چٹان کا بکھر جانا

    غزوۂ خندق کے بیان میں ہم تفصیل کے ساتھ لکھ چکے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم مدینہ کے چاروں طرف کفار کے حملوں سے بچنے کے لیے خندق کھود رہے تھے اتفاق سے ایک بہت ہی سخت چٹان نکل آئی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اپنی اجتماعی طاقت سے ہر چند اس کو توڑنا چاہا مگر وہ کسی طرح نہ ٹوٹ سکی، پھاوڑے اس پر پڑ پڑ کر اُچٹ جاتے تھے۔ جب لوگوں نے مجبور ہو کر خدمت اقدس میں یہ ماجرا عرض کیا تو آپ خود اٹھ کر تشریف لائے اور پھاوڑا ہاتھ میں لے کر ایک ضرب لگائی تو وہ چٹان ریت کے بھربھرے ٹیلوں کی طرح چور ہو کر بکھر گئی۔(1)(بخاری جلد ۲ ص ۵۸۸ خندق)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *