دو اندھیرے دور

دو اندھیرے دور

منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سَیِّدُنا مُوسیٰ کَلیمُ اللہ علیٰ نَبِیّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ سے فرمایا کہ میں نے اُمّتِ مُحَمّدِیہصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کودو نور عطا کئے ہیں تاکہ وہ دو اندھیروں کے ضَرَر(یعنی نُقصان) سے مَحفُوظ رہیں۔سَیِّدُنا مُوسیٰ کَلیمُ اللہ علیٰ نَبِیّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃ وَالسَّلَامُ نے عَرض کی :یااللہ ! عَزَّوَجَلَّ وہ دو
نور کون کون سے ہیں؟ اِرشاد ہوا، ”نورِ رَمَضان اور نُورِ قُراٰن۔” سَیِّدُنامُوسیٰ کَلیمُ اللہ علیٰ نَبِیّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ نے عَرض کی :دو اندھیرے کون کون سے ہیں؟ فرمایا، ”ایک قَبْرکا اور دُوسرا قِیامت کا ۔
              (دُرَّۃُ النَّاصِحِین ص۹)
   میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھاآپ نے؟خُدائے حَنَّان ومَنَّان عَزَّوَجَلَّ ماہِ رَمَضان کے قَدْر دان پر کِس دَرَجہ مہربان ہے۔پیش کردہ دونوں روایتوں میں ماہِ رَمَضان کی کِس قَدَر عظیمرحمتوں اور بَرَکتوں کا ذِکْر کیاگیا ہے۔ماہِ رَمَضا ن کا قَدْردان روزے رکھ کرخُدائے رَحمٰن عَزَّوَجَلَّ کی رِضا حاصِل کرکے جَنّتوں کی اَبَدی اور سَرمَدی نِعمتیں حاصِل کرتا ہے۔نیز دوسری حکایت میں دو۲ نور اور دو۲ اندھیروں کا ذِکر کیا گیا ہے۔اندھیروں کو دُور کرنے کیلئے روشنی کا وُجود ناگُز یر ہے۔ خُدائے رَحمٰن عَزَّوَجَلَّ کے اس عظیم اِحسان پر قربان !کہ اِس نے ہمیں قُرآن و رَمَضان کے دونُورعطا کردئیے تاکہ قَبْر و قِیامت کے ہولناک اندھیرے دُور ہوں اور نور ہی نور ہوجائے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *