Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے آنکھ نکال دی

حکایت نمبر255: خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے آنکھ نکال دی

حضرتِ سیِّدُنا کَعْب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ”ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل قحط سالی میں مبتلا ہوگئے ۔ اس سال بارش بالکل نہ ہوئی ۔ لوگ پریشانی کے عالَم میں حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اورعرض کی ” آپ علیہ السلام ہمارے لئے بارش کی دعا فرمائیں ۔”
حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام نے فرمایا: ”تم لوگ میرے ساتھ فلاں پہاڑ کی طرف چلو ، چنانچہ، لوگ آپ علیہ السلام کے ساتھ چل دیئے ۔ آپ علیہ السلام نے پہاڑپر چڑھ کرارشاد فرمایا:تم میں سے کوئی بھی ایسا شخص میرے ساتھ نہ رہے جس نے کبھی کوئی گناہ کیا ہو۔ یہ سن کر آدھے سے زیادہ لوگ واپس پلٹ گئے ۔ آپ علیہ السلام نے دوبارہ ارشادفرمایا:جس سے کبھی بھی کوئی گناہ سرزد ہوا ہو وہ واپس پلٹ جائے، سب واپس چلے گئے ۔صرف ”بَرْخ” نامی شخص باقی بچا۔ جس کی ایک آنکھ ضائع ہوچکی تھی ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا : ”کیا تم نے میری بات نہیں سنی؟” عرض کی:” حضور! میں آپ علیہ السلام کی بات سن چکا ہوں ۔”فرمایا :”کیا تم سے کبھی کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا؟” کہا:” حضور! مجھ سے ایک فعل سرزد ہوا ہے ۔ میں آپ علیہ السلام کے سامنے عرض کئے دیتاہوں ، اگر وہ گناہ ہے تو میں واپس چلاجاؤں گا ۔ ”آپ علیہ السلام نے فرمایا:” بتاؤ، تم سے کون سا فعل سرزد ہواہے ؟” کہا:” ایک مرتبہ میں ایک ایسے گھرکے قریب سے گزراجس کادروازہ کھلا ہوا تھا۔ اچانک میری نظر گھر میں موجود ایک شخص پر پڑی، میں نہیں جانتا کہ وہ مرد تھا یا عورت ۔ مجھے احساس ہواتومیں نے اپنی آنکھ سے کہا : ”تو نے ایک غلط کام میں جلدی کی، اب تو میرے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ چنانچہ، میں نے اپنی وہ آنکھ نکال ڈالی۔ اگر میرا دیکھنا گناہ تھا تو میں واپس چلا جاتاہوں ؟” حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام نے فرمایا:” تمہارا یہ فعل گناہ نہیں، اب تم ہی اللہ عَزَّوَجَلَّ سے بارش طلب کرو۔ یہ سن کر اس” برخ” نامی عابد نے دعا کے لئے ہاتھ بلند کر دیئے اور بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں اس طرح عرض گزار ہوا:
”یاقُدُّوْس عَزَّوَجَلَّ !یاقُدُّوْس عَزَّوَجَلَّ ! اے میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! تیرے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ، اگر تو کوئی چیز عطا فرما دے تو تیرے خزانوں میں کمی نہ ہوگی ۔میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! تو بُخل سے پاک ہے ، کوئی ایسی چیز نہیں جسے تو نہ جانتاہو۔ میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! ہمیں بارانِ رحمت سے سیراب کر دے۔” ابھی دعا ختم بھی نہ ہونے پائی تھی کہ چھما چھم رحمت کی برسات ہونے لگی۔ ہر طرف جَل تھَل ہوگیا ، اور یہ دونوں حضرات بارش میں بھیگتے ہوئے واپس پلٹے ۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)

error: Content is protected !!