۔۔۔۔۔اسم، فعل اور حرف کی علامات کا بیان۔۔۔۔

  علامات ، علامۃکی جمع ہے۔ہر چیز کی کوئی نہ کوئی علامت ہوتی ہے جس سے وہ چیز پہچانی جاتی ہے۔ لہٰذا اسم ،فعل اورحرف کی علامات بیان کی جاتی ہیں۔
۱۔اسم کی علامات:
    ۱۔ شروع میں الف لام کا ہونا۔جیسے:اَلْحَمْدُ۔ ۲۔آخر میں تنوین کا ہونا۔ جیسے:زَیْدٌ۔ ۳۔ تثنیہ ہونا(۱)۔جیسے:کِتَابَانِ۔ ۴۔جمع ہونا۔جیسے:مُسْلِمُوْنَ۔ ۵۔مذکر ہونا۔ جیسے:ضَارِبٌ۔ ۶۔مؤنث ہونا۔جیسے:ضَارِبَۃٌ۔ ۷۔ شروع میں حرف نداء کا ہونا۔جیسے:یَا یُوْسُفُ۔ ۸۔ شروع میں حرف جر کا ہونا۔ جیسے:فِی الْقَافِلَۃِ۔ ۹۔موصوف ہونا۔جیسے:عَبْدٌ مُؤمِنٌ میں عَبْدٌ۔ ۱۰۔ منسوب ہونا۔جیسے:رَضَوِیٌّ، مَکِّیٌّ۔۱۱۔مضاف ہونا۔ جیسے:طِفْلُ زَیْدٍ میں طِفْلُ۔ ۱۲۔مسند الیہ ہونا۔جیسے:زَیْدٌ قَائِمٌ میں زَیْدٌ۔ ۱۳۔مصغر ہونا۔جیسے:حُسَیْنٌ۔
۲۔فعل کی علامات:
    ۱۔ماضی ہونا ۔ جیسے:نَصَرَ۔ ۲۔ مضارع ہونا۔ جیسے:یَنْصُرُ۔ ۳۔امر ہونا۔ جیسے :اُنْصُرْ۔ ۴۔ نہی ہونا۔ جیسے:لاَ تَنْصُرْ۔ ۵۔شروع میں قدکا ہو نا۔ جیسے:قَدْ دَخَلَ۔ ۶۔ شروع
میں سین یا سوف کا ہونا۔جیسے: سَیَعْلَمُ، سَوْفَ یَعْلَمُ۔ ۷۔شروع میں حروف جوازم میں سے کسی حرف کا ہونا ۔ جیسے:لَمْ یَضْرِبْ۔ ۸۔ شروع میں حروف نواصب میں سے کسی حرف کا ہونا ۔ جیسے:لَنْ یَّضْرِبَ۔ ۹۔آخر میں نون تاکید کا ملا ہونا چاہے ثقیلہ ہو یا خفیفہ ۔ جیسے :لَیَضْرِبَنَّ، لَیَضْرِبَنْ۔ ۱۰۔ آخر میں تائے ساکنہ کا ہونا۔ جیسے :دَخَلَتْ۔ ۱۱۔ آخر میں ضمیر مرفوع متصل بارز کا ہونا۔ جیسے:خَرَجْتُ۔ ۱۲۔صرف مسند ہونا۔جیسے : ضَرَبَ زَیْدٌ میں ضَرَبَ۔
1۔۔۔۔۔۔فعل کے وہ صیغے جو تثنیہ اور جمع کہلاتے ہیں جیسے:ضَرَبَا اور ضَرَبُوْا وہ فاعل کے اعتبار سے ہیں ورنہ فعل تثنیہ یا جمع نہیں ہوتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *