Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

میلاد شریف

اس مجلس میں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی ولادت با سعادت کا بیان اور اسی کے ضمن میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے فضائل و معجزات اور آپ کی سیرت مبارکہ اور آپ کی مقدس زندگی کے حالات کا ذکر جمیل ہوتا ہے۔ ان چیزوں کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے اور حدیثوں میں بھی بکثرت ان باتوں کا ذکر ہے اگر مسلمان اپنی محفل میں ان مقدس مضامین کو بیان کریں بلکہ خاص ان باتوں کے بیان کرنے کے لئے محفل منعقد کریں تو اس کے ناجائز ہونے کی بھلا کون سی وجہ ہوسکتی ہے۔ بلا شبہ یقیناً یہ مجلس  جائز بلکہ مستحب اور باعث اجر و ثواب ہے۔ اس مجلس کے لئے لوگوں کو بلانا اور شریک کرنا یقیناً ایک خیر کی طرف بلانا ہے جو ثواب کا کام ہے جس طرح وعظ اور جلسوں کے اعلان کئے جاتے ہیں اور تاریخ مقرر کرکے اشتہار چھاپے جاتے ہیں اور اعلان کر کے لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے اور ان باتوں کی وجہ سے وہ وعظ اور جلسے ناجائز نہیں ہو جاتے اسی طرح میلاد شریف کے لئے بلاوا دینے سے اس مجلس کو ناجائز اور بدعت نہیں کہا جا سکتا۔
    اسی طرح میلاد شریف میں شیرینی بانٹنا بھی جائز ہے۔ مٹھائی بانٹنا مسلمانوں کے ساتھ ایک نیک سلوک اور احسان کرنا ہے جب میلاد شریف کی محفل جائز ہے تو مٹھائی بانٹنا جو ایک جائز اور نیک کام ہے اس محفل کو ناجائز نہیں کردے گا۔ میلاد شریف کی مجلس میں ذکر ولادت کے وقت کھڑے ہو کر صلوۃ و سلام پڑھتے ہیں عرب و عجم کے بڑے بڑے علماء کرام اور مفتیان عظام نے اس قیام اور صلوۃ و سلام کو مستحب فرمایا ہے اس لئے کھڑے ہو کر سلام پڑھنا یقیناً جائز اور ثواب کا کام ہے بعض اکابر اولیاء کو میلاد شریف کی مجلس پاک میں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی زیارت کا شرف بھی حاصل ہوا ہے اگرچہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ضرور ہی اس مجلس میلاد شریف میں تشریف لاتے ہیں لیکن اگر وہ اپنے کسی امتی پر اپنا خاص کرم فرمائیں اور تشریف لائیں تو یہ کوئی محال بات بھی نہیں۔ بہت سے غلاموں کو آقائے نامدار نے نوازا ہے اور اپنے دیدار انور سے مشرف فرماتے رہیں گے کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو حیات جاودانی عطا فرمائی ہے اور ان کو بڑی بڑی طاقتوں کا بادشاہ بلکہ شہنشاہ بنایا ہے
اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَ بَارِکْ عَلٰی حَبِیْبِکَ سُلْطَانِ الْعٰلَمِیْنَ وَاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہِ الْمُکَرَّمِیْنَ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنَO     (بہارشریعت،ج۳،ح۱۶،ص۲۴۵۔۲۴۶)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!