جھوٹ

یہ وہ گندی گھناؤنی اور ذلیل عادت ہے کہ دین و دنیا میں جھوٹے کا کہیں کوئی ٹھکانا نہیں۔ جھوٹا آدمی ہر جگہ ذلیل و خوار ہوتا ہے اور ہر مجلس اور ہر انسان کے سامنے بے وقار اور بے اعتبار ہو جاتا ہے اور یہ بڑا گناہ ہے کہ اﷲتعالیٰ نے قرآن مجید میں اعلان فرما دیا ہے کہ۔
لَّعْنَتَ اللہِ عَلَی الْکٰذِبِیۡنَ ﴿61﴾۔
      یعنی کان کھول کر سن لو کہ جھوٹوں پر خدا کی لعنت ہے  (پ3،آل عمران:61)اور وہ خدا کی رحمتوں سے محروم کردیے جاتے ہیں۔ قرآن مجید کی بہت سی آیتوں اور بہت سی حدیثوں میں جھوٹ کی برائیوں کا بیان ہے۔ اس لئے یاد رکھو کہ ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے کہ اس لعنتی عادت سے زندگی بھر بچتا رہے۔ بہت سے ماں باپ بچوں کو چپ کرانے کیلئے ڈرانے کے طور پر کہہ دیا کرتے ہیں کہ چپ رہو گھر میں ”ماؤں” بیٹھا ہے یا چپ رہو صندوق میں لڈو رکھے ہوئے ہیں تم رؤوگے تو سب لڈو دھول مٹی ہو جائیں گے۔ حالانکہ نہ گھر میں ”ماؤں” ہوتا ہے نہ صندوق میں لڈو ہوتے ہیں نہ رونے سے لڈو دھول مٹی ہو جاتے ہیں تو خوب سمجھ
لو یہ سب بھی جھوٹ ہی ہے۔ اس قسم کی بولیاں بول کر والدین گناہ کبیرہ کرتے رہتے ہیں اور اس قسم کی باتوں کو لوگ جھوٹ نہیں سمجھتے۔ حالانکہ یقیناَ ہر وہ بات جو واقعہ کے خلاف ہو جھوٹ ہے اور ہر جھوٹ حرام ہے خواہ بچے سے جھوٹی بات کہو یا بڑے سے۔ آدمی سے جھوٹی بات کہو یا جانور سے۔ جھوٹ بہرحال جھوٹ ہے اور جھوٹ حرام ہے۔
کب اور کونسا جھوٹ جائز ہے :۔کافر یا ظالم سے اپنی جان بچانے کے لئے یا دو مسلمانوں کو جنگ سے بچانے اور صلح کرانے کے لئے اگر کوئی جھوٹی بات بول دے تو شریعت نے اس کی رخصت دی ہے۔ مگر جہاں تک ہو سکے اس موقع پر بھی ایسی بات بولے اور ایسے الفاظ منہ سے نکالے کہ کھلا ہوا جھوٹ نہ ہو بلکہ کسی معنی کے لحاظ سے وہ صحیح بھی ہو اس کو عربی زبان میں ”توریہ”کہتے ہیں۔ مثلاََ ڈاکو نے تم سے پوچھا کہ تمھارے پاس مال ہے کہ نہیں؟ اور تم کو یقین ہے کہ اگر میں اقرار کر لوں گا تو ڈاکو مجھے قتل کر کے میرا مال لوٹ لے گا تو اس وقت یہ کہہ دو ”میرے پاس کوئی مال نہیں ہے” اور نیت یہ کرلو کہ میری جیب یا میرے ہاتھ میں کوئی مال نہیں ہے۔
    بکس یا جھولے میں ہے تو اس معنی کے لحاظ سے تمہارا یہ کہنا کہ میرے پاس کوئی مال نہیں ہے یہ سچ ہے اور اس معنی کے لحاظ سے میری ملکیت میں کوئی مال نہیں ہے یہ جھوٹ ہے۔ اسی قسم کے الفاظ کو عربی میں ”توریہ” کہا جاتا ہے۔ اور جہاں جہاں یہ لکھا ہوا ہے کہ فلاں فلاں موقعوں پر مسلمان جھوٹ بول سکتا ہے۔ اسی کا یہی مطلب ہے کہ ”توریہ” کے الفاظ بولے۔ اور اگر کھلا ہوا جھوٹ بولنے پر کوئی مسلمان مجبور کردیا جائے تو اس کو لازم ہے کہ وہ دل سے اس جھوٹ کو برا جانتے ہوئے جان و مال کو بچانے کے لئے صرف زبان سے جھوٹ بول دے اور اس سے توبہ کرلے۔ (واﷲتعالیٰ اعلم)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *