حضرت ابوجندل کا معاملہ

یہ عجیب اتفاق ہے کہ معاہدہ لکھا جا چکا تھا لیکن ابھی اس پر فریقین کے دستخط نہیں ہوئے تھے کہ اچانک اسی سہیل بن عمرو کے صاحبزادے حضرت ابوجندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بیڑیاں گھسیٹتے ہوئے گرتے پڑتے حدیبیہ میں مسلمانوں کے درمیان آن پہنچے۔ سہیل بن عمرو اپنے بیٹے کو دیکھ کر کہنے لگا کہ اے محمد!(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)اس معاہدہ کی دستاویز پر دستخط کرنے کے لئے میری پہلی شرط یہ ہے کہ آپ ابوجندل کو میری طرف واپس لوٹایئے۔ آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی تو اس معاہدہ پر فریقین کے دستخط ہی نہیں ہوئے ہیں۔ ہمارے اور تمہارے دستخط ہوجانے کے بعد یہ معاہدہ نافذ ہوگا۔ یہ سن کر سہیل بن عمرو کہنے لگا کہ پھر جایئے۔ میں آپ سے کوئی صلح نہیں کروں گا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا اے سہیل!تم اپنی طرف سے اجازت دے دو کہ میں ابوجندل کو اپنے پاس رکھ لوں۔ اس نے کہا کہ میں ہرگز کبھی
Advertisement
اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔ حضرت ابوجندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب دیکھا کہ میں پھر مکہ لوٹا دیا جاؤں گا تو انہوں نے مسلمانوں سے فریاد کی اور کہا کہ اے جماعت مسلمین!دیکھو میں مشرکین کی طرف لوٹایا جارہاہوں حالانکہ میں مسلمان ہوں اور تم مسلمانوں کے پاس آگیا ہوں کفار کی مار سے ان کے بدن پر چوٹوں کے جو نشانات تھے انہوں نے ان نشانات کو دکھا دکھا کر مسلمانوں کو جوش دلایا۔(1) 
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر حضرت ابوجندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقریر سن کر ایمانی جذبہ سوار ہوگیا اور وہ دندناتے ہوئے بارگاہ رسالت میں پہنچے اور عرض کیا کہ کیا آپ سچ مچ اللہ کے رسول نہیں ہیں؟ ارشاد فرمایا کہ کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا کہ کیا ہم حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں؟ ارشاد فرمایا کہ کیوں نہیں؟ پھر انہوں نے کہا کہ تو پھر ہمارے دین میں ہم کو یہ ذلت کیوں دی جارہی ہے؟ آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمر! میں اللہ کا رسول ہوں۔میں اس کی نافرمانی نہیں کرتاہوں۔ وہ میرا مددگار ہے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیا آپ ہم سے یہ وعدہ نہ فرماتے تھے کہ ہم عنقریب بیت اللہ میں آکر طواف کریں گے؟ ارشاد فرمایا کہ کیا میں نے تم کو یہ خبر دی تھی کہ ہم اسی سال بیت اللہ میں داخل ہوں گے؟ انہوں نے کہا کہ ”نہیں” آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں پھر کہتا ہوں کہ تم یقینا کعبہ میں پہنچو گے اور اس کا طواف کرو گے۔
درباررسالت سے اٹھ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور وہی گفتگو کی جو بارگاہ رسالت میں عرض کرچکے تھے۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے عمر!وہ خدا کے رسول ہیں۔ وہ جو کچھ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے کرتے ہیں وہ کبھی خدا کی نافرمانی نہیں کرتے اور خدا ان کا مددگار ہے اور خدا کی قسم!یقینا وہ حق پر ہیں لہٰذا تم ان کی رکاب تھامے رہو۔(1)          (ابن ہشام ج ۳ص۳۱۷ )
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تمام عمر اِن باتوں کا صدمہ اور سخت رنج و افسوس رہا جو انہوں نے جذبہ بے اختیاری میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے کہہ دی تھیں۔ زندگی بھر وہ اس سے توبہ و استغفار کرتے رہے اور اس کے کفارہ کے لئے انہوں نے نمازیں پڑھیں، روزے رکھے،خیرات کی، غلام آزاد کئے۔بخاری شریف میں اگرچہ ان اعمال کا مفصل تذکرہ نہیں ہے، اجمالاً ہی ذکر ہے لیکن دوسری کتابوں میں نہایت تفصیل کے ساتھ یہ تمام باتیں بیان کی گئی ہیں۔(2)
بہرحال یہ بڑے سخت امتحان اور آزمائش کا وقت تھا۔ ایک طرف حضرت ابوجندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ گڑگڑا کر مسلمانوں سے فریاد کررہے ہیں اور ہر مسلمان اس قدر جوش میں بھرا ہوا ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ادب مانع نہ ہوتا تو مسلمانوں کی تلواریں نیام سے باہر نکل پڑتیں۔ دوسری طرف معاہدہ پر دستخط ہوچکے ہیں اور اپنے عہد کو پورا کرنے کی ذمہ داری سر پر آن پڑی ہے۔ حضورِ انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے موقع کی نزاکت کا خیال فرماتے ہوئے حضرت ابوجندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ تم صبر کرو۔ عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اور دوسرے مظلوموں کے لئے ضرور ہی کوئی راستہ
نکالے گا۔ ہم صلح کا معاہدہ کرچکے اب ہم ان لوگوں سے بدعہدی نہیں کرسکتے۔ غرض حضرت ابوجندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اسی طرح پابزنجیر پھر مکہ واپس جانا پڑا۔(1)
    جب صلح نامہ مکمل ہوگیا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ اٹھو اور قربانی کرو اور سرمنڈا کر احرام کھول دو۔ مسلمانوں کی ناگواری اور ان کے غیظ و غضب کا یہ عالم تھا کہ فرمان نبوی سن کر ایک شخص بھی نہیں اٹھا۔ مگر ادب کے خیال سے کوئی ایک لفظ بول بھی نہ سکا۔ آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت بی بی اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس کا تذکرہ فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ میری رائے یہ ہے کہ آپ کسی سے کچھ بھی نہ کہیں اور خود آپ اپنی قربانی کرلیں اور بال ترشوا لیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو قربانی کرکے احرام اتارتے دیکھ لیا تو پھر وہ لوگ مایوس ہوگئے کہ اب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنا فیصلہ نہیں بدل سکتے تو سب لوگ قربانی کرنے لگے اور ایک دوسرے کے بال تراشنے لگے مگر اس قدر رنج و غم میں بھرے ہوئے تھے کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک دوسرے کو قتل کرڈالے گا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ منورہ کیلئے روانہ ہوگئے۔(2) (بخاری ج۲ ص۶۱۰ باب عمرۃ القضاء مسلم جلد ۲ ص۱۰۴صلح حدیبیہ بخاری ج۱ص۳۸۰باب شروط فی الجہاد الخ )
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!