Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

زکوٰۃ۔۔۔اسلام کا ایک اہم رکن

زکوٰۃ۔۔۔اسلام کا ایک اہم رکن
غلام ربانی فداؔ
مدیراعلیٰ جہان نعت ہیرور9741277047
لغت میں زکوٰۃ کا معنی پاگیزگی بڑھنا، نشونما پانا، درست کرنا، برکت اور مدح کے ہیں۔ ان میں سے تقریباً ہر معنی قرآن و حدیث میں استعمال ہوا ہے۔ شرعی اور اصطلاحی معنی یہ ہے کہ سال گزرنے پر نصابِ معین سے ایک حصہ غیر ہاشمی فقیر کو زکوٰۃ کی نیت سے دینا۔ (نہایہ حصہ دوم)
زکوٰۃ کی اہمیت و افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآنِ مقدس اور احادیث شریفہ میں نماز کے بعد جس عبادت کا ذکر سب سے زیادہ کیا گیا ہے وہ زکوٰۃ ہے۔ قرآنِ مقدس میں تقریباً ۸۴؍ مرتبہ زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم ارشاد فرمایا گیا ہے جس میں ۳۰؍ مرتبہ صراحتا ً لفظ زکوٰۃ آیا ہے۔ 
چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے۔ترجمہ: اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اپنی جانوںکے لیے جو بھلائی آگے بھیجو گے اُسے اللہ کے یہاں پاؤگے۔ بے شک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔ (البقرہ، آیت۱۱۰)
دوسری جگہ قرآنِ مقدس میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: ہدایت اور خوش خبری ایمان والوں کو جو نماز برپا رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ (النمل،آیت۲۔۳)
اس کے علاوہ قرآنِ مقدس میں اور بھی بہت سی جگہوں پر ادائے زکوٰۃ کا حکم دیا گیا ہے اور اس کی اہمیت و افادیت کو خوب صورت انداز میں اجاگر کیا گیا ہے۔ 
اور نبی کریم ﷺ کی دی ہوئی تعلیم میں بھی نماز کے ساتھ ساتھ جو فریضہ سب سے اہم معلوم ہوتا ہے وہ زکوٰۃ ہے۔ نماز اور زکوٰۃ کا باہم مربوط ہونا اس بات کو اچھی طرح واضح کرتا ہے کہ اسلام میں حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کا بھی یکساں خیال رکھا گیا ہے۔ 
چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے حضرتِ معاذ کو یمن بھیجتے وقت ان سے ارشاد فرمایا: پہلے ان کو اس بات کی دعوت دو کہ وہ یہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ پس اگر وہ اسے قبول کرلیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ نے ان پر روزانہ پانچ وقت کی نمازیں فرض فرمائی ہیں اگریہ بھی مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ نے ان کے اموال میں صدقہ فرض فرمایا ہے جو ان کے مال داروں سے لیا جائے گا اور ان کے محتاجوں پر لوٹا دیا جائے گا۔ ( بخاری شریف، جلد اوّل، ص۱۸۷)
ایک حدیث پاک میں میرے آقا ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اسلام میں چار چیزیں فرض کی ہیں جو ان میں سے تین ادا کرے وہ اسے کچھ کام نہ دیں گی جب تک وہ پوری چاروں ادا نہ کرے، وہ چار چیزیں یہ ہیں نماز ، زکوٰۃ ، ماہِ رمضان کے روزے، حجِ بیت اللہ۔ (مسندِ احمد)
حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں اور جو زکوٰۃ نہ دے اس کی نماز بھی قبول نہیں۔ (طبرانی)
حضر ت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم  ﷺ نے ارشاد فرمایا: زکوٰۃ اسلام کا پل ہے۔ (طبرانی) ]بحوالۂ بہارِ شریعت[
زکوٰۃ فرض ہونے کے لیے مال و دولت کی ایک خاص مقدار متعین ہے جس کو شریعت کی اصطلاح میں نصاب کہا جاتا ہے۔ زکوٰۃ اسی وقت فرض ہے جب کہ مال بقدرِ نصاب ہوگا، اس مقدارِ شرعی سے کم مال و دولت پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔ نصابِ زکوٰۃ یہ ہیں: سونے کا نصابِ زکوٰۃ ساڑھے سات تولہ یعنی ۸۵؍گرام ، چاندی کا نصابِ زکوٰۃ ساڑھے باون تولہ یعنی ۶۱۸؍گرام، مالِ تجارت کا نصابِ زکوٰۃ جو قیمت میں سونے یا چاندی کے نصاب کے برابر ہو ۔ یعنی اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت تیس ہزار روپیہ ہے تو تیس ہزار روپے کا مالِ تجارت موجود ہونے کی صورت میں زکوٰۃ فرض ہے۔ 
ایک ضروری وضاحت: 
اگر کسی کے پا س نصاب سے کم سونا اور نصاب سے کم چاندی ہے اور دونوں کی قیمت تیس ہزارر روپیہ ہے تو زکوٰۃ فرض ہے ۔ کیونکہ جب ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت تیس ہزار روپیہ ہے تو تیس ہزار روپیہ نقد ہو یا کچھ سونا اور کچھ چاندی اور کچھ مالِ تجارت ہو اور سب کی مجموعی قیمت تیس ہزار یا اس سے زائد ہے تو اس پر سال گذر جانے کے بعد زکوٰۃ فرض ہے۔ اس طرح بہت سارے مسلمانوں پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے لیکن وہ ادا نہیں کرتے ہیں اور گنہگار اور عذابِ جہنم کے مستحق بنتے ہیں۔ 
زکوٰۃ کی مقدار مال کا چالیسواں حصہ ہے ۔ اس کی آسان شکل یہ ہے کہ چاندی سونا اور مال کی قیمت سیکڑے میں تقسیم کریں اور ڈھائی فیصد یعنی سو روپے میں ڈھائی روپیہ کے حساب سے جس قدر رقم ہو ادا کریں۔ زکوٰۃ فرض ہونے کے باوجود جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ہیں ان کے لیے قرآن و احادیث میں بڑی بڑی وعیدیں آئی ہیں۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں خوش خبری سناؤ دردناک عذاب کی جس دن وہ تپایا جائے گا جہنم کی آگ میں، پھر اس سے داغیں گے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں۔ یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لیے جوڑ کر رکھا ہے اب چکھومزہ اس جوڑنے کا۔ (قرآن مقدس)
احادیث ِ مبارکہ میں بھی زکوٰۃ نہ دینے والوں کے لیے ڈھیر ساری وعیدیں بیان ہوئی ہیں۔ 
چنانچہ ایک حدیث میں میرے پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ زکوٰۃ نہ دینے والے اللہ کے یہاں یہود و نصاریٰ کی طرح ہیں۔ عُشر نہ دینے والے مجوس کی طرح ہیں اور جو لوگ زکوٰۃ اور عُشر نہیں دیتے نبی کریم ﷺ اور فرشتوں نے انہیں ملعون قراردیا ہے اور اس کی گواہی نامقبول ہے۔ (مکاشفۃ القلوب)
طبرانی نے اوسط میں حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے جو قوم زکوٰۃ نہیں دے گی اللہ تبارک وتعالیٰ اسے قحط میں مبتلا فرمائے گا۔ (بہارِ شریعت)
دردناک عذاب: 
تابعین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک جماعت حضرتِ ابی سنان رضی اللہ عنہ کی زیارت کے لیے آئی جب ان لوگوں کو وہاں بیٹھے کچھ دیر ہوگئی تو جنابِ ابی سنان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہمارا ایک ہمسایہ فو ت ہوگیا ہے چلو تعزیت کے لیے اس کے بھائی کے پاس چلیں۔ 
محمد بن یوسف الغریابی کہتے ہیں ہم آپ کے ساتھ روانہ ہوگئے اور ا س کے بھائی کے پاس پہنچے تو دیکھا وہ بہت آہ و بکا کررہا تھا۔ ہم نے اسے کافی تسلیاں دیں، صبر کی تلقین کی مگر اس کی گریہ و زاری برابر جاری رہی۔ ہم نے کہا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ ہر شخص کو آخر مرنا ہے۔ وہ کہنے لگا صحیح ہے، مگر میںاپنے بھائی کے عذاب پر رو رہا ہوں۔ ہم نے پوچھا کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں غیب سے تمہارے بھائی کے عذاب کی خبردی ہے؟ کہنے لگا نہیں بلکہ ہوا یوں کہ جب سب لوگ میرے بھائی کو دفن کرکے چلے گئے تو میں وہیں بیٹھا رہا۔ میںنے اس کی قبر سے آواز سُنی وہ کہہ رہا تھا آہ! وہ مجھے تنہا چھوڑگئے اور میں عذاب
میں مبتلاہوں ۔ میری نمازیں اور روزے کہاں گئے؟ مجھ سے برداشت نہ ہوسکا۔ میںنے اس کی قبر کھودنا شروع کردی تاکہ دیکھوں میرا بھائی کس حال میں ہے۔ جو نہی قبر کھلی، میں نے دیکھا اس کی قبر میں آگ دہک رہی ہے اور اس کی گردن میں آگ کا طوق پڑا ہوا ہے۔ مگر میں محبت میں دیوانہ وار آگے بڑھا اور اس طوق کو اُتارنا چاہا جس کوہاتھ لگاتے ہی میرا ہاتھ انگلیوں سمیت جل گیا ہے۔
ہم نے دیکھا واقعی اس کا ہاتھ بالکل سیاہ ہوچکا تھا۔ اس نے سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا میں نے اس کی قبر پر مٹی ڈالی اور واپس لوٹ آیا۔ اگر اب میں نہ روؤں تو کون روئے گا؟ ہم نے پوچھا تیرے بھائی کاکوئی عمل ایسا بھی تھا جس کے باعث اسے یہ سزا ملی۔ اس نے کہا وہ اپنے مال کی زکوٰۃ نہیں دیتا تھا۔ ہم بے ساختہ پکار اُٹھے یہ فرمانِ الٰہی کی تصدیق ہے۔ جو لوگ ہمارے فضل سے عطا کردہ مال میں بخل کرتے ہیں وہ اسے اپنے لیے بہتر نہ سمجھیں بلکہ یہ ان کے لیے مصیبت ہے۔ عن قریب قیامت کے دن انہیں طوق پہنایا جائے گا۔ (قرآن مقدس) تیرے بھائی کو قیامت سے پہلے ہی عذاب دے دیا گیا۔ (مکاشفۃ القلوب، ص۱۶۵)
اللہ رب العزت تمام مسلمانوں کو اچھی طرح زکوٰۃ ادا کرنے اور ا س کو صحیح جگہ دینے کی توفیق بخشے۔ (آمین)
error: Content is protected !!