Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کب فرض توڑ کر جماعت میں شریک ہوجائے

کب فرض توڑ کر جماعت میں شریک ہوجائے

مسئلہ۳۷: کسی نے چار رکعت والی فرض نماز اکیلے شروع کی اور ابھی پہلی رکعت کا سجدہ نہ کرنے پایا تھا کہ وہیں جماعت شروع ہوئی تو اپنی نماز توڑ کر جماعت میں شریک ہوجائے اور فجر اور مغرب میں تو اگر پہلی رکعت کا سجدہ بھی کرلیا ہو تو بھی توڑ کر شریک ہوجائے۔
مسئلہ۳۸: چار رکعت والی نماز میں اگر پہلی رکعت کا سجدہ کرلیا تو نہ توڑے بلکہ ایک رکعت اور پڑھ کر دو پر قعدہ کرکے سلام پھیر کر جماعت میں شامل ہوجائے۔
مسئلہ۳۹: اگر تین رکعتیں پوری پڑھ لیں اور جماعت قائم ہوئی تو جماعت میں شامل نہیں ہوسکتا اپنی ہی چاروں پوری کرے اور بعد میں نفل کی نیت سے جماعت میں شامل ہوجائے مگر عصر میں شامل نہیں ہوسکتا، اس لیے کہ عصر کے بعد نفل جائز نہیں ۔
مسئلہ۴۰: چار رکعت والی نماز میں تیسری رکعت کا ابھی سجدہ نہ کیا تھا کہ جماعت ہوئی تو نماز توڑ دے اور جماعت میں شریک ہوجائے۔
مسئلہ۴۱: نماز توڑنے کے لیے بیٹھنے کی ضرورت نہیں کھڑے کھڑے توڑنے کی نیت سے ایک طرف سلام پھیر دے۔
مسئلہ۴۲: نفل یا سنت یا قضا شروع کی اور جماعت قائم ہوئی تو نماز نہ توڑے پوری کرکے شامل ہو البتہ اگر نفل چار رکعت کی نیت سے شروع کی تو دو رکعت پر توڑ دے تیسری اور چوتھی میں ہو تو پوری کرے۔
مسئلہ۴۳: جماعت میں ملنے کے لیے نماز توڑنے کا حکم اس وقت ہے جب کہ جماعت اس جگہ قائم ہو جہاں یہ پڑھ رہا ہے۔ اگر یہ گھر میں پڑھ رہا ہے اور مسجد میں جماعت قائم ہوئی توڑنے کا حکم نہیں یا یہ کہ ایک مسجد میں پڑھ رہا ہے اور جماعت دوسری مسجد میں شروع ہوئی تو نہیں توڑ سکتا۔ اگرچہ ابھی پہلی رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو تب بھی نہیں توڑ سکتا۔
(ردالمحتار)
مسئلہ۴۴: قیام و رکوع و سجود و قعدہ اخیرہ میں ترتیب فرض ہے۔ اگر قیام سے پہلے رکوع
کرلیا پھر قیام کیا تو وہ رکوع جاتا رہا اگر بعد قیام پھر رکوع کرے گا تو نماز ہوجائے گی ورنہ نہیں یوں ہی رکوع سے پہلے سجدہ کرنے کے بعد اگر رکوع پھر سجدہ کرلیا تو ہوجائے گی ورنہ نہیں ۔ (ردالمحتار)
مسئلہ۴۵: جو چیزیں فرض ہیں اُن میں امام کی پیروی مقتدی پر فرض ہے۔ یعنی اگر فرض چیزوں سے کوئی کام امام سے پہلے ادا کیا اور امام کے ساتھ یا امام کے ادا کرنے کے بعد ادا نہ کیا تونماز نہ ہوگی۔ جیسے امام سے پہلے سجدہ کرلیااور امام ابھی سجدہ میں نہ آیا تھا کہ اس نے سر اُٹھالیا تو اگر امام کے ساتھ یا بعد کو ادا کرلیا تو نماز ہوگئی ورنہ نہیں ۔ (درمختار وردالمحتار)
مسئلہ۴۶: مقتدی نے امام سے پہلے سجدہ کیا مگر اس کے سر اُٹھانے سے پہلے امام بھی سجدہ میں پہنچ گیا تو سجدہ ہوگیا مگر مقتدی کو ایسا کرنا حرام ہے۔ (عالمگیری)
مسئلہ۴۷: مقتدی کو صف کے پیچھے تنہا کھڑا ہونا مکروہ تنزیہی ہے جب کہ صف میں جگہ موجود ہو اور اگر صف میں جگہ نہ ہو تو حر َج نہیں اور اگر کسی کو صف میں سے کھینچ لے اور اس کے ساتھ کھڑا ہو تو یہ اچھا ہے مگر یہ خیال رہے کہ جس کو کھینچے وہ اس مسئلہ کو جانتا ہو کہیں اس کو کھینچنے سے اپنی نماز نہ توڑ دے۔ (عالمگیری) اور چاہیے یہ کہ یہ کسی کو اشارہ کرے اور اُسے یہ چاہیے کہ پیچھے نہ ہٹے اس پر سے کراہت دور ہوجائے گی۔ ( فتح القدیر و بہار شریعت)

error: Content is protected !!