اسلام

عیسائیوں کا مباہلہ سے فرار

نجران (یمن)کے نصرانیوں کا ایک وفد مدینہ منورہ آیا۔ یہ چودہ آدمیوں کی جماعت تھی جو سب کے سب نجران کے اشراف تھے اور اس وفد کی قیادت کرنے والے تین شخص تھے :۔
(۱) ابو حارثہ بن علقمہ جو عیسائیوں کا پوپ اعظم تھا۔
(۲) اُہیب جو ان لوگوں کا سردار اعظم تھا ۔ 
(۳) عبدالمسیح جو سردار اعظم کا نائب تھا اور ”عاقب”کہلاتا تھا۔ 
    یہ سب نمائندے نہایت قیمتی اور نفیس لباس پہن کر عصر کے بعد مسجد نبوی میں داخل ہوئے اور اپنے قبلہ کی طرف منہ کر کے اپنی نماز ادا کی۔ پھر ابو حارثہ اور ایک دوسرا شخص دونوں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ نے نہایت کریمانہ لہجے میں ان دونوں سے گفتگو فرمائی۔ اور حسب ذیل مکالمہ ہوا!
نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:تم لوگ اسلام قبول کر کے اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار بن جاؤ۔
ابو حارثہ : ہم لوگ پہلے ہی سے اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہوچکے ہیں۔
نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:تم لوگوں کا یہ کہنا صحیح نہیں کیونکہ تم لوگ صلیب کی پرستش کرتے ہو اور اللہ کے لئے بیٹا بتاتے ہو، اور خنزیر کھاتے ہو۔
ابو حارثہ :آپ لوگ ہمارے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں کیوں دیتے ہو؟
نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:ہم لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کیا کہتے ہیں
ابو حارثہ : آپ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بندہ کہتے ہیں حالانکہ وہ خدا کے بیٹے ہیں۔
نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:ہاں!ہم یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بندے اور اس کے رسول      ہیں اور وہ کلمۃ اللہ جو کنواری مریم کے شکم سے بغیر باپ کے اللہ تعالیٰ کے حکم
     سے پیدا ہوئے۔
ابو حارثہ :کیا کوئی انسان بغیر باپ کے پیدا ہوسکتا ہے؟ جب آپ لوگ یہ مانتے ہیں کہ 
     کوئی انسان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باپ نہیں تو پھر آپ لوگوں کو یہ ماننا پڑے 
     گا کہ اُن کا باپ اللہ تعالیٰ ہے۔
نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:اگر کسی کا با پ کوئی انسان نہ ہو تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کا باپ خدا ہی      ہو۔ خداوند تعالیٰ اگر چاہے تو بغیر باپ کے بھی آدمی پیدا ہو سکتا ہے۔ 
     دیکھوحضرت آدم علیہ السلام کو تو بغیر ماں باپ کے اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا 
     فرما دیا اگر اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کردیا تو اس 
     میں تعجب کی کون سی بات ہے؟ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس پیغمبرانہ طرزِ استدلال اور حکیمانہ گفتگو سے چاہے تو یہ تھا کہ یہ وفد اپنی نصرانیت کو چھوڑ کر دامنِ اسلام میں آجاتا مگر ان لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جھگڑا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ بحث و تکرار کا سلسلہ بہت دراز ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے سورہ آلِ عمران کی یہ آیت نازل فرمائی:۔  (روح البیان،ج۲،ص۴۳،پ۳،آل عمران:۵۹) فَمَنْ حَآجَّکَ فِیۡہِ مِنۡۢ بَعْدِ مَا جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَ نَا وَاَبْنَآءَکُمْ وَ نِسَآءَ نَا وَ نِسَآءَکُمْ وَاَنۡفُسَنَا وَاَنۡفُسَکُمْ ۟ ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللہِ عَلَی الْکٰذِبِیۡنَ ﴿61﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔پھر اے محبوب جو تم سے عیسیٰ کے بارے میں حجت کریں بعد اس کے کہ تمہیں علم آچکا تو ان سے فرما دو آؤ ہم تم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں پھر مباہلہ کریں تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں۔ (پ3،آل عمران:61)
قرآن کی اس دعوتِ مباہلہ کو ابو حارثہ نے منظور کرلیا۔ اور طے پایا کہ صبح نکل کر میدان میں مباہلہ کریں گے لیکن جب ابو حارثہ نصرانیوں کے پاس پہنچا تو اس نے اپنے آدمیوں سے کہا کہ اے میری قوم! تم لوگوں نے اچھی طرح جان لیا اور پہچان لیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)نبی آخر الزمان ہیں اور خوب یاد رکھو کہ جو قوم کسی نبی برحق کے ساتھ مباہلہ کرتی ہے اس قوم کے چھوٹے بڑے سب ہلاک ہوجاتے ہیں۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ ان سے صلح کرکے اپنے وطن کو واپس چلے چلو اور ہرگز ہرگز ان سے مباہلہ نہ کرو۔ چنانچہ صبح کو ابو حارثہ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے آیا تو یہ دیکھا کہ آپ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گود میں اٹھائے ہوئے اور حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی انگلی تھامے ہوئے ہیں اور حضرت فاطمہ و حضرت علی رضی اللہ عنہما آپ کے پیچھے چل رہے ہیں اور آپ ان لوگوں سے فرما رہے ہیں کہمیں جب دعا کروں تو تم لوگ ”آمین”کہنا یہ منظر دیکھ کر ابو حارثہ خوف سے کانپ اٹھا اور کہنے لگا کہ اے گروہ نصاریٰ! میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان چہروں کی بدولت پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہٹ کر چل پڑے گا۔ لہٰذا اے میری قوم!ہرگز ہرگز مباہلہ نہ کرو ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے اور روئے زمین پر کہیں بھی کوئی نصرانی باقی نہ رہے گا۔ پھر اس نے کہا کہ اے ابو القاسم! ہم آپ سے مباہلہ نہیں کریں گے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے ہی دین پر قائم رہیں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے کہا کہ تم لوگ اسلام قبول کرلوتاکہ تم لوگوں کو مسلمانوں کے حقوق حاصل ہوجائیں، نصرانیوں نے اسلام قبول کرنے سے صاف انکار کردیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ پھر میرے لئے تمہارے ساتھ جنگ کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ یہ سن کر نصرانیوں نے کہا کہ ہم لوگ عربوں سے جنگ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ لہٰذا ہم اس شرط پر صلح کرتے ہیں کہ آپ ہم سے جنگ نہ کریں اور ہم کو اپنے ہی دین پر قائم رہنے دیں اور ہم بطور جزیہ آپ کو ہر سال ایک ہزار کپڑوں کے جوڑے دیتے رہیں گے۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط پر صلح فرمائی اور ان نصرانیوں کے لئے امن و امان کا پروانہ لکھ دیا اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ نجران والوں پر ہلاکت و بربادی آن پہنچی تھی۔ مگر یہ لوگ بچ گئے اگر یہ لوگ مجھ سے مباہلہ کرتے تو مسخ ہو کر بندر اور خنزیر بن جاتے اور ان کی وادی میں ایسی آگ بھڑک اٹھتی کہ نجران کی کل آبادی یہاں تک کہ چرندے اور پرندے جل بھن کر راکھ کا ڈھیر بن جاتے اور رُوئے زمین کے تمام عیسائی سال بھر میں فنا ہوجاتے۔  (روح البیان،ج۲،ص۴۴،پ۳،آل عمران:۶۱)
درسِ ہدایت:۔اس سے معلوم ہوا کہ خدا کے رسولوں کے ساتھ مباہلہ کرنا ہلاکت و بربادی ہے بلکہ انبیاء و اولیاء اور اللہ والوں کا مقابلہ کرنا اور ان لوگوں کی بددعا کا سامنا کرنا، بربادی و ہلاکت ہے بلکہ خدا کے ان محبوب بندوں کی ذرا سی بے ادبی اور دل آزاری بھی انسان کو فنا کے گھاٹ اتار دیتی ہے اور ایسی تباہی و بربادی لاتی ہے جس کا کوئی علاج ہی نہیں۔

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!