Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

فکر ِآخرت

حکایت نمبر432: فکر ِآخرت

حضرتِ سیِّدُناصالح مُرِّی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں :حضرتِ سیِّدُنا عَطَا سُلَمِی علیہ رحمۃ اللہ الولی بہت زیادہ مجاہدہ کرنے والے بزرگ تھے،کثرتِ عبادت وروزہ اورمجاہدات کی وجہ سے ان کاجسم کافی کمزورہوگیاتھا۔میں نے ان سے کہا: ”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے نفس کوبہت زیادہ تکلیف میں ڈال رکھاہے، میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے لئے کچھ چیزیں بھجواؤں گااگر آپ رحمۃ

اللہ تعالیٰ علیہ کی نظروں میں میری کچھ قدرو منزلت ہے توانہیں واپس نہ کرنا۔” فرمایا: ”ٹھیک ہے۔”چنانچہ، میں نے گھی اور سَتُّو کا بنا ہوا تھوڑاسا شربت اپنے بیٹے کو دیتے ہوئے کہا:”یہ حضرتِ سیِّدُناعَطَا سُلَمِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے پاس لے جاؤ، جب تک وہ یہ شربت پی نہ لیں واپس نہ آنا۔ ‘ ‘ میرابیٹاشربت لے کرگیااورواپس آکربتایاکہ”حضرتِ سیِّدُناعَطَا سُلَمِی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے شربت پی لیا ہے۔ دوسرے دن میں نے پھر شربت بھجوایاتوانہوں نے نہ پیا۔”
میں نے ان سے کہا:”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے شربت کیوں نہیں پیا؟اس کے استعمال سے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے جسم کوتقویت ملتی ،نمازوروزہ اور دیگرعبادات پرقدرت حاصل ہوتی۔” فرمایا:”اے ابوبِشر! اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہارا بھلاکرے، جب پہلے دن تم نے شربت بھجوایاتومیں نے پی لیا،دوسرے دن بھی وہی عمدہ و خوشگوار شربت آیاتومیرے نفس نے اس کی طرف رغبت کی ،جب میں اسے پینے لگاتومجھے یہ آیتِ کریمہ یادآگئی:

یَّتَجَرَّعُہٗ وَ لَا یَکَادُ یُسِیۡغُہٗ وَیَاۡتِیۡہِ الْمَوْتُ مِنۡ کُلِّ مَکَانٍ وَّمَا ہُوَ بِمَیِّتٍ ؕ وَمِنۡ وَّرَآئِہٖ عَذَابٌ غَلِیۡظٌ ﴿17﴾

ترجمۂ کنزالایمان:بمشکل اس کاتھوڑا تھوڑا گھونٹ لے گااورگلے سے نیچے اتارنے کی امیدنہ ہوگی اوراسے ہرطرف سے موت آئے گی اور مرے گانہیں اوراس کے پیچھے ایک گاڑھاعذاب۔(پ13،ابرٰہیم:17)
اس آیت کے یاد آتے ہی مجھ سے وہ شربت نہ پیاگیا۔”حضرتِ سیِّدُناصالح مُرِّی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُناعَطَا سُلَمِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی یہ بات سن کرمیں نے روتے ہوئے کہا:”اے عَطَا سُلَمِی علیہ رحمۃ اللہ القوی!تم کسی اور وادی میں ہواورمیں کسی اوروادی میں۔”
(پیارے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ ہمارے بزرگان دین رحمہم اللہ المبین کس قدر اپنے نفس کی مخالفت کیا کرتے تھے۔اورایک ہم ہیں کہ اپنے نفس کی ہر خواہش کو پور کرنے کے در پے رہتے ہیں ۔جبکہ ہمارے بزرگان دین رحمہم اللہ المبین بھوک سے کم کھاتے ہوئے ”پیٹ کا قفل مدینہ” لگائے رکھتے اور خواہشاتِ نفس کی بھر پورمخالفت فرماتے تھے۔ اس طرح کے کئی واقعات بزرگان دین رحمہم اللہ المبین سے منقول ہیں۔بھوک کے فضائل اور بھوک سے کم کھاتے ہوئے ”پیٹ کا قفل مدینہ ”سے متعلق مفید معلومات کے لیے امیر اہلسنّت حضرت علامہ مولیٰنامحمد الیاس عطارؔقادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ کی تصنیف لطیف فیضان سنّت کے باب ”پیٹ کا قفل مدینہ ”کا مطالعہ کیجئے ۔ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ اس کی برکتیں خود اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمائیں گے ۔)
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

error: Content is protected !!