵۳۷)
(۱۱)’’ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ قَالَ کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَکَّۃَ فَخَرَجْنَا فِی بَعْضِ نَوَاحِیہَا فَمَا اسْتَقْبَلَہُ جَبَلٌ وَلَا شَجَرٌ إِلَّا وَہُوَ یَقُولُ السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ‘‘۔ (3)
حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ تعالیٰ وجہہ نے فرمایا کہ میں نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہمراہ مکہ میں تھا پھر سرکارِ اقدس اور ہم مکہ شریف کے گردو نواح میں گئے تو جس پہاڑ اور درخت کا بھی سامنا ہوتا تو وہ عرض کرتا ’’السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ‘‘۔ (ترمذی، دارمی، مشکوۃ ص ۵۴۰)

(۱۲)’’ عَنْ جَابِرٍ قَال سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی نَزَلْنَا وَادِیًا أَفْیَحَ فَذَہَبَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْضِی حَاجَتَہُ فَلَمْ یَرَ شَیْئًا یَسْتَتِرُ بِہِ وَإِذَا شَجَرَتَانِ بِشَاطِیِٔ الْوَادِی فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی إِحْدَاہُمَا فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِہَا فَقَالَ انْقَادِی عَلَیَّ بِإِذْنِ اللَّہِ فَانْقَادَتْ مَعَہُ کَالْبَعِیرِ الْمَخْشُوشِ الَّذِی یُصَانِعُ قَائِدَہُ حَتَّی أَتَی الشَّجَرَۃَ الْأُخْرَی فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِہَا فَقَالَ انْقَادِی عَلَیَّ بِإِذْنِ اللَّہِ فَانْقَادَتْ مَعَہُ کَذَلِکَ حَتَّی إِذَا کَانَ بِالْمَنْصَفِ مِمَّا بَیْنَہُمَا قَالَ الْتَئِمَا عَلَیَّ بِإِذْنِ اللَّہِ فَالْتَأَمَتَا فَجَلَسْتُ أُحَدِّثُ نَفْسِی فَحَانَتْ مِنِّی لَفْتَۃٌ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا وَإِذَا الشَّجَرَتَانِ قَدْ افْتَرَقَتَا فَقَامَتْ کُلُّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا عَلَی سَاقٍ‘‘۔ (1)
حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ ہم حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے ساتھ جارہے تھے کہ ایک بے آب وگیاہ وادی یعنی میدان میں اُترے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے لیکن پردہ کی کوئی جگہ آپ کو نہ ملی۔ اچانک آپ کی نظراس وادی کے کنارے دو درختوں پر پڑی حضور ان میں سے ایک کے پاس گئے اور اس کی ایک شاخ کو پکڑ کر (درخت سے ) فرمایا کہ بحکم خدا میرے ساتھ چل تو وہ درخت اس اونٹ کی طرح چل پڑا جس کی ناک میں نکیل بندھی رہتی ہے اور اپنے ساربان کی اطاعت کرتا ہے یہاں تک کہ حضور اس دوسرے درخت کے پاس تشریف لے گئے اور اس کی ایک شاخ پکڑ کر فرمایا کہ اے (درخت) تو بھی بحکمِ الہٰی میرے ساتھ چل ۔ تو وہ بھی پہلے درخت کی طرح حضور کے ساتھ چل پڑا یہاں تک کہ حضور جب ان درختوں کے درمیان کی جگہ میں پہنچے تو فرمایا کہ ( اے درختو) تم دونوں بحکمِ الہی آپس میں مل کر میرے لیے پردہ بن جاؤ تو دونوں ایک دوسرے سے مل گئے ( اور حضور نے ان درختوں کی

آڑ میں قضائے حاجت فرمائی)۔ حضرت جابر کا بیان ہے کہ اس عجیب واقعہ کو دیکھ کر میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ میری نگاہ اٹھی تو اچانک میں نے دیکھا کہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم تشریف لارہے ہیں اور دیکھا کہ دفعۃًوہ دونوں درخت جدا ہو کر چلے اور اپنے تنے پر کھڑے ہوگئے ۔ (مسلم، مشکوۃ ص ۵۳۳)
انتباہ :
(۱)… انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام سے دعوائے نبوت کی تائید میں جوبات خلافِ عادت ظاہر ہواسے معجزہ کہتے ہیں۔ حضرت میر سید شریف جرجانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :’’ اَلْمُعْجِزَۃُ أَمْرٌ خَارِقٌ لِلْعَادَۃِ دَاعِیَۃٌ إِلَی الْخَیْرِ وَالسَّعَادَۃِ مَقْرُوْنَۃٌ بِدَعْوَی النَّبُوَّۃِ قُصِدَ بِہِ إِظْھَارُ صِدْقِ مَنِ ادَّعَی أَنَّہُ رَسُوْلٌ مِنَ اللَّہِ ‘‘۔ (1) (التعریفات ص ۱۹۵)
(۲)…حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے معجزات کا مطلقاً انکار کرنے والا کافر، ملحد اور زندیق ہے ۔
(۳)…جو معجزہ دلیل قطعی سے ثابت ہو جیسے معراج کی رات میں حضور سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مسجد حرام سے مسجد اقصی تک کی سیر فرمانا ۔ اس پر ایمان لانا فرض اور اس کا انکار کر نے والا کافر ہے ۔ (2)
(اشعۃ اللمعات ، ج۴، ص ۵۲۷)
(۴)…جو معجزہ احادیث ِمشہورہ سے ثابت ہو ۔ جیسے سرکارِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا معراج کی رات میں آسمانوں کی سیر فرمانا۔ اس کا ماننا لازم و ضروری ہے ۔ اور اس کا منکر گمراہ بدمذہب ہے ۔ (3) (تفسیرات احمدیہ، ص ۳۲۸)
(۵)…جو معجزہ خبر واحد سے ثابت ہو خواہ علی وجہ القوۃ یا علی وجہ الضعف فضائل میں وہ بھی معتبر ہے ۔
(۶)…انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام سے قبل نبوت جو بات خرقِ عادت کے طور پر صادر ہو اسے ارہاص کہتے ہیں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی بخاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: ’’خوارق عادت کہ پیش از ظہور نبوت ظاہر شدآں را ارہاصات گویند ‘‘۔ () (اشعۃ اللمعات، جلد چہارم ص ۵۴۱)
٭…٭…٭…٭

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!