Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

جنت کی حوریں کیسی ہوگی

کیا جنت میں بچے پیدا ہوں گے ؟

حضرتِ سیدنا ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ” مؤمن جب جنت میں اولاد کی خواہش کریگا تو اس کا حمل ،پیدائش اور بڑا ہونا پل بھر میں ہوجائے گا ۔”

(ترمذی، کتاب صفۃ الجنۃ ،رقم الحدیث۲۵۷۲،ج۴، ص۲۵۴)

جنت کی حوریں:

جنتیوں کو حوریں دی جائیں گی جیسا کہ ارشاد ہوتاہے ،

وَ عِنۡدَہُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ ﴿۵۲﴾ہٰذَا مَا تُوۡعَدُوۡنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ ﴿ؓ۵۳﴾اِنَّ ہٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَہٗ مِنۡ نَّفَادٍ ﴿ۚۖ۵۴﴾

ترجمہ کنزالایمان : اور ان (یعنی جنتیوں)کے پاس وہ بیبیاں ہیں کہ اپنے شوہر کے سوااور کی طرف آنکھ نہیں اٹھاتیں ایک عمر کی یہ ہے وہ جس کاتمہیں وعدہ دیا جاتاہے حساب کے دن بے شک یہ ہمارا رزق ہے کبھی ختم نہ ہوگا۔”

(پ ۲۳ سورۃ ص ۤ :۵۲،۵۳، ۵۴)

حضرت سیدناابوسعید رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ سرور ِ کونین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”سب سے ادنیٰ جنتی کو اسی ہزار خادم اور ۷۲حوریں دی جائیں گی ۔”

(ترمذی،کتاب صفۃ الجنۃ ،رقم الحدیث۲۵۷۱،ج۴،ص۲۵۴)

جنت کی حور کیسی ہوگی ؟

(۱) حضرتِ سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:” اگر کوئی جنتی حُور زمین کی طرف جھانکے تو آسمان سے زمین تک روشنی ہو جائے اور ساری فضا زمین سے آسمان تک خوشبو سے معطر ہو جائے اور اس کے سر کی

اوڑھنی(یعنی دوپٹا) دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ ”

(الترغیب والترھیب،کتاب صفۃ الجنۃ،رقم الحدیث۸۴،ج۴،ص۲۹۵)

(۲) حضرتِ سیدناسعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر جنتیوں میں سے کوئی شخص (دنیا کی طرف) جھانکے اور اس کے کنگن ظاہر ہو جائیں تو اس کی روشنی سورج کی روشنی کو مٹا دے جیسے کہ ستاروں کی روشنی کو سورج مٹا دیتا ہے۔ ”

(ترمذی،کتاب صفۃ الجنۃ ،رقم الحدیث۲۵۴۷،ج۴،ص۲۴۱)

(۳) حضرتِ سیدنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک حوروں میں سے ہر حور کی پنڈلی کی سفید ی ستر حلوں کے باہر سے نظر آتی ہے بلکہ اس کی پنڈلی کامغز تک نظر آتاہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ عز وجل نے فرمایا: کَاَنَّـہُنَّ الْیَاقُوۡتُ وَ الْمَرْجَانُ ﴿ۚ۵۸﴾ ترجمہ کنزالایمان :گویاوہ لعل اور یاقوت اور مونگاہیں۔(الرحمن :۵۸)”اوریاقوت ایک ایسا پتھر ہے کہ اگرتم اس میں دھاگہ ڈالوپھر اسے بند کردو پھر بھی اسکے باہر سے تمہیں وہ دھاگہ نظر آئے گا۔”

(ترمذی ، باب فی صفۃ نساء اھل الجنۃ ، رقم ۲۵۴۱ ، ج۴ ، ص ۲۳۹ )

(۴) حضرتِ سیدنا اَنس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبرئیل امین نے مجھے بتایا :” جب کوئی آدمی کسی حور کے پاس جائے گا تو وہ اس سے معانقہ اورمصافحہ کر کے اس کااستقبال کرے گی ۔”پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر تم اس کی جن انگلیوں سے چاہوپکڑو،اگراس کی انگلی کا ایک پورا دنیا پر ظاہر ہوجائے تو اسکے سامنے سورج اورچاند کی روشنی ماند پڑ جائے اوراگراسکے بالوں کی ایک لٹ ظاہر

ہوجائے تو مشرق ومغرب کی ہر چیز اس کی پاکیزہ خوشبو سے بھر جائے۔جنتی شخص اپنی مسہری پر بیٹھا ہوگا اچانک اس کے سر پرایک نور ظاہر ہوگا وہ گمان کریگا کہ شاید اللہ عز وجل اپنی مخلوق پرنگاہ کرم فرمارہا ہے لیکن جب وہ اس نور کو دیکھے گا تووہ ایک حور ہوگی جو یہ کہہ رہی ہوگی :” اے اللہ عز وجل کے ولی ! کیا تمہارے پاس ہمارے لیے وقت نہیں ہے ؟ ”وہ پوچھے گا :” تم کون ہو؟ ”تووہ کہے گی:” میں ان حوروں میں سے ہوں جن کے بارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا ہے وَلَدَیۡنَا مَزِیۡدٌ ﴿۳۵﴾ ترجمہ کنزالایمان : اور ہمارے پاس اس سے بھی زیادہ ہے ۔(قۤ:۳۵)” پھر وہ اس کی طرف رخ کرے گا تو دیکھے گاکہ اس کے پاس جو حسن وجمال ہے وہ پہلے والی حوروں میں نہیں ۔
پھر جب وہ اس حور کے ساتھ اپنی مسہری پر بیٹھا ہوگاتواسے ایک او رحور پکارے گی :”اے اللہ عز وجل کے ولی ! کیا تمہارے پاس ہمارے لیے وقت نہیں ؟ ”وہ پوچھے گا:” تم کون ہو؟ وہ کہے گی :”میں ان حوروں میں سے ہوں جن کے بارے میں اللہ عز وجل نے فرمایاہے: فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ۚ جَزَآءًۢ بِمَاکَانُوۡایَعْمَلُوۡنَ ﴿۱۷﴾ ترجمہ کنزالایمان :تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لئے چھپارکھی ہے صلہ ان کے کاموں کا۔(پ۲۱،سورۃ السجدہ : ۱۷)” پھر وہ اسی طرح اپنی بیویوں میں سے ایک حورسے دوسری کی طرف منتقل ہوتا رہے گا۔”

(الترغیب الترہیب ،کتاب صفۃ الجنۃ والنار ،رقم الحدیث ۹۴،ج۴،ص۲۹۷)

(۵) حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :” اگر حور اپنی ہتھیلی زمین وآسمان کے درمیان ظاہر کردے تو اسکے حسن کی وجہ سے مخلوق فتنے میں پڑجائے اوراگروہ اپنی اوڑھنی ظاہر کردے تو سورج اسکے حسن کی وجہ سے دھوپ میں رکھے ہوئے

چراغ کی طرح ہوجائے جس کی کوئی روشنی نہیں ہوتی اوراگروہ اپنا چہرہ ظاہر کردے تو زمین وآسمان کی ہر چیز کو روشن کردے ۔” (التر غیب والتر ھیب ،کتاب صفۃ الجنۃ والنار ، رقم ۹۷ ،ج۴، ص ۲۹۸)

(۶) حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ” اگرجنتی عورتوں میں سے کوئی عورت سات سمندر وں میں اپنا تھوک ڈال دے تو وہ سارے سمندر شہد سے زیادہ میٹھے ہوجائیں ۔”

(التر غیب والتر ھیب کتاب صفۃ الجنۃ والنار، رقم ۹۸،ج۴،ص ۲۹۷)

(۷) حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم حضرتِ سیدنا کَعْبُ الاحبار رضی اللہ تعالی عنہکے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرمایا:” اگر آسمانی حور کے ہاتھ کی سفیدی اوراس کی انگوٹھیاں زمین وآسمان کے درمیان لٹکا دی جائیں تو اس کی وجہ سے زمین اس طرح روشن ہوجائے جس طرح سورج دنیا والوں کے لیے روشن ہوتاہے۔” پھر فرمایا:” یہ تو میں نے اسکے ہاتھ کا تذکرہ کیا ہے اسکے چہرے کی سفیدی اورحسن وجمال اوراسکے تاج کے یاقُو ت وزبرجد کے حسن کاکیاعالم ہوگا ۔ ”

(التر غیب والتر ھیب ، کتاب صفۃ الجنۃ، ،رقم ۱۰۰ ،ج۴ ، ص ۲۹۹ )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!