اسلام

حرمت شراب

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
یَسْـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیۡسِرِؕ قُلْ فِیۡہِمَاۤ اِثْمٌ کَبِیۡرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ ۫ وَ اِثْمُہُمَاۤ اَکْبَرُ مِنۡ نَّفْعِہِمَا ؕ
ترجمہ کنزالایمان:     تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہيں(۱) تم فرما دو کہ ان دونوں ميں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنيوی نفع بھی(۲) اور ان کا گناہ انکے نفع سے بڑا ہے(۳)۔(پ۲، البقرۃ:۲۱۹)
تفسير:
    (۱) جوئے کو ميسر اس لئے کہتے ہيں کہ اس ميں ہارنے والے کا مال آسانی سے حاصل ہو جاتا ہے ۔جس چيز ميں مال کا جاناآنا شرطِ غير معلوم پر موقوف ہو تو وہ جوا ہے لہٰذا اس معنی کی معمہ بازی خالص جواہے ۔ اسی طرح سٹہ اور وہ تجارتيں جن ميں مالی ہار جيت ہے سب حرام ہيں ۔ايسے ہی تاش ، شطرنج وغيرہ۔
    (۲) کہ کفار ان کے ذريعے سے کچھ روپيہ کما ليتے ہيں۔ 
    (۳) اس ميں اشارۃً دو مسئلے معلوم ہوئے ايک يہ کہ يہ آيت شراب کے حرام ہونے کے بعد نازل ہوئی ورنہ اسے گناہ نہ کہا جاتا۔دوسرا يہ کہ شراب نوشی کا کبيرہ گناہ ہونا اضافی يعنی نفع سے گناہ زيا دہ ورنہ شراب نوشی و جوا گناہِ صغيرہ ہے جو ہمیشگی سے کبيرہ بن جاتے ہيں۔(تفسير نورالعرفان)

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!