Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

مدرسہ یا جامعہ میں زکوٰۃ دینا

    اگر مدرسہ یا جامعہ اہلِ حق کا ہے بدمذہبوں کا نہیں تو اس میں مالِ زکوٰۃ اس شرط پر دیا جاسکتا ہے کہ مُہْتَمِم (ناظم) اس مال کو جدا رکھے اور محض تملیک ِ فقیر میں صرف کرے مثلاً طَلَبہ کو بطورِ امداد جو وظیفہ دیا جاتا ہے اس میں دے یا کتابیں یا کپڑے خرید کر طلبہ کو ان کا مالک بنا دے یا بیمار ہونے کی صورت میں دوائی خرید کر انہیں اس کا مالک بنا دے ۔ مدرسین یا دیگر عملے کی تنخواہ اس مال سے نہیں دی جاسکتی کیونکہ تنخواہ معاوضہ عمل ہے اور زکوٰۃ خالصاً اللہ تعالیٰ کے لئے ہے ، اور نہ ہی تعمیرات وغیرہ میں استعمال کی جاسکتی ہے اور نہ ہی طلبہ کے لئے پکائے گئے کھانے میں استعمال ہوسکتی ہے کیونکہ یہ کھانا انہیں بطورِ اِباحت کھلایا جاتا ہے مالک نہیں بنایا جاتا ہے لیکن اگر کھانا دے کر انہیں مالک بنادیا جائے تو دُرُست ہے ۔ ہاں! اگرزکوٰۃ کا روپیہ بنیت زکوٰۃ کسی مصرف ِ زکوٰۃ کو دے کر اسے اس کا مالک بنا دیں پھر وہ اپنی طرف سے مدرسہ یا جامعہ کو دے دے تو اب یہ رقم تنخواہِ مدرسین اور تعمیرات وغیرہ میں استعمال ہوسکتی ہے۔ (ماخوذ از فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجَہ،ج۱۰، ص۲۵۴)
error: Content is protected !!