Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

دوست کو کھانا کھلانے کی برکت

حکایت نمبر448: دوست کو کھانا کھلانے کی برکت

حضرتِ سیِّدُنا سَلام بن مِسکِین علیہ رحمۃ اللہ المتین حضرتِ سیِّدُنا ثابِت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں: ”ایک مرتبہ چند لڑکے لکڑیاں کاٹنے کے لئے جنگل کی طرف جا رہے تھے۔ جب وہ حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام کے قریب سے گزرے تو آپ علیہ السلام نے اپنے حواریوں سے فرمایا: ” واپسی پر ان میں سے ایک لڑکا ہلاک ہوجائے گا۔” جب ان کی واپسی ہوئی تو سب کے سب سلامت تھے اور کوئی بھی ہلاک نہ ہواتھا۔ حواریوں نے عرض کی:”یا نبی اللہ علیہ السلام ! آپ علیہ السلام تو ارشادفرمارہے تھے کہ ان میں سے ایک لڑکا ہلاک ہوجائے گا لیکن یہ سب بالکل سلامت ہیں ؟” فرمایا:” ان لڑکوں کو میرے پاس بلاؤ۔”جب وہ حاضرِ خدمت ہوئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا :” اپنے سروں سے لکڑیوں کے گٹھے اُتار دو۔” سب نے
لکڑیاں نیچے اُتار دیں، فرمایا: ”اب انہیں کھولو۔” جب گٹھے کھولے گئے تو اس میں سے ایک گٹّھے میں ایک بہت خوفناک مُردہ اژدھا ایک کانٹے کے ساتھ اُلجھا ہوا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اس لڑکے سے پوچھا: ”تم نے کون سی بڑی نیکی کی ہے ؟”اس نے عرض کی: ” میں نے آج کوئی بڑی نیکی تونہیں کی، ہاں! اتنا ضرور ہے کہ آج ہمارے دوستوں میں سے ایک دوست اپنے ساتھ کھانا نہیں لایا تھا تو میں نے اسے اپنے ساتھ کھانے میں شریک کرلیا۔” لڑکے کی یہ بات سن کرآپ علیہ السلام زبان حال سے فرمارہے تھے : ” بس اسی نیکی کی وجہ سے آ ج تو ہلاکت سے محفوظ رہا ۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
؎ ہے چٹائی کا بچھونا کبھی خاک ہی پہ سونا
کبھی ہاتھ کا سرہانہ مدنی مدینے والے!
تیری سادگی پہ لاکھوں تیری عاجزی پہ لاکھوں
ہوں سلامِ عاجزانہ مدنی مدینے والے!
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے کہ مجھے عمدہ کھاناکھانے کی خواہش نہیں ہوتی، اگرمیں گھی کھانا چاہتا تو زیتون کے تیل کی جگہ گھی استعمال کرتا، میرے پاس زیتون کا تیل ہوتا ہے لیکن میں پھر بھی نمک استعمال کرتا ہوں الغرض! مجھے ان چیزوں کی خواہش ہوتی ہے لیکن میرے دونوں رہنما (حضورنبئکریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اور صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ )ایک راستے پر چلے،میں نہیں چاہتا کہ میں ان کے راستے کی مخالفت کروں ،میں ان کی مخالفت سے ڈرتا ہوں ۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

error: Content is protected !!