محراب اَبرو

آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کی  بھوئیں دراز و باریک اور گھنے بال والی تھیں اور دونوں بھوئیں اس قدر متصل تھیں کہ دور سے دونوں ملی ہوئی معلوم ہوتی تھیں اور ان دونوں بھوؤں کے درمیان ایک رگ تھی جو غصہ کے وقت ابھر جاتی تھی۔(1)  (شمائل ترمذی ص۲)
Advertisement
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ابروئے مبارک کی مد ح میں فرماتے ہیں کہ    ؎
جن کے سجدے کو محرابِ کعبہ جھکی
اُن بھوؤں کی لطافت پہ لاکھوں سلام
اور حضرت محسن کاکوروی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے چہرہ انور میں محراب ابرو کے حسن کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ لکھا کہ ؎
مہ کامل میں مہ نور کی یہ تصویریں ہیں  
یا کھنچی معرکۂ بدر میں شمشیریں ہیں
نورانی آنکھ
         آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی چشمان مبارک بڑی بڑی اور قدرتی طور پر سرمگیں تھیں۔ پلکیں گھنی اور دراز تھیں۔ پتلی کی سیاہی خوب سیاہ اور آنکھ کی سفیدی خوب سفید تھی جن میں باریک باریک سرخ ڈورے تھے۔  (2)(شمائل ترمذی ص۲ و دلائل النبوۃ ص۵۴)
آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس آنکھوں کا یہ اعجاز ہے کہ آپ بہ یک وقت آگے پیچھے، دائیں بائیں، اوپر نیچے،دن رات، اندھیرے اجالے میں یکساں دیکھا
کرتے تھے۔(1)  (زرقانی علی المواہب ج۵ ص۲۴۶ وخصائص کبریٰ ج۱ ص۶۱)
چنانچہ بخاری و مسلم کی روایات میں آیا ہے کہ
اَقِیْمُوا الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ فَوَاللّٰہِ اِنِّیْ لَاَ رَاکُمْ مِنْ بَعْدِیْ(2) (مشکوٰۃ ص۸۲ باب الرکوع) یعنی اے لوگو!تم رکوع و سجود کو درست طریقے سے ادا کرو کیونکہ خدا کی قسم! میں تم لوگوں کو اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا رہتا ہوں۔
صاحب ِمرقاۃ نے اس حدیث کی شرح میں فرمایا کہ ” وَھِیَ مِنَ الْخَوَارِقِ الَّتِیْ اُعْطِیَھَا عَلَیْہِ السَّلَام”  (3) (حاشیہ مشکوٰۃ ص۸۲ باب الرکوع) یعنی یہ باب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے  ان معجزات میں سے ہے جو آپ کو عطا کئے گئے ہیں۔
پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کی  آنکھوں کا دیکھنا محسوسات ہی تک محدود نہیں تھا بلکہ آپ غیر مرئی وغیر محسوس چیزوں کو بھی جوآنکھوں سے دیکھنے کے لائق ہی نہیں ہیں دیکھ لیا کرتے تھے۔ چنانچہ بخاری شریف کی ایک روایت ہے کہ وَاللّٰہِ مَا یَخْفٰی عَلَیَّ رَکُوْعُکُمْ وَلَا خُشُوْعُکُمْ (4)  (بخاری ج۱ ص۵۹)
یعنی خدا کی قسم! تمہارا رکوع و خشوع میری نگاہوں سے پوشیدہ نہیں رہتا۔ سبحان اﷲ!پیارے مصطفی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی نورانی آنکھوں کے اعجاز کا کیا کہنا؟کہ پیٹھ کے پیچھے سے نمازیوں کے رکوع بلکہ ان کے خشوع کو بھی دیکھ رہے ہیں۔
“خشوع” کیا چیزہے ؟خشوع دل میں خوف اور عاجزی کی ایک کیفیت کا نام ہے جو آنکھ سے دیکھنے کی چیز ہی نہیں ہے مگر نگاہ نبوت کا یہ معجزہ دیکھو کہ ایسی چیز کو بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے  اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا جو آنکھ سے دیکھنے کے قابل ہی نہیں ہے۔ سبحان اﷲ! چشمانِ مصطفی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اعجاز کی شان کا کیا کوئی بیان کر سکتا ہے؟ اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب قبلہ بریلوی قدس سرہٗ نے کیا خوب فرمایا   ؎
شش جہت سمت مقابل شب و روز ایک ہی حال
دھوم “والنجم”  میں    ہے  آپ  کی بینائی  کی
فرش  تا عرش سب       آئینہ  ضمائر    حاضر
بس قسم کھائیے   امی     تری   دانائی   کی
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!