جامعہ نظامیہ سے فیضیاب ادارے

جامعہ نظامیہ 
سے فیضیاب ادارے

از:  شاہ محمد فصیح الدین نظامی، مہتمم کتب خانہ جامعہ نظامیہ‘ حیدرآباد

مرکز علم و ادب جامعہ نظامیہ کا فیضان افراد کے ساتھ ساتھ ادارے بھی حاصل کرتے ہیں، ذیل میں چند اداروں کا تعارف پیش کیا جاتا ہے :
مجلس احیاء المعارف النعمانیہ 
اللہ تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے اسباب بھی پیدا کردیتا ہے۔ چنانچہ جب اللہ نے چاہا کہ علوم اسلامیہ کی حفاظت و صیانت ہوسکے اور ضیاع تلف سے محفوظ رہیں تو اس کی جمع و تدوین کی ذمہ داری حضرت علامہ ابوالوفا الافغانی رحمۃ اللہ علیہ کے کندھوں پر ڈالدی۔ اس اعلیٰ مقصد کی تکمیل کی غرض سے آپ نے جامعہ نظامیہ کی تدریس سے مستعفی ہوکر اقطاع عالم میں بکھرے ہوئے فقہ حنفی کی تائید میں مخطوطات و مطبوعات اکٹھا کرکے ان کی نشر و اشاعت کا بیڑا اٹھایا۔ اس عظیم منصوبے میں باقاعدگی لانے کے لئے مولانا ابو الوفاء رحمہ اللہ نے نظامیہ کے فارغین کے سامنے ایک مجلس علمی کی تاسیس کی تجویز پیش کی جس پر سب نے اتفاق کیا اور ایک علمی مجلس تشکیل پائی جس کو بالاتفاق ’’مجلس احیاء المعارف النعمانیہ‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اور متفقہ طور پر مولاناابو الوفاء ؒ کو اس مجلس کا صدر و سرپرست منتخب کرلیا گیا۔ مولانا ممدوح نے اس عظیم کام کے لئے تن من دھن کی بازی لگادی۔ اس مبارک مقصد کے حصول کے لئے کبار علماء کرام آپ کے ساتھ ہوگئے اور آپ کے فاضل تلامذہ جن کو فقہ اسلامی سے گہرا شغف اور تحقیق و تعلیق میں دیرینہ تجربہ حاصل تھا آپ کے ممدو معاون بن گئے۔ جنمیں قابل ذکر مولانا مفتی سید محمود، مولانا مفتی مخدوم بیگ، مولانا مفتی محمد رحیم الدین، مولانا مفتی محمد عبدالحمید، مولانا حکیم محمد حسین شیخ الحدیث۔ مولانا قاری محمد عبدالرحمن بن محفوظ رحمھم اللہ ہیں۔ 
اس عظیم پراجکٹ میں مولانا ممدوح نے فارغین نظامیہ کے علاوہ دیگر علماء کرام کی بھی خدمات سے استفادہ کیا اور ان کومجلس احیاء المعارف النعمانیہ کی رکنیت بھی عطا کی ان میں قابل ذکر علامہ انور شاہ کشمیری، مولانا مفتی مہدی حسن، مولانا شیخ حبیب الرحمن اعظمی اور علامہ محمد زاہدکوثری نے تو اپنی شخصی دلچسپی سے مولانا کے لئے  قیمتی و نادر مخطوطات جمع کئے جس کی وجہ سے مجلس النعمانیہ کے مکتبہ میں قابل لحاظ تعداد میں نادر مخطوطات جمع ہوگئے۔ نیز علامہ کوثری ہی کی توجہ پر مولانا شیخ رضوان محمد رضوان مصری کو احیاء المعارف کا وکیل بنایاگیا جن کی مخلصانہ کوشش کی بناء پراحیاء المعارف کی کتابیں عمدہ تصحیح و تعلیق کے ساتھ پہلی مرتبہ مصر سے چھپ سکیں پھر اس کی طباعت حیدرآباد میں ہونے لگی۔ 
اس علمی مجلس کے اہم اراکین میں قابل ذکر ڈاکٹر حمید اللہؒ اور پروفیسر مولانا محمد عبدالستار خان صاحب سابق صدر شعبہ عربی جامعہ عثمانیہ ہیں۔ 
مجلس احیاء المعارف کی جانب سے اب تک سترہ کتابیں زیور طباعت سے آراستہ ہوکر قارئیں کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہیں۔ 
اب مجلس احیاء المعارف النعمانیہ  کی مطبوعات کا مختصر ذکر کیا جاتا ہے۔
۱۔ کتاب العالم والمتعلم: 
اس کتاب کو ابو مقتل نے امام اعظمؒ سے روایت کی ہے سوال و جواب کے پیرایہ میں لکھی گئی ہے جو عقائد ونصائح پر مشتمل ہے۔ شاید اس کے مصحح ومحشی مولانا افغانی ہی ہوں، مجلس نے جب اس کی اشاعت کا ارادہ کیا تو صرف ایک نسخہ رامپور کے شاہی کتب خانہ میں دستیاب ہوا جس میں بے حد اغلاط تھے اس نسخہ کو اصل قرار دیکر حاشیہ میں ایک حد تک تصحیح کی گئی۔ چھپنے پر ایک اور نسخہ مل گیا جس کی بناء پر دوسری اشاعت میں اس سے استفادہ کاوعدہ کیا گیا۔ کل صفحات 31تھے۔ حیدرآباد میں شائع کی گئی اس طرح مجلس کے کام کی ابتداء کی گئی۔
۲۔شرح کتاب النفقات: 
یہ امام ابو محمد حسام الدین عمر بن عبدالعزیز بخاریؒ المعروف بہ اسعد الشہید کی تصنیف ہے جو دراصل امام ابوبکر احمد عمرو بن مہیر الخصاف الشیبانیؒ کی کتاب النفقات کی شرح ہے۔ کتب خانہ شیخ الاسلام مدینہ منورہ میںاس کے دوقلمی نسخے تھے دونوں کا مقابلہ کروا کر ایک کی نقل منگوائی گئی مگر پھر بھی یہ اغلاط سے پر تھا۔ النفقات کی عبارت میں جگہ جگہ محیط برہانی کے حوالے موجود ہیں اس لئے ا س کی تصحیح میں محیط سے بڑی مدد ملی۔ اس کی تصحیح مولانا افغانی اور مولانا رحیم الدین و مولاناحبیب عبداللہ بن احمد بن مدیحج علوی حضرمی ارکان مجلس نے کی اس کے کل صفحات (56)ہیں اور یہ حیدرآباد ہی میں چھپی۔
۳۔ کتاب الآثار للامام القاضی ابی یوسف ؒ: 
اس کی روایات امام ابویوسفؒ کے صاحبزادہ ابومحمد یوسف بن یعقوب نے کی ہے اس کو مسندِ ابو یوسف بھی کہتے ہیں۔ یہ دراصل مسند الامام اعظمؒ ہے۔ اس میں امام ابویوسف نے امام صاحب سے روایت کی ہے اور بعض مقامات میںاپنی خود کی روایت و آراء کا اضافہ کیاہے۔ اس کا صرف ایک ہی نسخہ دار الکتب المصریہ میں مل سکاجو کہ نہایت ناقص تھا تقدیم و تاخیر کے علاوہ درمیان کے بعض اوراق غائب تھے۔ کتاب النکاح، کتب الایمان، کتاب الرداور کتاب الشہادت ناقص تھے۔ تقدیم وتاخیر کی وجہ سے کتاب الطہارت میں کتاب الصلوۃ کے آثار، کتاب النکاح میں کتاب الطلاق کے آثار اور مختلف ابواب میں بھی آثار کی بڑی بے ترتیبی تھی مولانا نے بڑی محنت سے اس کی تصحیح دیگر کتب حدیث سے کی۔ بڑی کاوش سے رواۃ کا ذکر، حل اللغات، اور فقہی تعلیقات لکھیں۔ یہ مجلس کی پہلی معیاری پیش کش تھی۔
اصل کتاب کے (۲۴۲) صفحات ہیں۔ رواۃ اسماء اور ابواب موضوعات کی فہرستیں (۲۶) صفحات پر ہیں اور کتاب الآثار کے بارے میں (۶) صفحات کا مقدمہ بھی شامل ہے حاشیہ باریک ٹائپ میں ہے اور آثار پر ترتیب وار نمبرات درج ہیں۔ یہ قاہرہ میں مجلس کے وکیل رضوان محمد رضوان کی نگرانی میں اعلی پیمانہ پر چھپی۔
۴۔الجامع الکبیر ۔ للامام محمد بن الحسن الشیبانیؒ:
امام محمد شجاع شلجی کے الفاظ میں جامع کبیر جیسی کوئی دوسری کتاب فقہ کے موضوع پر نہیں ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ ایک بلند وبالا محل بنایا گیا جیسے جیسے وہ اونچا ہوتا گیا اس کی سیڑھیاں بڑھتی گئیں اور جب مکمل ہوگیا تو اس کی ساری سیڑھیاں گرادی گئی اور لوگوں سے کہا گیا کہ لو اب چڑھو۔ امام محمد کی اس کتاب کا ایک کامل نسخہ استنبول کے نسخہ کی نقل منگوائی گئی اور مصر والے نسخہ کا فوٹو حاصل کیا گیا اور ہندوستان میں بعد از تلاش بسیار کتب خانہ صاحبزادہ عبدالرحیم (ٹونک) میں بھی ایک مکمل نسخہ ملا۔ جس کو مولانا نے نہایت ہی مختصر مدت میں خود وہاں جاکر نقل کیا جس پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا سلیمان ندوی نے کہا تھا کہ صاحب موصوف نے متاخرین کے کارناموں کی یاد تازہ کردی و نیز شرح الکبیر (العتابی) کی نقل حلب سے شیخ محمد راغب طباخ نے روانہ کی۔ مولانا افغانی نے نہایت محنت سے بعد تصحیح شائع فرمائی۔ یہ کتاب بھی مجلس کے متذکرہ وکیل کی نگرانی میں قاہرہ سے چھی۔ کل صفحات (۳۷۶) ہیں۔
۵۔کتاب الرد علی سیر الاوزاعی: للامام القاضی ابو یوسفؒ۔ 
امام محمد کی کتاب السیر الصغیر کو امام اوزاعی نے دیکھا تو کہا کہ اہل عراق فن سیر و مغازی کیا جانیں صحابہ تو حجاز و شام میں تھے۔ عراق (اسلام کے لئے ) نیا شہر ہے۔
چنانچہ امام اوزاعی نے بھی فن سیر میں ایک کتاب لکھی چونکہ سیر و مغازی کا فن امام محمد و امام ابو یوسفؒ نے امام اعظمؒ سے سیکھا تھا۔ اس سے ان دونوں حضرات نے اس اعتراض کو امام اعظمؒ پر اعتراض تصور کیا امام محمدؒ نے جواب الجواب کے طور پر ’’السیر الکبیر‘‘ لکھی جس میں امام اوزاعی کی کتاب، السیر، کے بعض مقامات کا ضمنا رد لکھا مگر امام ابویوسف ؒ نے کتاب الرد علی سیر الاوزاعی لکھی جو کہ مستقل رد ہے۔ اس کا صرف ایک ہی نسخہ مل سکا مولانا ممدوح نے اس کی تصحیح و تعلیق کی اور عالمانہ حواشی لکھ کر وکیل مذکور کے اہتمام سے مصر میں طبع کروائی۔اس کے کل (۱۳۵) صفحات ہیں۔
۶۔اختلاف ابی حنیفہؒ و ابن ابی لیلیؒ : للقاضی الامام ابی یوسف۔ 
اس کتاب میں امام ابویوسف نے اپنے دونوں اساتذہ کے اختلاف کو جمع کیا ہے امام صاحب پہلے ابن ابی لیلی سے تعلیم حاصل کرتے تھے بعد میں امام اعظمؒ کے ہاں حاضر ہوئے۔ ان دونوں حضرات کے درمیان جو اختلاف فقہی مسائل میں تھا اس کو اس کتاب میں جمع کیا ہے۔
امام صاحبؒ نے اس کتاب میں احادیث و آثار مرفوعہ و موقوفہ ومسندہ منقطعہ کو کثیر تعداد میں جمع کیاہے۔ جو بڑی اہمیت کی چیز ہے اس کا بھی صرف ایک نسخہ ہندوستان ہی میں مل سکا۔ تعلیق و تصحیح کے بعد مصر سے شائع کیا گیا، کل صفحات (۲۲۶) ہیں ونیز فہرست (۸) صفحات پر مشتمل ہے۔
۷۔مناقب الامام ابی حنیفہؒ وصاحبیہ ابی یوسفؒ ومحمد بن الحسن۔ 
امام ذہبی کی تصنیف مناقب میں ہے، صفحات (۶۲) مصر میں چھپی۔
۸۔  مختصر الطحاوی۔ 
امام ابوجعفر طحاوی کی فقہ پر مختصر مگر جامع تصنیف ہے۔ جو امام مزنی شافعی کی کتاب مختصر کے طرز پر لکھی گئی۔ مختصر القدوری کی جگہ درس نظامیہ میں شریک کی جانی چاہئے صفحات (۴۷۸) مصر میں چھپی۔
۹۔ اصول السرخسی۔
۱۰۔النکت للسرخسی۔
۱۱۔ شرح الزیادات للعتابی۔
۱۲۔کتاب الحجۃ علی اہل المدینۃ ۔
وغیرہ جیسی معرکۃ الآراء کتابیں اس ادارہ نے حضرت مولانا کی رہنمائی میں شائع کیں اگر یہ کہا جائے کہ آپ بذات خود ایک ادارہ تھے تو بجاہے۔ اس کساد بازاری اور ناقدری کے دور میں ساری عمر ایک گوشہ میں قلم برداشتہ خاموش علم دین کی خدمت کرتے ہوئے آپ نے ہر چیز سے بے نیاز رہ کر ساری عمر گزاردی۔
(بحوالہ علامہ ابو الوفاء افغانی  ؒاہل نظر کی نظر میں )
حضرت علامہ ابو الوفاء الافغانی  ؒ
بلند پایہ محدث و فقیہ بے بدل حضرت ابو الوفاء محمود بن مبارک بن بشیر بن عمر بن کامل، حنفی قادری، افغانی رحمہ اللہ، دس ذی الحجہ ۱۳۱۰ھ کو افغانستان کے مشہور شہر قندھار، تخت ثانی افغانستان میں پیدا ہوئے اور یہیں اپنے والد بزرگوار کے ظل عاطفت میں پروان چرھے۔ 
مولانا ابوالوفاء رحمہ اللہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد اور دیگر مشاہیر علماء سے حاصل کی۔ ابھی آپ چودہ برس کی عمر شریف کے تھے کہ والد بزرگوار نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ شوق تحصیل علم نے آپ کو ترک وطن پر مجبور کیا۔ چنانچہ آپ نے ہندوستان کا رخ کیا اور گجرات کے چند مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد رامپور کے مدرسہ عالیہ میں داخلہ لیا۔ جہاں علوم عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل کی۔ آپ کو اسلامی علوم وفنون سے گہری وارفتگی تھی اسی لئے ان علوم و فنون میں براعت و مہارت پیدا کرنے کے لئے مسلسل جدو جہد کرتے رہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے ۱۳۳۰ ھ میں مدرسہ نظامیہ کا علمی شہرہ سن کر حیدرآباد کا رخ کیا اور مدرسہ نظامیہ(جو آج جامعہ نظامیہ کے نام سے مشہور ہے) میں داخلہ لیا اور اس جامعہ سے انہوں نے اپنا دائمی رشتہ جوڑ لیا۔ یہاں مشاہیر علماء، کامل اساتذہ کرام کی سرپرستی میں محنت شاقہ کے ذریعہ بہت ہی کم وقت میں علوم عقلیہ و نقلیہ میں کمال پید اکرلیا اور عنفو ان شباب ہی میں ایک ممتاز عالم بن گئے اور اپنے رفقاء و زملاء میں سبقت لے گئے۔ 
آپ نے تفسیر، حدیث، فقہ و کلام کے جلیل القدر اساتذہ کرام: حضرت مولاناعبدالصمد قندھاری، حضرت مولانا سید عبدالوہاب، حضرت مولانا مفتی رکن الدین تلمیذ خاص بانی جامعہ نظامیہ رحمھم اللہ سے حاصل کیا۔ حضرت مولانا مفتی رکن الدین رحمہ اللہ کی خدمت میں رہ کر فقہ میںکامل ادراک حاصل کیا ۔ عربی زبان و ادب حضرت مولانا سید ابراہیم رضوی رحمہ اللہ سے اور فارسی زبان و ادب حضرت مولانا حافظ ایوب رحمہ اللہ  سے پڑھا حضرت مولانا شیخ محمد یمانی رحمہ اللہ کی زیر نگرانی قرآنِ مجید حفظ کرنے کے بعد فن قرأت میں دسترس حاصل کیا۔
آپ کا معمول تھا کہ نماز فجر میں اواخر قرآن کو ختم کرتے اور ہر رمضان میں نماز تراویح میں مکمل قرآن مجید ختم کرتے لیکن اپنی عمر کے آخری حصہ مین اپنے شاگرد عزیز مولانا حافظ مفتی ابراہیم خلیل صاحب سے نماز تراویح میں قرآن مجید سماعت فرمانے لگے اور خود مسلسل پینتیس برس تک محلہ کی مسجد میں صلواتِ خمسہ کی امامت فرماتے رہے۔ 
حضرت شیخ الاسلام ؒ سے استفادہ:
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ حضرت مولانا ابو الوفا رحمہ اللہ کا جامعہ نظامیہ میں داخلہ بانی نظامیہ عارف باللہ حضرت مولانا حافظ انوار اللہ فاروقی فضیلت جنگ رحمہ اللہ کی منظوری سے ہوا تھا۔ حضرت مولانا ابو الوفاء کے علمی ذوق و شوق کی وجہ سے بانی علیہ الرحمہ آپ کو بہت چاہتے تھے۔ اور مولانا ابو الوفاء رحمہ اللہ بانی علیہ الرحمہ کی خدمت میں رہ کر ان سے خوب استفادہ فرمایا۔ 
علمی مرتبہ و مقام: 
مولاناابو الوفاء رحمہ اللہ ایک جلیل القدر عالم با عمل تھے۔ علوم عقلیہ و نقلیہ بالخصوص حدیث نبوی ﷺ، فقہ حنفی پر گہری نظر تھی۔ فن قرأت ، نظم قرآن، رسم قرآن اور تاریخِ اسلام کا وسیع مطالعہ تھا۔ مذاہب اربعہ کے اصول و فروع میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔ اسی سبب سے آپ کو دکن میں فقہ حنفی کا امام مانا جاتا تھا۔ 
قدیم فلسفہ، منطق، اسلامی تاریخ اور عالمی تاریخ کا بھی وسیع مطالعہ تھا اور کبھی کبھی بالتفصیل تاریخی حوادث و و قائع کو بیان فرماتے تھے۔
تاریخ و جغرافیہ میں ان کے اپنے خاص نظریات تھے۔ اس کے علاوہ فن رجال، و انساب کے ایک جید عالم مانے  جاتے تھے۔ اپنی علمی و جاہت و تقویٰ و پرہیز گاری کی وجہ سے وہ اپنے زمانے کے منقطع النظیر شخصیت بن گئے۔ 
حلیہ ، اخلاق و عادات: 
مولانا ابو الوفاء رحمہ اللہ اعلیٰ حسب و نسب کے حامل، دراز قد اور نہایت ہی حسین و جمیل تھے۔ آپ کا رنگ گورا اور سرخی مائل تھا۔ آپ کے چہرے سے بزرگی جھلکتی تھی۔ خوش خلقی، راست گوئی اور اظہارِ حق میں بے باک تھے کسی کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے اور کسی قوت سے مرعوب نہ ہوتے تھے ۔ آپ نہایت پرہیز گار اور پاک دامن تھے۔اپنی پوری زندگی علم دین کی خدمت اور قدیم علمی ورثہ کی نشرواشاعت میں گزاردی۔
علمی کارنامے : 
بعد فراغتِ علم مولانا ابو الوفاء رحمہ اللہ اپنی ہی مادر علمیہ میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہوکر کئی سال تک فقہ حدیث اور عربی زبان و ادب کا درس دیتے رہے۔ یہاں تک کہ آپ نائب شیخ الفقہ کے عہدہ پر فائز ہوئے۔ اپ کاتدریسی اور تقریری انداز فقہاء عظام کی مانند بالکل علمی و تحلیلی ہوا کرتا تھا۔ اثناء درس فقہاء کے اختلافات پر سیر حاصل بحث کرتے تھے۔ نیز آیات قرآنیہ اور احادیث شریفہ سے ماخوذ احکام کو بھی بکثرت زیر بحث لاتے اور ساتھ ساتھ اجلہ فقہاء کرام کی حجتوں اور ائمہ فقہ میں اسباب اختلافات پر بھی روشنی ڈالتے تھے۔ 
اس کے علاوہ متن کی تحقیق، اسناد کی صحت، دفع تناقض اور مذاہب اربعہ میں فقہ حنفی کے تفوق و امتیاز کو دلائل قویہ اور براہین قاطعہ سے ثابت کرتے تھے۔ آپ کے بحر علم سے بے شمار تشنگارن علم سیراب ہوئے۔ 
آپ کے دولت کدہ پرہفتہ واری درس حدیث کا اہتمام بھی تھا۔ جسمیںجامعہ نظامیہ اور جامعہ عثمانیہ کے اساتذہ کے علاوہ مشاہیر علماء اور طلبہ کی ایک کثیر تعداد شریک رہتی تھی۔ ان میں قابلِ ذکر پرفیسر مولانا محمد عبدالستار خان صاحب سابق صدر شعبہ عربی جامعہ عثمانیہ، پروفیسر غلام احمد مرحوم و مغفور، ڈاکٹر محمد عبدالغفار خاں صاحب، مولانا حافظ ابراہیم خلیل صاحب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ، مولانا شیخ ابو بکر محمد ہاشمی، مولانا فاروق ہاشمی اور دیگر مصححین دائرۃ المعارف ہیں۔ اس علمی محفل میں علماء و محققین کے علاوہ ڈاکٹرس انجینئرس ، ماہر نظم و نسق و تجار اور خودراقم السطور بھی شریک ہوکر آپ کے بحر علم سے سیراب ہوا کرتاتھا۔
حضرت مولانا ابو الوفاء رحمہ اللہ حرمین شریفین کی زیارت اور حج بیت اللہ کی سعادت سے مشرف ہوئے اور دوران قیام حجاز مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے محدثین کرام سے اسناد حدیث حاصل کی۔ 
مولانا ممدوح کے تبحر علمی کی وجہ سے ہندوستان اور عالم اسلام میں آپ کو بہت ہی عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ آپ کی عربی زبان و ادب اور علوم اسلامیہ کی خدمات کے اعتراف کرتے  ہوئے ۱۹۷۱ء میں صدر جمہوریہ ہند نے ملک کا اعلیٰ اعزاز عطا کیا۔ آپ انجمن طلباء قدیم جامعہ نظامیہ کے صدر کے عہدہ پر طویل مدت تک فائز رہ کر نظامیہ کی علمی خدمت کی اور اس کے مالیہ کو مستحکم کرنے کے لئے کافی رقم اکٹھاکی۔ جامعہ نظامیہ کی فلاح و بہود آپ کا نصب العین تھا۔ جامعہ کے عہددار، اساتذہ طلباء سب آپ سے اپنے مسائل کو رجوع کرتے تھے اور آپ کی قد آور شخصیت سے سب مرعوب تھے۔ جامعہ سے حد درجہ تعلق کے باوجود اس کی صدارت کبھی قبول نہیں فرمائی۔ آپ ایک تناور درخت کی مانند تھے۔ جس کے گہرے سایوںمیں سب کی راحت کا سامان مہیا تھا۔ مولانا ممدوح بڑے فیاض اور مہمان نواز تھے۔ 
عید الاضحیٰ کے موقع پرآپ بنفسِ نفیس بازار جاکر دو فربہ دنبے خریدتے اور خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے۔ ایک دنبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ذبح کرتے تھے اور ذبح کے بعد اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر فرماتے تھے کہ اے اللہ یہ قربانی اپنے پیارے حبیب اور ہمارے سردار و شفیع حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طر ف سے قبول فرما۔ دعا کے وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ کی ڈاڑھی مبارک تر ہوجاتی تھی اور پھر ایک دنبہ اپنی طرف سے ذبح کرتے تھے۔ قربانی کا گوشت غرباء اور مساکین میں تقسیم فرماتے اور ایک حصہ سے دعوت کا اہتمام کرتے تھے جس میں اصد قاء اوراحباء کے علاوہ جامعہ نظامیہ کے طلباء مدعو رہتے تھے۔  طلباء سے ضیافت کے دوران فرماتے تھے کہ 
’’تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم ہو اور ان کے مہمان ہو‘‘ 
آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حد درجہ محبت تھی۔ جب کبھی کوئی شخص آپ کے سامنے حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر خیر چھیڑ دیتا تو آپ رقت قلبی اور غلبہ محبت کی وجہ سے زار و قطارروتے تھے۔ پھر آپ کے فضائل حمیدہ اور خصائص کبریٰ بیان فرماتے تھے۔ میلاد النبی ﷺ بہت ہی تزک و احتشام سے مناتے تھے۔ اس مبارک موقعہ پر طلباء اصدقاء و علماء کی لذیذ کھانوں اور حلویات سے ضیافت ہوتی تھی۔ آپ زیادہ دولت مند نہیں تھے۔ آپ کا ذریعہ معاش جامعہ نظامیہ کی تدریسی خدمت تھا اس کے باوجود آپ کا دستر خوان بہت وسیع تھا گویا کہ آپ کی ذات اس آیت کی مظہر تھی ’’جو اللہ سے ڈرتا ہے اس کو ایسے ذریعہ سے رزق دیاجاتا ہے جس کا اس کو گمان تک نہیں ہوتا‘‘ آپ کی سکونت مجلس احیاء المعارف النعمانیہ سے متصل تھی۔ یہیں آپ کے کھانے کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان دونوں بزرگوں میںمثالی اخوت و مودت تھی۔ مولانا مفتی مخدوم بیگ، مولانا ابو الوفاء سے عمر میں دوسال چھوٹے تھے اور احیاء المعارف کے جملہ علمی کاموں میں آپ کے دست راست تھے حتی کہ خاندانی امور میں بھی آپ سے مشاورت ہوتی تھی۔ ۱۳۷۲ھ میں جب مولانا مفتی مخدوم بیگ صاحبؒ کا وصال ہوا تو آپ کے خاندان کی کفالت مولانا ابو الوفاء نے اپنے ذمہ لے لی اور تینوں بچوں کی تعلیم و تربیت پر خوب توجہ فرمائی اور ان کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا۔ حسن ادب سکھلایا اور ان کو مثقف اور مہذب بنایاوہ سب کے سب ممتاز عالم دین بن گئے۔ مرحوم مفتی مخدوم بیگ صاحب کے تین صاحبزادوں میں سب سے بڑے مولانا ابو بکر محمد ہاشمی ہیں جو دارئرۃ المعارف میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ( وہ صدر مصحح کے عہدہ پر فائز رہ چکے ہیں)۔ مولانا موصوف بحیثیت استاذ حدیث جامعہ امام محمد میں تین سال تک خدمت انجام دئے۔ 
دوسرے صاحبزادے مولانا مفتی ابراہیم ہاشمی خلیل ہیں جوجامعہ نظامیہ میں مفتی کے عہدہ پر فائز رہے اور اب شیخ الفقہ ہیں۔ وہ ایک جید عالم دین ہیں جو بہت ہی جانفشانی کے ساتھ اپنے تدریسی فرائض انجام دیتے ہیں آپ ایک اچھے مقرر بھی ہیں۔ آپ کا اسلوب بیان بہت ہی جاذب اور دلکش ہے۔ 
سب سے چھوٹے صاحبزادے مولانا عمرہاشمی فارق ہیںجو بحیثیت مصحح دائرۃ المعارف میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ موصوف ایک صالح اور ذہین و فطین نوجوان ہونے کے ساتھ ساتھ بلند اخلاق سے متصف ہیں یہ تینوںصاحبزادے مولاناابو الوفاء رحمہ اللہ کے لخت جگر اور ان کی تعلیم و تربیت کا ثمرہ ہیں۔ مولانا شیخ ابوبکر محمد ہاشمی مولاناابو الوفا رحمہ اللہ کی رحلت کے بعد مجلس احیاء المعارف النعمانیہ کی صدارت سنبھالے ہوئے ہیں۔
مولانا ممدوح رحمہ اللہ نے اپنے بے پناہ علمی مشاغل کے سبب نکاح کا ارادہ نہ فرمایا اور پوری زندگی تجرد و تنہائی میں گزاردی وہ اپنے تلامذہ کو اپنی اولاد سمجھتے تھے اور ان پر پدرانہ شفقت فرماتے تھے۔ آپ طبیعت کے بڑے نازک اور ہمیشہ خوش پوشاک رہتے تھے۔ آپ کا لباس بہت ہی ڈھیلا ڈھالا مگر نہایت ہی عمدہ ہواکرتا تھا۔ آپ عطریات کے بہت شیدا تھے اور ہمیشہ اپنے کپڑوں کو قیمتی عطریات سے معطر رکھتے تھے۔ عموما جبہ زیب تن فرماتے اور سر پر عمامہ باندھتے تھے۔ سفر و حضر میں خوبصورت عصا اپنے ہاتھ میں رکھتے تھے۔ غذائی معمولات میں روزانہ روٹی تناول فرماتے البتہ تقاریب میں چاول بھی تناول فرمایا کرتے تھے۔ سبز چائے آپ کو بہت پسند تھی اور اپنے مہمانوں کی اسی سبز چائے سے ضیافت فرماتے تھے۔ سال میں دویاتین مرتبہ تفریحا شہر سے باہر تشریف لے جاتے تھے اور اسی طرح پابندی کے ساتھ اولیاء کرام کے مزارات پر حاضری دیتے تھے۔ اور بغرض ایصال ثواب ان کے لئے ختم قرآن کا اہتمام کرتے اور انکی طرف سے صدقہ و خیرات بھی دیا کرتے تھے۔ حضرت خواجہ بندہ نواز رحمہ اللہ اور شیخ علاؤالدین رحمہ اللہ کے مزارات پر بپاندی حاضری دیا کرتے تھے۔ وقتا فوقتا قصیدہ بردہ شریف کی محفل بھی سجایا کرتے تھے اور خود اس محفل میں شریک ہوکر قصیدہ بردہ کے اشعار پڑھا کرتے تھے۔ اور حضور سے گہری وارفتگی کی بناء پر آپ کے ذکر مبارک کے وقت آنکھوں سے آنسو چھلک جاتے تھے۔ اس مبارک محفل میں علماء ، صلحاء اور طلباء شریک ہواکرتے تھے اور محفل کے اختتام پر بحالت قیام بصد احترام ببارگاہ خیر الانام صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنا نذرانہ عقیدت بھیجنے کی سعادت حاصل کرتے بوقت صلوۃ و سلام محفل پر وجدانی کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔ آپ بلاشبہ سچے عاشق رسول اتھے۔ 
مولانا ممدوح رحمۃ اللہ علیہ کو کتب خریدنے اور جمع کرنے کا بہت شوق تھا ان کی اپنی ذاتی لائبریری تھی جو ان کی علمی میراث ہے۔ آپ ایک جید فقیہہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک فصیح وبلیغ واعظ اور مقرر بھی تھے۔ آپ کا انداز خطابت باکل منفرد تھا۔ آپ کے مواعظ میں ہزاروں لوگ شریک ہوا کرتے تھے بیک وقت آپ کو اردو، عربی، فارسی اور پشتو زبانوں میں مہارت حاصل تھی۔ اور ان تمام زبانوں میں وہ بآسانی گفتگو کرسکتے تھے۔ اپنے مواعظ میں باربار عربی وفارسی اشعار وامثال سے استشہاد کرتے تھے باطل فرقوں اور قادیانیوں سے مناظرہ کرتے تھے۔ آپ بدعتی اور نفس پرست صوفیا کو سخت ناپسند فرماتے تھے اور کسی سے خلاف شرع کام صادر ہوتا تو اس کی کھلی مذمت کرتے اور ببانگ دہل کسی کی رعایت کئے بغیر مذمت فرماتے۔ خام و جھوٹے صوفیا کے بارے میں اکثر فرمایا کرتے تھے کہ: ھؤلاء ذئاب فی ثیاب یہ کپڑوں میں لپٹے ہوئے بھیڑئے ہیں۔
شریعت کے معاملہ میں بہت سخت تھے۔ آپ امامت پر اجرت لینے کو ناجائزسمجھتے تھے اس لئے تنخواہ یاب ائمہ کے پیچھے نماز ادا نہ کرتے تھے۔ کھانے پینے میں حلال و حرام کی تمیز کا سختی سے لحاظ رکھتے تھے اس لئے دعوتوں ولیموں سے اکثر پر ہیز کیا کرتے تھے اور صرف ایسے شخص کی دعوت قبول کرتے جو حلال روزی کماتاہو۔
مولانا ممدوح رحمہ اللہ جامع کمالات تھے کتاب وسنت پر سختی سے عمل پیراتھے اور امام اعظم کے مذہب اور اس کے فروغ کے راسخ مقلد تھے اور حسن تویہ ہے کہ وہ اپنے زمانہ کے فقہ حنفی میں امام مانے جاتے تھے۔ اسی لئے اہل علم ان کو ’’ابوحنیفہ ثانی‘‘ کے نام سے یاد کرتے تھے۔ حضرت ممدوح 13/ رجب المرجب 1395ھ کی صبح اس دار فانی سے کوچ فرما کرو اصل بحق ہوئے۔ آپ کی نماز جنازہ جامعہ نظامیہ کے وسیع و عریض میدان میں ادا کی گئی جس میں علماء مشائخین، عمائدین اور ہزاروں مسلمان شریک تھے۔ آپ کی تدفین نقشبندی چمن میں حضرت محدث دکن سید عبداللہ شاہ قدس سرہ کے مقبرہ کے قریب عمل میں آئی۔ بعض اصحاب فکر و قلم نے آپ کی رحلت پر یہ فارسی تاریخ نکالی:
فخر دیں وفخر ملت بو الوفا
آں ذاتش منبع فیضان بود
واصل حق شد بدیں مصطفی
بحر عرفان ثانی نعمان بود
ترجمہ: ابوالوفا فخر دین ملت ہیں آپ کی ذات منبع فیضان تھی۔
آپ دین مصطفی پر رہتے ہوئے واصل حق ہوئے جو بحر عرفان تھے اور ثانی ابو حنیفہ تھے۔
مولانا ممدوح کی سوانح حیات حضرت امام محمد کی ’’کتاب الآثار‘‘ کے دوسرے حصہ کے آخری صفحہ 326پر پیش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ علامہ محمد یوسف بنوری نے ماہنامہ علمی مجلّہ ’’بیّنات‘‘ برائے شعبان 1395ھ میں مولانا کا مختصر سا تعارف کرایا ہے اور اسی طرح ابو الخیر اکیڈمی نے فیصلہ پنچ مسئلہ میں صفحہ9-6میں آپ کی سوانح حیات پیش کی ہے۔نیز علامہ عبدالفتاح ابو غدہ نے اپنی مشہور کتاب ’’العلماء العزاب الذین آثروا العلم علی الزواج‘‘ ص ۱۲۳۔۱۲۶ مطبوعہ 1402ھ مطابق1982ء شائع کردہ مکتب کتب اسلامیہ حلب میں آپ کا تفصیلی تعارف کروایا ہے۔
اس مقالے کی ترتیب میں میں نے مذکورہ بالا مراجع اور مولانا کے شاگرد خاص مولانا ابوبکر ہاشمی اور میری راست شخصی معلومات سے استفادہ کیا ہے میں اس موقع پر عبدالفتاح ابو غدہ کی مذکورہ کتاب سے اقتباس پیش کرنا چاہتا ہوں جس میں انہوں نے مولانا ممدوح کے علمی کارناموں کا ذکر کیا ہے:
’’تعلیم سے فوری فراغت کے بعد مدرسہ نظامیہ میں تدریس سے وابستہ ہوئے اور اپنے شیوخ کی ملازمت اختیار کرتے ہوئے عربی ادب اور فقہ اور حدیث شریف کا درس دیا اور کئی سال تک طلباء کے وفود آپ کے علمی فیضان سے مستفیض ہوئے پھر تدریس کو خیرباد کہہ کر مجلس احیاء المعارف النعمانیہ کی بنیادڈالی تاکہ ہمارے سلف وصالحین کی نادر کتابیں شائع کریں۔ چنانچہ اس مجلس کو دوسری اور تیسری صدی ہجری کے علماء کی تصانیف شائع کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ وہ خود اس مجلس کے صدر تھے بلکہ وہ اپنی ذات میںانجمن تھے جنہوں نے اپنے وقت مال اور علم کے ذریعہ اپنے مفوضہ فرائض بحسن وخوبی انجام دئیے تاکہ وہ عنداللہ ماجور ہوں۔ اللہ تعالی نے ان کو حج بیت اللہ کی سعادت سے سرفراز فرمایا اور اثناء سفر حجاز اکابر سے افادہ اور استفادہ کیا آپ کو ہر طرف سے علمی تعاون حاصل تھا۔ جب کبھی کسی کو نادر مخطوطات کے بارے میں لکھتے تو وہ فوری مولانا کے پاس پہنچ جاتے تھے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ کا مکتبہ فقہ حنفی، حدیث شریف، فن رجال اور دوسرے علوم اسلامیہ پر مشتمل کتب سے معمور ہوگیا۔
آپ نے تحقیق و تالیف کے بعد نادر کتابیں شائع فرمائیں جس میں قابل ذکر امام ابویوسف المتوفی182ھ کی کتاب ’’کتاب الآثار‘‘  اور  امام ابو یوسف ہی کی ایک اور کتاب ’’الرد علی سیر الاوزاعی‘ ‘  اور  امام محمد بن حسن الشیبانی المتوفی 197ھ کی کتاب ’’کتاب الاصل‘‘ اور امام ابویوسف کی اور کتاب اختلاف ابی حنیفہ و ابن ابی لیلی ،کتاب ’’الجامع الکبیر‘‘ ، امام محمد بن حسن الشیبانی کی ’’کتاب الآثار‘‘ کی شرح ’’مختصر الطحاوی فی فقہ الحنیفیہ‘‘، امام بخاری کی تاریخ کبیر کی تیسری جلد ، علامہ جصاص کی ’’کتاب النفقات‘‘ ، شرح الزیادات ، حافظ ذھبی کی کتاب ’’مناقب الایمان‘‘، ابی حنیفہ و صاحبیہ ابی یوسف و محمد اس کے علاوہ آپ نے حسب ذیل کتابوں کو اپنی نگرانی میں شائع کروایا: محمد بن حسن الشیبانی کی کتاب ’’کتاب الحجۃ علی اہل المدینۃ‘‘ جس کی تحقیق و تعلیق محدث وفقیہ مفتی مہدی حسن نے کی یہ کتاب چار جلدوں پر مشتمل ہے۔ امام محدث قاضی ابوعبد اللہ الصیمری المتوفی 436ھ کی کتاب ’’ اخبار ابی حنیفہ واصحابہ‘‘ حافظ محدث محمد بن یوسف الصالحی الشامی الشافعی المتوفی 942ھ کی کتاب ’’عقود الجمان فی مناقب ابی حنیفہ النعمان‘‘۔ اس کے علاوہ دیگر ونادر کتابیں بھی شائع کروایا تصانیف کی نشر واشاعت کے ذریعہ اپنی راحت وسکون کا سامان مہیا کرلیا اور زندگی بھر مجرد رہتے ہوئے رجوع الی اللہ رہے۔ آپ زاہد، متقی، قائم اللیل اور سنن نبویہ ﷺ کے کامل محافظ تھے۔ آپ مستحبات کے چھوڑنے کو بھی مکروہ سمجھتے تھے۔ آپ کے اوقات مطالعہ وافادئہ عامہ، تحقیق وتعلیق، علماء اساتذہ کی تربیت پر صرف ہوتے تھے۔
آپ کے چہرے سے بزرگی کے آثار چمکتے تھے میں نے حیدرآباد میں آپ کے دولت خانے پر حاضر ہو کر شرف ملاقات حاصل کیا۔ میں نے دیکھا کہ آپ کا رہن سہن بالکل سادہ اور تسھیلات عصریہ سے خالی تھا لیکن مطبوعہ اور غیر مطبوعہ کتابوں سے معمور، آپ ضعف جسمانی کے باعث ایک رسی کے بنے ہوئے پلنگ پر آرام فرماتے ہیں۔ آپ کا کھانا بھی بالکل سیدھا سادہ اور آپ کی راتیں مناجات میں گذرتیں اورآپ کی ساری زندگی زہد وتقوی کا پیکر تھی کسی قسم کی حرص، نہ ہی کسی عورت کی طلب اور نہ اولاد کی خواہش ہے اگر فکر ہے تو ایک ہی ہے کہ علم میں کس طرح اضافہ ہو اور کتابوں کی نشر واشاعت کیسے ہو۔ انہیں حالات میں آپ نے داعی اجل کو لبیک کہا اور ایسے ہی عالم باعمل کی وفات پر کسی نے کیا خوب کہا۔
موت التقی حیاۃ  لا انقطاع لھا
قد مات قوم وھم فی الناس احیاء
عالم کی موت ایسی زندگی ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوتی 
قوم تومرچکی لیکن وہ لوگوں کے درمیان زندہ ہیں۔
لجنۃ انوار المعارف 
مولانا ابواکلام آزاد ’’الہلال‘‘ میںر قمطراز ہیں، میرے اعتقاد میں پہلی چیز کاموں کی تلاش نہیں بلکہ کام کرنے والوں کی تلاش ہے۔ دنیا میں کاموں کی کبھی کمی نہیں رہی اصل کمی کام کرنے والوں کی ہے۔ 
از ہر ہند جامعہ نظامیہ اسلامیہ کے قابل فخر سپوت حضرت مولانا حافظ و قاری عزیز بیگ 1933ء کا شمار ایسے ہی اصحاب علم وفن میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی دعوتی، تعلیمی، تدریسی، تحقیقی، تصنیفی تذکیری خدمات کے یادگار نقوش بنائے اور 1967ء میں دائرۃ المعارف کے نہج واسلوب پر ایک تحقیقاتی اکیڈیمی لجنۃ انوار المعارف کی بنیاد ڈالی۔ عربی زبان و ادب اسلامی علوم فنون کے قدیم سرمایہ کا تحفظ و بقاء اور جدید نسلوں تک اس کی ترسیل وابلاغ اس ادارہ کے کلیدی مقاصد میں شامل ہیں۔ 
بر صغیر کے ممتاز عالم علامہ مفتی عبدالحمید (سابق رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ امیر ملت اسلامیہ اے پی) فقیہ اعظم حضرت علامہ مفتی رحیم الدین (مفتی صدارت العالیہ حیدرآباد دکن) مولانا حافظ حبیب الدین ۔ بین الاقوامی شہرت کے حامل فرزند نظامیہ حضرت مولانا ڈاکٹر محمد حمیداللہ رحمۃ اللہ علیہ اس کے سرپرست و سرگرم معاونین میں شامل تھے اور لندن ویورپ کی لائبریری سے نادر مخطوطات کی فلمیں حاصل کر کے روانہ فرماتے تھے اور مراسلت بھی ہوا کرتی تھی خود مولانا عزیز بیگ صاحب نے مختلف ممالک کاسفر کر کے مخطوطات کی نقولات کاذخیرہ جمع کیا تھا۔ مولانا ایک بہترین نقاد و محقق و مدقق تھے۔ مخطوطات کی ایڈیٹنگ میں آپ کو مہارت حاصل تھی۔ مجلس انوار المعارف نے علمی دنیاکو جو نایاب شاہ کار دئے ان میں بعض کو پہلی مرتبہ شائع کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ مجلس کی تحقیقات جو مولانا عزیز بیگ کی راست ایڈیٹنگ و نگرانی میں شائع ہوئیںحسب ذیل ہیں۔ 
ابن حبان کی المجرو حین من المحدثین، 
ابن طولون کی، المنھل الروی فی الطب النبو ی 
بیہقی کی جامع شعب الایمان، 
علامہ سیوطی کی، مسند ابوبکر صدیق، 
مسند عثمان ابن عفان، 
مسند علی ابن ابی طالب، 
مسند فاطمۃ الزہرا، 
ابن ابی الدنیا کی کتاب الورع، 
امام نووی کی الایمان فی الناسک،
عبدالباقی مدنی کی الطراز المنقوش فی محاسن الحبوش (3جلدیں)
راقم الحروف کو اس تحقیقاتی اکیڈیمی میں کام کرنے کی سعادت ملی جس کا تدکرہ مولانا نے مسند فاطمۃ الزہرا کے مقدمہ میں فرمایاہے۔ 
مولانا عزیز بیگ نے دائرۃ المعارف میں 1969سے 1990تک 
کنز العمال، 
ثقات ابن حبان،
الدر رالکامنۃ، 
ابنا الغمر،
کتاب الوسیلہ ،
ذیل تاریخ بغداد، 
الجواھر المضیتہ،
المستفاد اور 
کتاب المجروحین 
کی پچیس مختلف مجلدات کی ایڈیٹنگ فرمائی جن کی وقعت و استناد کیلئے اتنا کافی ہے کہ عالم عرب کے اسکالرزان کتب کے حوالے اپنی تصنیافات وتالیفات میں دیا کرتے ہیں۔
ہیں سر خرو یہ لا لہ و گل کس کے فیض سے کہئے چمن کو خونِ جگر کون دے گیا
المعہد الدینی العربی
ہندوستان میں صدیوں سے عربی کے ساتھ فارسی اردو و دیگر مقامی زبانوں کی تعلیم کا نظم جاری ہے اس کے باوجود عربی ذریعہ تعلیم کی تحریک بھی پوری سرگرمی سے جاری ہے جس کا ایک زندہ و تابندہ ثبوت ’’المعہد الدیني العربي‘‘ ہے جو علوم دینیہ اسلامیہ کی خالص عربی زبان میں تعلیم و تدریس نشر واشاعت کے اعلی مقصد اور نصب العین کے تحت 1405ھ میں قائم کیا گیا گزشتہ تین دہوں سے علوم دین کی شبانہ روز خدمت کے ساتھ اپنی غیر معمولی شخصیت کا زور قائم رکھنے والی قد آور علمی دینی شخصیت مولانا المحترم محمد خواجہ شریف صاحب شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ اس کے مؤسس اور صدر ہیں ۔ المعہد الدینی العربی میں مختلف درجات کی تعلیم دی جاتی ہے ثانویہ تک پہنچنے کے لئے چار مستویات رکھے گئے ہیں۔ چار سالہ نصاب تعلیم کی تکمیل کے بعد طالب علم سند حاصل کرکے جامعہ نظامیہ یادیگر جامعات کی اعلی تعلیم کے داخلہ کااہل ہو جاتا ہے۔ یہاں کمسن طلبہ کے لئے روضۃ الاطفال کا شعبہ بھی قائم ہے۔ المعہد الدینی کے تعلیمی وتدریسی منصوبوں میں سب سے اہم اور ضروری کام ثانوی درجہ تک اسلامی و عصری تعلیمات کو عربی زبان میں پڑھانے کا نظم ہے۔ اس ضمن میںماہرین فن کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، طالبات کے لئے علحدہ اوقات میں معلمات کے زیر نگرانی خصوصی نظم ہے، المعہد الدینی العربی معاشرہ کے تمام افراد کے لئے تعلیم اور عربی زبان کی تدریس کا بنیادی مقصد رکھتا ہے ، معھد کا ایک وقیع کتب خانہ بنام مکتبہ طاہر بھی جہاں مختلف علوم وفنون کی گراں قدر کتابیں جمع ہیں، تحریر وتقریر ادب انشاء موضوعاتی محاضرات یہاں کی علمی ادبی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔ معہد کا تعلیمی نظم ایسا لچکدار ہے کہ یہاں کے فارغ جامعہ نظامیہ کے علاوہ عثمانیہ یونیورسٹی کے مختلف امتحانات انٹرنس، پی ڈی سی، بی اے (ایل) ایم اے (ایل) وغیرہ ڈگریوں کے حصول کا اچھا رکارڈ رکھتے ہیں۔ اور معہد کے کئی فارغین بیرونی ملکوں میں مختلف علمی خدمات پر فائز ہیں۔ تاریخی شہر حیدرآباد کے محلہ شاہ علی بنڈہ میں واقع المعہد الدینی العربی نونہالان ملت و دختران امت کے دل ودماغ میں تہذیبی وتمدنی علمی فکری رشہ کو منتقل کرتے میں شب و روز مصروف ہے۔
ہر ایک سانس میں کوئی نصاب ہے روشن
ورق ورق مرے دل کی کتاب ہے روشن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *