تصور ِشیخ

تصور ِشیخ

  خلوت میں  آوازوں  سے دور، رُو بمکانِ شیخ،اور وصال ہوگیا تو جس طرف مزارِ شیخ ہو ادھر متوجہ بیٹھے،محض خاموش،باادب ،بکمالِ خشوع صورتِ شیخ کا تصور کرے اور اپنے آپ کو اس کے حضور حاضر جانے اور یہ خیال دل میں  جمائے کہ سرکارِ رسالت علیہ افضل الصلوٰۃ و التحیۃ سے انوار وفیوض شیخ کے قلب پر فائض ہو رہے ہیں ، میرا قلب قلبِ شیخ کے نیچے بحالت ِدَر ُ یوزہ گری (1) لگا ہوا ہے،اس میں  سے انوار وفیوض اُبل اُبل کر میرے دل میں  آرہے ہیں ،اس تصور کو بڑھائے یہاں  تک کہ جم جائے اور تکلف کی حاجت نہ رہے،اس کی انتہا پرصورت ِشیخ خود مُتَمَثِّل ہو کرمرید کے ساتھ رہے گی اور ہر کام میں  مدد کرے گی اور اس راہ میں  جو مشکل اسے پیش آئے گی اس کا حل بتائے گی۔
تنبیہ:اذکارو اشغال میں مشغولی سے پہلے اگر قضاء نمازیں  یاروزے ہوں  ان کاادا کرنا جس قدر ممکن ہو نہایت ضرور ہے،جس پر فرض باقی ہو اس کے نفل واعمالِ مستحبہ کام نہیں  دیتے بلکہ قبول نہیں  ہوتے جب تک فرض ادا نہ کرلے۔اَذکارو اَشغال کے لئے تین بَدْرَقوں  (1)کی ضرورت ہے تقلیل ِ طعام (کم کھانا) تقلیل ِ کلام (کم بولنا) تقلیل ِ مَنام(کم سونا)۔ 
وَبِاللہِ التَّوْفِیْق
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… یعنی سائل کی طرح

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *