Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

مغروربادشاہ کی موت

حکایت نمبر482: مغروربادشاہ کی موت

حضرتِ سیِّدُنا وَہْب بن مُنَبِّہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”ایک بہت بڑی سلطنت کے بادشا ہ نے ارادہ کیا کہ میں اپنے سارے ملک کاگشت کروں۔ چنانچہ، اس نے اپنا بہترین لباس منگوایا لیکن وہ پسند نہ آیا۔ پھر اس سے عمدہ لباس منگوایا، لیکن پسند نہ آیا۔ بالآخر سینکڑوں لباسوں میں سے اسے اپنی پسند کا جوڑا مل گیا۔ پھر گھوڑے لائے گئے تو ان میں سے کوئی گھوڑاپسند نہ آیا آخرکار ہزاروں گھوڑوں میں سے اسے اپنی پسند کا گھوڑا مل گیا۔اب بادشاہ بڑی شان وشوکت سے لشکر کے ہمراہ سفر پر روانہ ہوا، راستے میں ابلیسِ لعین نے بہکایاتو غرورو تکبر کی آفت میں مبتلا ہوگیااور گردن اَکڑائے بڑے شاہانہ انداز میں آگے بڑھنے لگا۔ غروروتکبر کی وجہ سے لوگوں کی طرف نظر اٹھاکر بھی نہ دیکھتاتھا۔ راستے میں ایک ضعیف وناتواں شخص بوسیدہ کپڑوں میں نظر آیا، اس نے سلام کیا لیکن بادشاہ نے نہ تو جواب دیا نہ ہی اس کی طرف دیکھا ۔اس نے کہا:” اے بادشاہ! مجھے تجھ سے ضروری کام ہے۔” بادشاہ نے اس کی بات سُنی اَن سُنی کر دی ۔ اس نے آگے بڑھ کر گھوڑے کی لگام پکڑلی۔ بادشاہ نے تِلمِلا کر کہا: ”لگام چھوڑ! تو نے ایسی حرکت کی ہے کہ تجھ سے پہلے کسی نے ایسی جراء َت نہیں کی۔” کہا:” مجھے تجھ سے بہت ضروری کام ہے۔”
بادشاہ نے کہا:”ابھی تو ہمارامہمان بن جا! واپسی پر تیری بات سن لوں گا۔” کہا : ”ہرگز نہیں! خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم !مجھے ابھی تجھ سے کام ہے۔” بادشاہ نے کہا:” بتا !کیا کام ہے؟” کہا: ” ایک راز کی بات ہے، میں چاہتا ہوں کہ صرف تجھے ہی معلوم ہو،لا، اپنا کان میرے قریب کر۔” بادشاہ نے سر جھکایا تو اس نے کہا:” میں مَلَکُ الْمَوْت(علیہ السلام)ہوں، تیری روح قبض کرنے آیا ہوں۔” یہ سننا تھا کہ بادشاہ مارے دہشت کے تھر تھرکانپنے لگا ، رنگ متغیر ہوگیا ،اس نے خوف زدہ لہجے میں کہا:” اس وقت مجھے کچھ مہلت دے دو ،تاکہ میں جس کام سے نکلا ہوں اسے پورا کرآؤں،پھر تم جو چاہے کرنا۔” ملک المو ت علیہ السلام نے کہا: ”اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !تو اپنی سلطنت کو اب کبھی نہ دیکھ سکے گا ۔”بادشاہ نے منت سماجت کرتے ہوئے کہا:” اچھا! مجھے میرے گھر والوں کے پاس ہی جانے کی مہلت دے دو۔” ملک الموت علیہ السلام نے فرمایا:”ہرگز نہیں، خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم ! اب تو کبھی بھی اپنے اہل وعیال سے نہ مل سکے گا۔” یہ کہہ کر اس کی روح قبض کرلی اور اس کابے جان جسم گھوڑے سے زمین پر آ پڑا ۔
؎ آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا پَل کی خبر نہیں
کُوچ ہاں اے بے خبر ہونے کو ہے
کب تَلَک غفلت سحر ہونے کو ہے
جلد آخرت بنا لے کچھ نیکیاں کما لے
کوئی نہیں بھروسہ اے بھائی زندگی کا
حضرتِ سیِّدُناجَرِیْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ” پھر ملک الموت علیہ السلام ایک نیک شخص کے پاس گئے اور سلام کیا، اس مردِ صالح نے جواب دیا،ملک الموت علیہ السلام نے فرمایا:” مجھے تم سے ضروری کام ہے۔” پوچھا:” بتایئے!کیاکام ہے؟” کہا: ”
راز کی بات ہے۔” مردِ صالح نے اپنا کان قریب کیا تو اس نے کہا:” میں ملک الموت ہوں ،تیری روح قبض کرنے آیا ہوں۔” نیک شخص نے کہا:” خوش آمدید اس کے لئے جس کی جدائی بہت طویل ہوگئی تھی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !مجھ سے دور رہنے والا کوئی شخص نہیں جس کی ملاقات میرے نزدیک آپ علیہ السلام کی ملاقات سے افضل ہو ۔” ملک الموت علیہ السلام نے کہا:” اگر تمہارا کوئی کام ہے تو اسے پور ا کرلو۔” کہا: ” آپ کے ہوتے ہوئے مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں اوراللہ تبارک وتعالیٰ کی ملاقات سے بڑھ کر کوئی شئے مجھے محبوب نہیں۔” ملک الموت علیہ السلام نے کہا:” جس حال میں اپنی موت کو پسند کرتے ہو مجھے بتا دومیں اسی حالت میں تمہاری روح قبض کروں گا۔” نیک شخص نے کہا:”کیا آپ علیہ السلام کو اس بات کا اختیار دیا گیا ہے؟”کہا:”ہاں! مجھے اسی طرح حکم دیا گیا ہے ۔” نیک شخص نے کہا:” پھر مجھے وضوکر کے نماز پڑھنے دو جب میں سجدہ میں جاؤں تو میری روح قبض کرلینا۔” ملک الموت علیہ السلام نے کہا:”ٹھیک ہے میں ایسا ہی کروں گا۔” چنانچہ، اس نے وضوکرکے نماز شروع کردی۔ جب سجدہ کیا تو اس کی روح قبض کر لی گئی۔ (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
؎ جب تیر ی یاد میں دُنیا سے گیا ہے کوئی جان لینے کو دُلہن بن کے قضاآئی ہے
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جس نے اعمالِ صالحہ کے ذریعے اپنے پاک پرورد گا ر عزوجل کی خوشنودی حاصل کر کے سفر آخرت کی تیاری کر رکھی ہو اس کے لئے موت کا فرشتہ نوید ِ مُسرَّت ہوتا ہے، اس کی بے قرار رو ح بارگاۂ خدا وندی عَزَّوَجَلَّ میں سجدہ ریز ہونے کے لئے مَچل رہی ہوتی ہے ۔اس کے برعکس جس نے موت کی تیاری نہ کی ہو، اسے موت کاپیغام بہت بڑا عذاب معلوم ہوتا ہے۔ سمجھ دار وہی ہے جو اعمالِ صالحہ کا ذخیرہ اکٹھا کر کے موت سے پہلے موت کی تیاری کر لے ۔اور یہ دولت اچھے ماحول میں رہ کر ہی حاصل ہو سکتی ہیں ۔ موت کی تیاری کا ایک بہترین ذریعہ تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک” دعوتِ اسلامی” کے مدنی ماحول سے وابستگی بھی ہے ۔ اپنے اپنے شہروں میں ہونے والے دعوت اسلامی کے ہفتہ وارسنتو ں بھرے اجتماع میں پابندیئ وقت کے ساتھ شرکت فرما کر خوب خوب سنتوں کی بہاریں لُوٹئے۔ دعوت اسلامی کے سنتوں کی تربیت کے بے شمار مدنی قافلے شہر بہ شہر،گاؤں بہ گاؤں سفر کرتے رہتے ہیں،آپ بھی سنتوں بھرا سفر اختیار فرما کراپنی آخرت کے لئے نیکیوں کا ذخیرہ اکٹھا کیجئے۔ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے ”مکتبۃ المدینہ” سے مدنی انعامات نامی رسالہ حاصل کر کے اس کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کیجئے۔اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ اپنی زندگی میں حیرت انگیز طور پر مدنی انقلاب برپا ہوتا دیکھیں گے۔ )
؎ اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں اے دعوتِ اسلامی تیری دھوم مچی ہو(آمین)!

error: Content is protected !!