جسم انور کا سایہ نہ تھا

        آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قد مبارک کا سایہ نہ تھا۔ حکیم ترمذی (متوفی    ۲۵۵؁ھ) نے اپنی کتاب “نوادر الاصول” میں حضرت ذکوان تابعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ سورج کی دھوپ اور چاند کی چاندنی میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا سایہ نہیں پڑتا تھا ۔امام ابن سبع رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا قول ہے کہ یہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے خصائص میں سے ہے کہ آپ کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا اور آپ نور تھے اس لئے جب آپ دھوپ یا چاندنی میں چلتے تو آپ کا سایہ نظر نہ آتا تھا اور بعض کا قول ہے کہ اس کی شاہد وہ حدیث ہے جس میں آپ کی اس دعا کا ذکر ہے کہ آپ نے یہ دعا مانگی کہ خداوندا! تو میرے تمام اعضاء کو نور بنا دے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی اس دعا کو اس قول پر ختم فرمایا کہ “وَاجْعَلْنِیْ نُوْرًا” یعنی یااﷲ! تو مجھ کو سراپا نور بنا دے۔ ظاہر ہے کہ جب آپ سراپا نور تھے تو پھر آپ کا سایہ کہاں سے پڑتا؟
اسی طرح عبداﷲ بن مبارک اور ابن الجوزی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہمانے بھی حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا سایہ نہیں تھا۔(1) (زرقانی ج۵ ص۲۴۹)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *