دنیوی اور اخروی زندگی کی مختلف اور مشترک صورتیں

 دنیوی اور اخروی زندگی کی مختلف اور
مشترک صورتیں

    دنیوی اور اخروی زندگی کی مشترکہ چیزیں  یہ ہیں  کہ دونوں 
زندگیاں  حقیقی اور واقعی ہیں  اور دونوں 
زندگیوں  میں  انسان خود سے اور اپنی متعلقہ چیزوں  سے آگاہ ہے، دونوں  زندگیوں  میں  لذت
و تکلیف، خوشی و غمی اور سعادت و شقاوت ہے۔
    جبلت و سرشت خواہ حیوانی ہو یا انسانی، دونوں  جگہ کارفرما ہے، دونوں  زندگیوں  میں  انسان اپنے بدن قد و قامت اور اعضاء و جوارح کے
ساتھ زندگی گذارے گا۔ دونوں  زندگیوں  میں  فضا
اور اجرام ہوں  گے، لیکن ان میں  بنیادی فرق بھی موجود ہے، یہاں  سلسلہ توالد، تناسل، بچپنا، جوانی، بڑھاپا اور
موت ہے وہاں  نہیں، یہاں  ضروری ہے کہ کام کرے، بیج ڈالے اور مناسب اسباب
مہیا کرے، وہاں  بیج کا پھل کاٹے اور دنیوی
اسباب کا نفع حاصل کرے۔ یہ جگہ عمل اور کام کی جگہ ہے اور وہ عالم حساب و کتاب
کرنے اور نتیجہ اخذ کرنے کی جگہ۔
    دنیا میں  انسان کے لئے عمل اور حرکت کی سمت بدل کر مقدر
کو تبدیل کر سکنے کا امکان ہے لیکن آخرت میں  نہیں، یہاں  پر موت و حیات کی آمیزش ہے، ہر حیات ایسے مادہ
کے ہمراہ ہے، جس میں  حیات فاقد ہے۔ علاوہ
ازیں  مردہ سے زندہ پیدا ہوتا ہے اور زندہ
سے مردہ، جیسا کہ بے جان مادہ خاص شرائط کے ساتھ جاندار اور جاندار بے جان میں  تبدیل ہو جاتا ہے۔ مگر آخرت میں  محض زندگی کارفرما ہے، وہاں  مادی جسم بھی جاندار ہے، زمین و آسمان بھی
جاندار ہیں، وہاں  کا باغ اور میوہ انسان
کے مجسم اعمال کی طرح سے جاندار ہیں، وہاں 
کی آگ اور عذاب بھی ذی شعور اور آگاہ ہیں۔
    دنیا میں  اسباب و علل اور خاص زمانی شرائط کی حکمرانی ہے۔
حرکت اور کمال کی طرف سے سفر (تکامل) کا وجود ہے۔ مگر عالم آخرت میں  صرف ملکوت الٰہی اور ارادہ الٰہی کا ظہور ہے۔ اس
دنیا میں  انسان کا ادراک، اس کا شعور اور
آگاہی اور بطور مطلق دیکھنا اور سننا دنیا سے زیادہ طاقتور ہے، دوسرے لفظوں  میں  پردے اور حجاب عالم آخرت میں  انسان کے سامنے سے اٹھا دیئے جائیں  گے اور انسان اپنی باطن بین نگاہوں  سے حقائق کا ادراک کرے گا، جیسا کہ قرآن کریم میں
 آیا ہے :
    فکشفنا عنک غطائک فبصرک الیوم حدید(سورۂ ق، آیت ۲۲)
    “ہم نے اب پردے تجھ سے اٹھا لئے ہیں، پس
آج تیری نظر خوب تیز ہے۔ “
    اس دنیا میں  خستگی و ملال خصوصاً یکسانیت کی وجہ سے کارفرما
ہے، انسان کی حالت کسی شے کو گم کرنے والے کی طرح ہوتی ہے، جو ہمیشہ اپنی گم کردہ
شے کی تلاش میں  سرگرداں  رہتا ہے۔ جب کوئی چیز مل جائے، تو خیال کرتا
ہے، مقصود مل گیا ہے اور اسی پر خوش ہو جاتا ہے، مگر کچھ دیر بعد اسے احساس ہوتا
ہے کہ یہ وہ نہیں  جو “مطلوب”
تھا تو دل گیر ہو جاتا ہے اور پھر کسی نئی شے کی طلب میں  لگ جاتا ہے۔ اسی لئے دنیا میں  انسان ہر اس چیز کا طالب ہے، جو اس کے پاس نہیں  اور اس چیز سے بیزار ہونے لگتا ہے، جو اس کے پاس
موجود ہے۔
    مگر اخروی دنیا میں  دل کی گہرائیوں  اور فطرت و شعور کی عمق سے جس چیز کو چاہتا تھا
اور جسے اپنی گم شدہ متاع حقیقی سمجھتا تھا، یعنی “دربار رب العالمین” میں
 “جاوداں  اور ابدی” جانتا تھا، اس کو پا لیتا ہے،
لہٰذا اسے کسی قسم کا ملال و خستگی و پریشانی نہیں  ہوتی۔ قرآن کریم اسی نکتہ کی طرف اشارہ کرتا ہے
اور کہتا ہے :


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    لا یبغون عنھا خولا(سورۂ کہف، آیت ۱۰۸)
    “یعنی (دنیا کے برعکس) آخرت میں  انسان تبدیلیوں  اور جدید ماحول کے طالب نہیں  ہوں  گے
اسی لئے اگرچہ اہل بہشت ہمیشہ بہشت ہی میں  رہیں  گے، لیکن کبھی سیر نہیں  ہوں  گے۔
    علاوہ ازیں  وہاں  جو
چیز چاہیں  گے، ارادہ الٰہی سے اسی وقت ان
کے لئے پیدا ہو جائے گی، لہٰذا ایسی چیز کی آرزو انہیں  پریشان نہیں  کرتی، جو ان کے پاس نہیں۔ ”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *