ساقی کوثر چاہ زمزم پر

پھر چاہ زمزم کے پاس تشریف لائے خاندان عبدالمطلب کے لوگ حاجیوں کو زمزم پلا رہے تھے۔ آپ صلی  اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ مجھ کو ایسا کرتے دیکھ کر دوسرے لوگ بھی تمہارے ہاتھ سے ڈول چھین کر خود اپنے ہاتھ سے پانی بھر کر پینے لگیں گے تو میں خود اپنے ہاتھ سے پانی بھر کر پیتا۔ حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے زمزم شریف پیش کیا اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے قبلہ رخ کھڑے کھڑے زمزم شریف نوش فرمایا۔ پھر منیٰ واپس تشریف لے گئے اور بارہ ذوالحجہ تک منیٰ میں مقیم رہے اور ہر روز سورج ڈھلنے کے بعد جمروں کو کنکری مارتے رہے۔ تیرہ ذوالحجہ منگل کے دن آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے سورج ڈھلنے کے بعد منیٰ سے روانہ ہو کر ”محصب” میں رات بھر قیام فرمایا ا ور صبح کو نماز فجر کعبہ کی مسجد میں ادا فرمائی اور طواف وداع کرکے انصار و مہاجرین کے ساتھ مدینہ منورہ کے لئے روانہ ہو گئے۔(۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواہب،النوع السادس فی ذکرحجہ وعمرہ،ج۱۱،ص۴۶۰۔۴۶۶ملتقطاً)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *