Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

ایک مجاہد کی دُعائے شہادت

حکایت نمبر364: ایک مجاہد کی دُعائے شہادت

حضرتِ سیِّدُنا حُمَیْد بن ہِلَال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے :حضرتِ سیِّدُنااَسْوَدبن کُلْثُوْم علیہ رحمۃاللہ القیّو م بہت ہی باحیا اور صالح نوجوان تھے ۔ چلتے وقت آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نگاہیں ہمیشہ اس طرح جھکی رہتیں کہ پاس سے گزرنے والوں کی بھی خبر نہ ہوتی۔ اس وقت گھروں کی دیواریں اتنی بلند نہ ہوتی تھیں۔ایک مرتبہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ گھروں کے قریب سے گزررہے تھے کہ کسی عورت نے دوسری عورتوں سے کہا:” جلدی سے گھرو ں کے اندر چلی جاؤ، ایک نوجوان آرہا ہے۔” یہ سن کر دوسری عورتوں نے کہا:” ارے! یہ تو حضرتِ سیِّدُنا اَسْوَدبن کُلْثُوْم علیہ رحمۃاللہ القیّو م ہیں،ان کی نظریں تو زمین سے اٹھتی ہی نہیں پھر یہ کسی غیر عورت پرنظر کیونکر ڈالیں گے ۔”
ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنااَسْوَدبن کُلْثُوْم علیہ رحمۃاللہ القیّو م مجاہدینِ اسلام کے ساتھ جہاد کے لئے روانہ ہوئے ،چلتے وقت آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس طرح دعا کی: ”اے میر ے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ !میرا نفس گمان کرتا ہے کہ اسے تیری ملاقات بہت عزیز ہے ۔ اگر یہ اپنے دعوے میں سچا ہے تو اس کی اس خواہش کو پورا فرمادے۔ اور اگر یہ جھوٹا ہے تو اسے اپنے دعویٰ میں سچا ہونے کی تو فیق عطا فرما۔ اگرچہ یہ اس بات کونا پسند کرے ۔ اے میرے پاک پر وردگار عَزَّوَجَلَّ ! اسے اپنی راہ میں شہادت کی تو فیق عطا فرما۔اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! شہادت کے بعد میرے گوشت کو پرندوں اور درندوں کی خوراک بنادے ۔”
یہ دعا کرنے کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لشکر کے ساتھ دشمن کی جانب روانہ ہوگئے لشکر ایک ایسے باغ کے قریب جاکررکا

جس کے چاروں طرف دیوار تھی اور دیوار میں ایک بڑاسا سوراخ تھا ۔ سارا لشکر اس سوراخ کے ذریعے اندر داخل ہوگیا ۔ اتنے میں دشمنوں کا لشکر بھی اس سوراخ کے قریب آکر کھڑا ہوگیا ۔حضرتِ سیِّدُنااَسْوَدبن کُلْثُوْم علیہ رحمۃاللہ القیّو م اپنے گھوڑے سے اس حالت میں اتر ے کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا چہرہ گرد آلود تھا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دوڑتے ہوئے باغ میں موجود ایک تالاب کے پاس آئے، وضو کیا اور نماز پڑھی۔ پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دشمنوں کی صفوں پر ٹو ٹ پڑے اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے ۔ دونوں لشکروں میں گھمسان کی جنگ ہوئی، مسلمانوں کو کامیابی نصیب ہوئی ۔اس لشکرمیں حضرتِ سیِّدُنا اَسْوَدبن کُلْثُوْم علیہ رحمۃاللہ القیّو م کے بھائی بھی موجود تھے ۔جب لشکرِ اسلام واپسی کے لئے کوچ کرنے لگا توکچھ افراد نے دیوار پر چڑ ھ کر پکارا:” اے اَسْوَدبن کُلْثُوْم علیہ رحمۃاللہ القیّوم کے بھائیو!یہاں آ کر دیکھو! تمہارے بھائی کے گوشت اور ہڈیوں کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے۔” یہ سن کر ان کے بھائی غمگین ہوگئے اور مغموم لہجے میں کہا:”ہمارے بھائی نے جو دعا کی تھی وہ قبول ہوگئی، ہم میں ایسی دعا کرنے کی ہمت نہیں ۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)

error: Content is protected !!