Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

دُعا کی تاثیر

حکایت نمبر358: دُعا کی تاثیر

جب صَفْوَان بن مُحْرِز کے بھتیجے کو زمانے کے ظالم وجابر حاکم ابنِ زیاد نے قید کرلیا تو آپ بہت پریشان ہوئے او ر اپنے بھتیجے کی رہائی کے لئے بصرہ کے امراء اور بااثر لوگوں سے سفارش کروائی لیکن کامیابی نہ ہوسکی۔ ابنِ زیاد نے سب کی سفارشوں کو رد کر دیا۔ صَفْوَان بن مُحْرِز نے بڑی تکلیف دِہ حالت میں رات گزاری ۔ رات کے پچھلے پہر انہیں اچانک اونگھ آ گئی تو خواب میں کسی کہنے والے نے کہا :” اے صَفْوَان بن مُحْرِز! اٹھ اور اپنی حاجت طلب کر۔ ”
یہ خواب دیکھ کر ان کی آنکھ کھل گئی۔ ایک انجانے سے خوف نے ان کے جسم پر لزرہ طاری کردیا تھا۔ انہوں نے وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کی اور پھر رو رو کربارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں دعا کرنے لگے۔ یہ اپنے گھر میں مصروف دعا تھے اور وہاں ابنِ زیاد بے چینی اورکَرب میں مبتلا تھا ۔ اس نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ” مجھے صَفْوَان بن مُحْرِزکے بھتیجے کے پاس لے چلو ۔” سپاہی فوراً مشعلیں لے کر ابن زیاد کے پاس آئے ، ظالم حکمران اپنے سپاہیوں کے ساتھ جیل کی جانب چل دیا ، وہاں پہنچ کر اس نے جیل کے دروازے کھلوائے اور بلند آواز سے کہا: ”صَفْوَان بن مُحْرِزکے بھتیجے کو فوراً رہا کردو، اس کی وجہ سے میں نے ساری رات بے چینی کے عالم میں گزاری ہے۔” حاکم کی آواز سن کر سپاہیوں نے فوراً صَفْوَان بن مُحْرِزکے بھتیجے کو جیل سے نکالا اور ابنِ زیاد کے سامنے لا کھڑا کیا۔ ابنِ زیاد نے بڑی نرمی سے گفتگو کی اور کہا :”جاؤ! خوشی خوشی اپنے گھر چلے جاؤ، تم پر کسی قسم کا کوئی جرمانہ وغیرہ نہیں ۔” اتنا کہہ کرابنِ زیاد نے اسے رہا کردیا ۔

وہ سیدھا اپنے چچا صَفْوَان بن مُحْرِزکے پاس پہنچا اور دروازے پر دستک دی، اندر سے آواز آئی: ”کون ؟” کہا: ”آپ کا بھتیجا۔ ” اپنے بھتیجے کی اس طرح اچانک آمد پر آپ بہت حیران ہوئے اور دروازہ کھول کر اندر لے گئے ۔ پھر حقیقتِ حال دریافت کی تو اس نے رات والا سارا واقعہ سنا دیا۔صَفْوَان بن مُحْرِز نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کیا او راپنے بھتیجے سے گفتگو کرنے لگے۔

error: Content is protected !!