وفد بنی کنانہ

اس وفد کے امیر کارواں حضرت واثلہ بن اسقع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تھے۔ یہ سب لوگ دربار رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام میں نہایت ہی عقیدت مندی کے ساتھ حاضر ہو کر مسلمان ہو گئے اور حضرت واثلہ بن اسقع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بیعت اسلام کرکے جب اپنے وطن میں پہنچے تو ان کے باپ نے ان سے ناراض و بیزار ہو کر کہہ دیا کہ میں خدا کی قسم!
تجھ سے کبھی کوئی بات نہ کروں گا۔ لیکن ان کی بہن نے صدق دل سے اسلام قبول کر لیا۔ یہ اپنے باپ کی حرکت سے رنجیدہ اور دل شکستہ ہو کر پھر مدینہ منورہ چلے آئے اور جنگ تبوک میں شریک ہوئے اور پھر اصحاب صفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی جماعت میں شامل ہو کر حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت کرنے لگے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد یہ بصرہ چلے گئے۔ پھر آخر عمر میں شام گئے اور  ۸۵ھ؁ میں شہر دمشق کے اندر وفات پائی۔(1)     (مدارج النبوۃ ج۲ ص۳۶۰)

Advertisement
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!