شبِ عروسی عبادت میں گزری اور تخلیق انسانی کا مقصد

شبِ عروسی عبادت میں گزری
جب آسمانِ رِسَالَت پر حضر تِ سیِّدَتُنا فاطِمہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کا آفتابِ حُسْن وجَمال چمکا اور اُفُقِ عَظَمَت و جَلَالَت پر آپ کا بَدْرِ کمال طُلوع ہوا، تو نیک خَصْلَت ذِہْنوں میں آپ کا خَیال آیا، مُہاجِرین و اَنْصَار کے مُعَزَّزین نے پیغامِ نِکاح دیا۔ لیکن رَضائے الٰہی کے ساتھ مَخْصُوص ذاتِ اَقدَس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جواباً اِرشَاد فرمایا:میں خُدائی فیصلے کا مُنْتَظِر ہوں۔بالآخر جب حضرت سَیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ، شیر خُدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے نِکاح کا پیغام دیا تو مَحْبُوبِ خُدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا چہرۂ اَنْوَر خوشی و مَسَرَّت سے کھِل اُٹھا اور مُناسِب اِنْتِظامات کے بعد (ہجرت کے دوسرے سال ماہِ صفر المظفّر میں(2)) اپنی لَخْتِ جِگَر کا نِکاح فرما دیا۔ جب اس نِکاح کو ایک مہینہ گزر گیا تو سَیِّدُنا علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی خواہش پر حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بَہُت بڑی دَعْوَتِ طَعام کا اِہتِمام فرمایا اور پھر خود پیدل چل کر کاشانۂ علی تک تشریف لائے اور دُعا دیتے ہوئے سیّدہ خاتونِ جنّت کو رُخْصَت فرمایا۔ جب رات کا اندھیرا چھا گیا اور سَیِّدُنا علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سیّدہ فاطمہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے مَحَبَّت بھری گفتگو فرمانے لگے تو اچانک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے رونا شروع کر دیا۔شیرِ خُدا رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حیران ہو کر جب اس اَشک باری کی وجہ دَرْیَافْت کی تو فرمانے لگیں:میں تو اپنی اُس حَالَت و مُعَامَلے کے متعلِّق سوچ کر رو رہی ہوں کہ جب میری عُمْر  بِیت جائے گی اور مجھے قَبْر میں داخِل کر دیا جائے گا، آج میرا عزّت و فَخْر کے بِسْتَر میں داخِل ہونا کل قَبْر میں داخِل ہونے کی مَانِنْد ہے۔
 لِہٰذا چاہیے کہ آج رات ہم اپنے رب عَزَّ  وَجَلَّکی بارگاہ میں کھڑے ہو کر عِبَادَت کریں کہ وُہی عِبَادَت کا زیادہ حَق رکھتا ہے۔چُنَانْچِہ اس کے بعد دونوں پاک ہستیاں اٹھیں اور ربّ ِقدیر عَزَّ وَجَلَّ کی عِبَادَت میں مَشْغُول ہوگئیں۔(1)
تخلیق انسانی کا مقصد 
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!شادی خانہ آبادی بلاشبہ دو۲ اَفراد کے درمیان ایک ایسے بندھن کا نام ہے جس کے دَوَام کیلئے ذہنی ہم آہنگی اور ہم مِزاجی کا اِعْتِبَار اور لِـحَاظ بَہُت ضَروری ہے۔چُنَانْچِہ جب دو۲ ہَم مِزاج اَفراد کے درمیان یہ رشتہ قائم ہوتا ہے تو جہاں ان کی خوشی کا ٹھکانا نہیں ہوتا وہیں وہ خوشی کے ان لمحات کو سمیٹنے میں اس قَدْر مگن ہو جاتے ہیں کہ بسا اَوقات انہیں کسی دوسرے کی کیا اپنی خَبَر تک نہیں رہتی۔ مگر قربان جائیے! سیّدہ خاتونِ جنت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی مَدَنی سوچ پر! جب یہ پاکیزہ بندھن میں بندھیں تو انہوں نے دنیا کی اس حقیقت سے منہ نہ موڑا کہ آج اگرچہ انہیں دلہن بنا کر ان کے دامَن کو خوشیوں سے بھر دیا گیا ہے مگر کل ان کا جَنازہ بھی تو اُٹھایا جانے والا ہے،کیونکہ یہی دنیا ہے کہ ایک طرف خوشی کے شادیانے بج رہے ہوتے ہیں تودوسری طرف کسی کی میّت پر آہ و فُغاں کا شور ہوتا ہے۔
نسیمِ صُبْح گُلشن میں گُلوں سے کھیلتی ہوگی
کسی کی آخِری ہچکی کسی کی دِل لگی ہوگی
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
لِہٰذا اس وَقْت بھی سیِّدہ خاتونِ جنّت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے نہ صِرف ایک نبی کی بیٹی ہونے کا حَق ادا کیا بلکہ یہ بھی ثابِت کر دیا کہ آپ واقعی جنّت کی تمام عورتوں کی سردارہیں۔ کیونکہ جہاں آپ نے مَـحْبُوب ربِّ دَاوَر، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمانِ عالیشان پر عَمَل کیا:عَقْل مند اور سمجھدار وہ ہے جو اپنے نَفْس کا مُحَاسَبہ کرے اور موت کے بعد والی زِنْدَگی کےلئے عَمَل کرے۔وہیں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا اپنے رب کی یاد سے بھی غافِل نہ ہوئیں،بلکہ اس بات کو پیشِ نَظَر رکھا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں اس دنیا میں مَحْض لذّتوں کے حُصُول اور نفسانی خواہشات پوری کرنے کے لیے نہیں بھیجا بلکہ صِرف اور صِرف اپنی عبادَت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ جیسا کہ پارہ 27 سورةُ الذّٰریٰت کی آیت نمبر 56میں اِرشَاد ہوتا ہے:
وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶) (پ۲۷، الذّٰریٰت:۵۶)
 ترجمۂ کنز الایمان:اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی (اسی لیے) بنائے کہ میری بندگی کریں۔ 
سَیِّدہ خاتونِ جنّت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے اس عَمَل کو گویا خلیفۂ اعلیٰ حضرت، مُحَدِّثِ اَعْظَم ہند حضرت مولانا شاہ ابو المحامِد سَیِّد محمد اشرفی جیلانی کچھوچھوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْقَوِی نے اپنے اس شعر میں کیا خوب بیان فرمایا ہے:
دِن کو ہشیار رہو رات کو بیدار رہو
چَین کی نیند کہاں ملتی ہے تُرْبَت کے سِوا(1)
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *