غلام آزاد کرنے سے اَفْضَل عمل

غلام آزاد کرنے سے اَفْضَل عمل 

حضرتِ سَیِّدُنا صدِّیقِ اکبر رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  : ’’اَلصَّلَاۃُ عَلَی النَّبِیِّ اَمْحَقُ لِلْخَطَایَا مِنَ الْمَائِ الْبَارِد،نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِ پاک پڑھنا ٹھنڈے پانی سے بھی زِیادہ خطاؤں  کو مٹاتا ہے ۔ ‘‘ ’’وَالسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ اَفْضَلُ مِنْ عِتْقِ الرِّقَابِاور سرکار مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر سلام پڑھنا گردنیں  (غلاموں  کو ) آزاد کرنے سے اَفضل ہے۔‘‘ (درمنثور،پ۲۲،الاحزاب،تحت الآیۃ:۵۶، ۶ /۶۵۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھاآپ نے کہ دُرُودِ پاک پانی کے ذَریعے آگ بجھانے سے بھی بڑھ کرخطاؤں  کو مٹانے میں  مؤثر ہے یعنی جس طرح ٹھنڈا پانی آگ کی شِدَّت و تَمازت کو بہت جلد خَتْم کرتا ہے اسی طرح پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِ پاک پڑھنا بھی ہماری خطاؤں  کو مٹاتا ہے بلکہ خطائیں  مٹانے میں  یہ تو پانی سے آگ کو بجھانے سے بھی زیادہ سَرِیعُ الاثر ہے ۔ لہٰذا ہمیں  بھی آپ عَلَیْہِ السَّلام پر کثرت سے دُرُود شریف پڑھتے رہنا چاہئے تاکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ دُرُودِ پاک کی بَرَکت سے ہمارے گُناہوں  کو مُعاف فرمادے۔ 
بارِ عِصْیاں کی ترقّی سے ہُوا ہوں  جاں  بَلَب
مجھ کو اچھّا کیجئے حالت مِری اچھّی  نہیں 
(ذوقِ نعت،ص۱۲۹)
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!دُرُودشریف کی کثرت کے بکثرت فَضائل ہم سُنتے ہی رہتے ہیں  ، ان فضائل وبرکات کو سن کر ہو سکتا ہے کہ ہم میں  سے کسی کے ذِہن میں  یہ سوال پیدا ہو کہ آخر کثرتِ دُرُود کی تعریف کیا ہے؟ کیا چوبیس گھنٹے دُرُود و سلام ہی پڑھتے رہیں  جبھی ہم کثرت سے دُرُود و سلام پڑھنے والے کہلائیں  گے؟ اس عُقْدے (گُتھی) کو حل کرنے کے لیے مُستَنَد کتابوں  سے کثرت ِ دُرُود کی تعریف میں  چند بُزُرگانِ دین کے اَقو ال پیش کیے جاتے ہیں  ۔ ان میں  سے کسی بھی بُزُرگ کے بتائے ہوئے عدد کو معمول بنالیں  توآپ کا شُمار بھی کثرت سے دُرُود وسلام پڑھنے والوں  میں  ہوجائے گا۔ اور اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  وہ تمام بَرَکات وثَمرات حاصل ہونگے جن کا احادیثِ مُبارکہ میں  تذکرہ ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ اگر کسی کو کروڑوں  سال کی عُمر مل جائے اور وہ ہر لمحہ دُرُود و سلام ہی پڑھتا رہے توپھر بھی اس کا حق ادا  نہیں   ہوسکتا ۔ چنانچہ

کثرت سے دُرُود پڑھنے کی تعریف 

ابُوالحسن دارمی عَلَیْہِ رَ حْمۃُ اللّٰہِ الْقَوی  نے ابوعبدُاللّٰہ بن حامد عَلیہ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْمَاجِدکو موت کے بعد کئی مرتبہ خَواب میں  دیکھا اور پوچھا : اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے آپ 
کے ساتھ کیا سُلوک کیا؟ فرمایا: مجھیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے بَخش دیا اور رَحم فرمایا ۔ ایک مرتبہ حضرت دارمی عَلَیْہِ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  نے پوچھا کہ کوئی ایسا عمل بتائیے جس کے ذَرِیعے  جَنَّت میں  داخل ہونا نصیب ہوجائے۔ تو اُنہوں نے فرمایا : ایک ہزار رَکعات نفل ادا کرو اور ان میں  سے ہر رَکعت میں  ایک ہزار مرتبہ قُلْ ھُوَاﷲُ اَحَد (پوری سورت) پڑھ لیا کرو۔ اُنہوں  نے کہا :یہ تو مجھ سے  نہیں   ہوسکے گا تو حضرت ابو عبدُاللّٰہ بن حامد عَلَیْہِ رَحْمۃُ اللّٰہِِ الْمَاجِد نے کہا کہ پھر محمدصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ہر رات ہزار مرتبہ دُرُود و سلام پڑھ لیا کرو۔ حضرت دارمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِِ الْقَوِی  فرماتے ہیں  کہ اس کے بعد سے ہر رات ایک ہزار مرتبہ دُرُودِ پاک پڑھنا میرا معمول بن گیا۔ (سعادۃ الدارین،الباب الرابع فیماورد من لطائف المرائی والحکایات …الخ،اللطیفۃالسابعۃ والعشرون، ص ۱۳۶)
  حضرت  علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیْہِ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  : ’’ روزانہ کم از کم سو ۱۰۰بار دُرُودِ پاک ضرور پڑھنا چاہیے۔ ‘‘(جذبُ القلوب، ص۲۳۱) مزید فرماتے ہیں  :’’بعض دُرُود شریف کے ایسے صیغے بھی ہیں  کہ جن کے پڑھنے سے ہزار ۱۰۰۰کا عدد بآسانی اور جلد پورا ہوجاتا ہے مثلاً ’’صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم‘‘لہٰذا اُسی کو وَظیفہ بنالیناچاہئے اور وَیسے بھی جو کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھنے کا عادی ہوتا ہے اُس پر وہ آسان ہوجاتا ہے۔ غرضیکہ جو عاشقِ 
صادق  ہوتا ہے اُسے دُرُود و سلام پڑھنے سے وہ لَذَّت و شِیرِینی حاصل ہوتی ہے جو اُس کی رُوح کو تَقْوِیت پہنچاتی ہے ۔ (جذبُ القلوب، ص۲۳۲) 
عَلّامہ نبہانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیْ کثرت کی تعریف میں  ایک بُزُرگ کاقول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں  : ’’کم اَز کم روزانہ ساڑھے تین سو بار دن میں  اور ہر شب میں  ساڑھے تین سو باردُرُودِ پاک پڑھاجائے ۔ ‘‘(افضلُ الصَّلوات علٰی سیِّد السَّادات، ص۳۰) مزید فرماتے ہیں  : کہ حضرتِ امام شعرانی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیْ نے اپنی کتاب ’’انوارُ الْقُدْسِیّہ‘ ‘میں  فرمایا ہے:’’ہم سے رسُول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے عہد لیا کہ ہم آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر ہر رات بکثرت دُرُود و سلام پڑھا کریں  گے اور اپنے بھائیوں  کے آگے اِس کا اَجرو ثواب بیان کیا کریں  گے اور آپ عَلَیْہِ السَّلامسے اِظہارِ مَحَبَّت کے لیے اُ نہیں   پوری ترغیب دیں  گے اور یہ کہ ہم ہر دن اور رات اور صبح اور شام ایک ہزار سے لے کر دس ہزار تک دُرُود و سلام کا وِرد کیا کریں  گے ۔ ‘‘ (لواقح الانوارُ القدسِیّۃ فی بیان العہود المحمدیۃ للشعرانی، ص۲۱۰)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! روزانہ سو بار، تین سو بار، یا صبح و شام دو دو سو بار بلکہ روزانہ ایک ہزار بار دُرُود و سلام پڑھنا بھی زِیادہ مشکل کام  نہیں   ۔ لیکن یہ سوال ضَرور پیدا ہوتا ہے کہ بُزُرگانِ دین رَحِمَہمُ اللّٰہُ الْمُبین روزانہ دس دس ہزار بار بلکہ چالیس چالیس ہزار بار دُرُود شریف کس طرح پڑھتے ہوں  گے؟ اور 
اُ نہیں   دوسری عبادات، گھریلو اور معاشی مُعاملات، پھر سُنَّتوں  کی تبلیغ اور طَعام و آرام وغیرہ کے لیے کس طرح وَقت ملتا ہوگا ؟
اِس کا جواب یہ ہے کہ بُزُرگانِ دین رَحِمَہمُ اللّٰہُ الْمُبین ہماری طرح دُنیا کیمَحَبَّت میں  گرفتار  نہیں   تھے اور نہ ہی ہماری طرح ہَرزَہ گوئی (فضول باتیں )  ان کا شیوہ تھا ۔ ہم لوگوں  نے شیطان کے فریب میں  آکر اِس چند روزہ زِندگی ہی کو سب کچھ سمجھ رکھا ہے اور ہر وَقت ، ہر لمحہ اس فانی دُنیا کی آرائشوں  اور آسائشوں  میں  گم ہیں  ۔ 
اَفسوس!قَبرکی طویل زِندگی اور آخرت کی کڑی اور کَٹھن ترین منزل کی طرف ہماری بالکل توجُّہ  نہیں   ۔ بُزُ رگانِ دین اور اَولیاء کاملین رَحْمۃُ اللّٰہ تَعالٰی عَلَیْہِم اَجْمَعِیْنکو اس بات کامُکمل احساس رہتا ہے کہ یہاں  کی زِندگی چند روزہ ہے، یہ آناً فاناً ختم ہوجائے گی۔ جو کچھ ہے وہ مرنے کے بعد والی اَبَدی زِندگی ہے۔ 
نیز اَولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلام اور بُزُرگانِ دین رَحِمَہمُ اللّٰہُ الْمُبِین کو یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ دُنیا کی مُختصر سی زِندگی پر ہی بعد والی طویل زِندگی کا اِنحصار ہے ۔ اگر دُنیا کی زِندگی عیش پرستی اور نافرمانی میں  نہ گزاری تو مرنے کے بعد رَحمتِ خداوَندی عَزَّوَجَلَّ  سے اَبدی وسَرمَدی نعمتوں  کی اُمید ِو اثِق (یعنی قوِی اُمید) ہے۔ چنانچہ یہ اللّٰہ  والے اپنی زِندگی اِسلام کے زَرِّیں  اُصولوں  اور پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سُنَّتوں اور آپ کی ذات ِ طیبہ پر دُرُود ِپاک پڑھنے میں  گزار دیتے ہیں  ۔ 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقینا جب ایک عاشقِ صادق سرکارِدوعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سُنَّتوں  پر عمل کرتا ہے اور صدقِ دل سے جانِ دوعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پردُرُودِ پاک پڑھنے کو اپنی عادت بنالیتا ہے تو پھروہ غمخوارآقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دُکھی دلوں  کے دَرد کا مُداوا بن کر کبھی توعین بیداری کے عالم میں  اور کبھی خَواب میں  تشریف لاکر شربتِ دِیدار پلاتے ہیں  اور حاجت مندوں کی حاجت رَوائی بھی فرماتے ہیں  ۔ چنانچہ 

امام بوصیری پر سرکار کا کرم 

امام بُوصیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  کہ مجھ پر فالج کا شدید حملہ ہوا جس کی وجہ سے میرا نِصف جسم بالکل بے حِس وحرکت ہوگیا ۔ بہت علاج کروایا مگر خاطِر خواہ فائدہ نہ ہوا ۔ انتہائی یاس و ہِراس کی حالت میں  میں  نے سوچا کہ نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شان میں  ایک قصیدہ لکھوں  اور اس کے توَسُّط سے بارگاہ رَبُّ العزَّت میں  اپنی صحتیابی کے لئے دُعا کروں ، اللّٰہ جَلَّ شَانُہ کے فَضل وکَرم سے میں  اپنے اس اِرادے میں  کامیاب ہوگیا ۔ چنانچہ میں  نے قصیدہ (برُدہ شریف) لکھنا شروع کیا ، قصیدے کا اِختتام ہوتے ہی میں  نیند کی آغوش میں  چلاگیا ۔ سر کی آنکھیں  تو کیا بند ہوئیں  دل کی آنکھیں  روشن ہوگئیں  ، میری قسمت انگڑائی لے کرجاگ اُٹھی کیادیکھتاہوں  کہ میرے خَواب میں  نبیِّ 
کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لے آئے ۔ آپ عَلَیْہِ السَّلام نے اپنا دستِ مُبارک میرے جسم پر پھیرا اور اپنی مُبارک چادر میرے جسم پر ڈال دی ۔ اس کی بَرکت سے میں  فوراً صحتیاب ہوگیا ۔ جب میں  نیند سے بیدار ہوا تو اپنے آپ کو کھڑے ہونے اور حَرکت کرنے کے قابل پایا ۔
                                                                              یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اُنْظُرْحَالَنَا طالبِ نظرِ کرم بَدکار ہے
یَاحَبِیْبَ اللّٰہِ اِسْمَعْ قَالَنَا التِجا یاسِیّدَ الْاَبرار ہے
     اِنَّنِیْ فِیْ بَحْرِ ھَمِّ مُّغْرَقٌ ناؤ ڈانواں  ڈول دَر مَنجدھار ہے
خُذْیَدِیْ سَھِّلْ لَنَا اَشْکَالَنَا ناخُدا آؤ تو بیڑا پار ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

وَسْوَسہ اوراس کاجَواب 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی شِفا دینے والا ہے مگر اس حِکایت کو سُن کر وَسوَسے آتے ہیں  کہ کیا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے علاوہ بھی کوئی شِفا دے سکتا ہے؟ 
اس وَسوَسے کا علاج یہ ہے کہ بے شک ذاتی طور پر صِرْف اور صِرْف اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی شِفا دینے والا ہے ، مگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے اُس کے بندے بھی شِفادے سکتے ہیں  ۔ ہاں  اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی دی ہوئی طاقت کے بِغیر فُلاں  دوسرے کو شِفا دے سکتا ہے تو یقینا وہ کافِرہے ۔ کیوں  کہ شِفا ہو یا دوا ایک ذَرّہ بھی کوئی کسی کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا کے بِغیر  نہیں   دے سکتا ۔ ہر مسلمان کا
 یِہی عقیدہ ہے کہ انبِیا و اَولیا عَلَیھِمُ السَّلام ورَحِمَھُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی جو کچھ بھی دیتے ہیں  وہ مَحْض اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی عطا سے دیتے ہیں  ، معاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے کسی نبی یا ولی کو مرض سے شفا دینے یا کچھ عطا کرنے کا اِختیا ر ہی  نہیں   دیا ۔تو ایساشخص حُکمِ قراٰنی کو جھٹلا رہا ہے۔ پارہ ۳ سورۂ اٰ لِ عمران کی آیت نمبر ۴۹ اور اُس کا تَر جمہ پڑھ لیجئے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ وَسوَسہ کی جڑ کٹ جائے گی اور شیطان ناکام و نامُراد ہوگا ۔ چُنانچِہِ حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام کے مُبارک قَول کی حِکایت کرتے ہوئے قراٰنِ پاک میں  ارشاد ہوتا ہے :وَاُبْرِیُٔ الۡاَکْمَہَ وَالۡاَبْرَصَ وَاُحۡیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللہِۚ(پ۳، آٰلِ عمران : ۴۹) 
ترجَمۂ کنزُالایمان:اور میں  شِفا دیتا ہوں  مادرزاد اندھوں  اور سفید داغ والے (یعنی کوڑھی) کو اور میں  مُردے جِلاتا ہوں  اللّٰہکے حکم سے۔   
دیکھا آپ نے ؟ حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامصاف صاف فرمارہے ہیں  کہ میں  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بَخشی ہوئی قُدرت سے مادَر زاد اَندھوں  کو بِینائی اور کوڑھیوں  کو شِفا دیتا ہوں  ۔ حتیٰ کہ مُردوں  کو بھی زِندہ کردیا کرتا ہوں  ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے انبِیاء عَلَیھِمُ السّلام کو طرح طرح کے اختیارات عطاکئے گئے ہیں  اور فیضانِ انبیا سے اَولیا کو بھی عطاکئے جاتے ہیں  لہٰذا وہ بھی شِفا
 دے سکتے ہیں  اور بَہُت کچھ عطا فرماسکتے ہیں  ۔ جب حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلامکی یہ شان ہے تو آقائے عیسیٰ ،سردارِ انبیا، میٹھے میٹھے مصطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شانِ عَظْمَت نشان کیسی ہوگی ! یہ یاد رکھئے کہ سروَرِ کائنات  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جَمیع مخلوقات اور جُملہ انبیا و مُرسلین عَلَیھِمُ السّلام کے کمالات کے جامِع ہیں  ،بلکہ جس کو جوملاآپ عَلَیْہِ السَّلام   ہی کے صَدقے ملا ۔ 
تو معلوم ہوا کہ جب سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلام مریضوں  کو شِفا اندھوں  کو آنکھیں  اور مُردوں  کو زِندگی دے سکتے ہیں  تو سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ سب بدَرَجۂ اولیٰ عطا فرماسکتے ہیں  ۔ (فیضانِ سنت ،ص۵۱ تا۵۳)
حُسنِ یوسُف دمِ عیسیٰ پہ  نہیں   کچھ مَوقُوف
جس نے جو پایا ہے، پایا ہے بدولت اُن کی
 (ذوقِ نعت ، ص۱۵۳)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں  حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سچی مَحَبَّتعطا فرمائے اور آپ عَلَیْہِ السَّلام کی ذات پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھنے کی توفیق عطافرمائے ۔ 
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 
٭…٭…٭…٭…٭…٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *