Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کس وقت ایمان لانا بے کار ہے؟

موت اور قبر کا بیان

کس وقت ایمان لانا بے کار ہے؟

ہر شخص کی عمر مقرر ہے، نہ اُس سے گھٹ سکتی ہے نہ بڑھ سکتی ہے جب زندگی کا وقت پورا ہوجاتا ہے تو حضرت عزرائیل عَلَیْہِ السَّلَام روح نکالنے کے لیے آتے ہیں ، اُس و قت مرنے والے کو دائیں بائیں جہاں تک نظر جاتی ہے فرشتے ہی فرشتے دکھائی دیتے ہیں ، مسلمان کے پاس رحمت کے فرشتے ہوتے ہیں اور کافر کے پاس عذاب کے۔ اِس وقت کافر کو بھی اسلام کے سچے ہونے کا یقین ہوجاتا ہے لیکن اُس وقت کا ایمان معتبر نہیں کیونکہ ایمان تو اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) رسول (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی بتائی ہوئی باتوں پر بے دیکھے یقین کرنے کا نام ہے اور اب تو فرشتوں کو دیکھ کر ایمان لاتا ہے اس لیے ایسے ایمان لانے سے مسلمان نہ ہوگا، مسلمان کی روح آسانی سے نکالی جاتی ہے اور اس کو رحمت کے فرشتے عزت کے ساتھ لے جاتے ہیں اور کافر کی روح بڑی سختی سے نکالی جاتی ہے او ر اس
کو عذاب کے فرشتے بڑی ذلت سے لے جاتے ہیں ۔ مرنے کے بعد روح کسی دوسرے بدن میں جا کر پھر پیدا نہیں ہوتی بلکہ قیامت آنے تک عالم برزخ (1) میں رہتی ہے۔ یہ خیال کہ روح کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے چاہے آدمی کا بدن ہو یا جانور کایا پیڑ یا پودے میں یہ غلط ہے اس کا ماننا کفر ہے اِسی کو آواگون اور تناسخ کہتے ہیں ۔
________________________________
1 – برزَخ، دنیا اور آخرت کے درمیان ایک اور عالم ہے جس کو برزخ کہتے ہیں مرنے کے بعد سے قیامت آنے تک تمام انسانوں اور جنوں کو حسب مراتب اس میں رہنا ہوتا ہے، یہ عالم اس دنیا سے بہت بڑا ہے، دنیا کے ساتھ برزخ کو وہی نسبت ہے جو ماں کے پیٹ کے ساتھ دنیا کو، برزخ میں کسی کو آرام ہے اور کسی کو تکلیف۔۱۲ (تکمیل الایمان و بہار شریعت وغیرہ) (تکمیل الایمان، بحث عذاب قبر،ص۷۱، بہار شریعت، حصہ۱، ۱/ ۹۸) ۔حضرت امام غزالی (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) فرماتے ہیں:بل الذی تشھد لہ طرق الاعتبار وتنطق بہ الآیات والاخباران الموت معناہ تغیرحال فقط وان الروح باقیۃ بعد مفارقۃ الجسد اما معذبۃ واما منعمۃ ومعنی مفارقتھا للجسد انقطاع تصرفھا عن الجسد بخروج الجسد عن طاعتھا الخ (احیاء جلد چہارم) (احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت ومابعدہ،الباب السابع،۵/ ۲۴۷) یعنی دلیل عقلی اور آیتیں اور حدیثیں اس پر گواہ و ناطق ہیں کہ موت کے معنی ہیں صرف حالت کا بدل جانا اور روح باقی رہتی ہے، بدن سے الگ ہونے کے بعد خواہ عذاب میں رہے یا نعمت میں اور مفارَقت بدن کے معنی ہیں اس کے تصرف کا انقطاع کہ بدن میں اس کی طاعت کی قابلیت نہ رہی، نیز یہی امام اپنے رسالہ لدنیہ میں فرماتے ہیں: وھذا الروح لا یموت بموت البدن یعنی یہ روح بدن کے مرنے سے مرتی نہیں۔۱۲ منہ (مجموعۃ رسائل الامام الغزالی، الرسالۃ اللدنیۃ ، ص۲۲۶)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!