اسلام

عِلم اور اس کی اقسام

علم کی تعریف:
علم کا لغوی معنی جاننا ہے۔اور اصطلاح میں علم کی تعریف یہ ہے : ” حُصُوْلُ صُوْرَۃِ الشَّیْءِ فِی الْعَقْلِ” یعنی کسی شے کی صورت کا عقل میں آنا۔
    اعلی حضرت،امام اہلسنت،مجدددین وملت، حضرت علامہ مولانا امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نے علم کی تعریف یوں بیان فرمائی ہے:”علم وہ نور ہے کہ جو شے اس کے دائرے میں آگئی منکشف (یعنی ظاہر) ہوگئی اور جس سے متعلِّق ہوگیا اس کی صورت ہمارے ذہن میں مُرْتَسِمْ(یعنی نقش) ہوگئی ”۔ (ملفوظات اعلی حضرت ص ۱۶۳ نوری کتب خانہ لاہور)
علم کی اقسام
علم کی دوقسمیں ہیں :         ۱۔ تصور         ۲۔ تصدیق
۱۔تصور:
    وہ علم ہے جس میں حکم نہ پایا جائے جیسے: صرف زید کاعلم۔
۲۔تصدیق:
    وہ علم ہے جس میں حکم پایاجائے جیسے: زید کھڑاہے یا زید کھڑا نہیں ہے۔
حکم کی تعریف:
    ”نسْبَۃُ أَمْرٍ اِلٰی أَمْرٍ آخَرَ اِیْجَاباً اَوْ سَلْباً” ایک شے کی دوسری شے کی طرف
 نسبت کرنا خواہ وہ نسبت ایجابی ہویا سلبی جیسے: زَیْدٌ عاقلٌ اور زَیْدٌ لَیْسَ بِعَاقِلٍ۔
نسبت ایجابی:
    ایک چیز کو دوسری چیز کیلئے ثابت کرنا جیسے: زید کھڑاہے۔اس مثال میں کھڑے ہونے کو زید کے لئے ثابت کیا گیا ہے۔
نسبت سلبی:
     ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی کرناجیسے: زید کھڑا نہیں ہے۔اس مثال میں کھڑے ہونے کی زید سے نفی کی گئی ہے۔
وضاحت:
    صرف زید کا علم ” تصور” ہے۔اور جب اس کی طرف” کھڑے ہونے ”یا ”نہ ہونے” کی نسبت کی جائے۔ جیسے: زید کھڑا ہے یا زید کھڑا نہیں ہے تو اسے” تصدیق” کہتے ہیں۔نیز زید اور قیام کے درمیان جو نسبت(یعنی تعلق) ہے اسے حکم کہتے ہیں۔
٭٭٭٭٭
مشق
سول نمبر1:۔علم کی تعریف و اقسام تحریر کریں۔
سوال نمبر2:۔حکم کی تعریف کریں نیز اس میں مذکور نسبت ایجابی اور نسبت سلبی کی وضاحت کریں۔
*۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔*

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!