محمد مہتاب عطاری /دینے گیا تھا ایک آم —— پر لے آیا چار آم

دینے گیا تھا ایک آم —— پر لے آیا چار آمجی ہاں! آج وقت سحر میرے ساتھ کچھ ایسا ہی سچا اور نیا واقعہ رونما ہوا ہے ـواقعہ کچھ یوں ہے کہ آج میں حسب معمول وقت سحر راستے سے گزر رہا تھا ـ گرزنے والے راستے میں ایک جگہ ایسی بھی آتی ہے جہاں ایک آم کا تناور درخت موجود ہے اور راستے اور درخت کے درمیان ایک دیوار کھڑی ہونے کے سبب صاحب درخت (جو کہ غیر مسلم ہے) کو دیوار کے اس کنارے گرنے والے آموں کے حصول سے محروم رہنا پڑتا ہے ـ روزانہ میرے گزرنے پر وہ آم مجھے زمین پر گرے پڑے ہوئے میسر آتے ہیں جسے میں یہ خیال کرکے راستے سے اٹھا کر دیوار کے اس کنارے پھینک دیا کرتا تھا کہ اس آم کا حقیقی مالک کو اس کا یہ آم مل جائے ورنہ میرے بجائے اگر کوئی دوسرا مسلمان اس آم کو اٹھا کر اپنے استعمال میں لے آیا تو ہوسکتا ہے کہ بروز محشر یہی چند آم اس بندے کیلئے وبال جان بن جائے ـ میں اپنے مسلمان بھائیوں کو اس وبال سے بچانے اور آم کے مالک تک اس کا آم پہنچانے کی نیت سے روزانہ یہ کام عمل میں لاتا رہا، لیکن آج وقت سحر میں نے معمول کے خلاف کام کیا اور آج راستے میں پڑے ہوئے ان درخت کے ایک آم کو دیوار کے اس کنارے پھینکنے کے بجائے اپنے ہی پاس یہ سوچ کر رکھ لیا کہ میں وقت ظہر یہ آم خود درخت کے مالک سے ملاقات کرکے اس کے سپرد کروں گا اور دیوار کے پیچھے گرنے والے ان آموں کے متعلق واقف بھی کراؤں گا تاکہ آئندہ کیلئے وہ ان آموں کے خسارے سے بچ سکیں جو دیوار کے اس کنارے پر گرنے کی وجہ سے انہیں دستیاب نہیں ہوا کرتے ہیں ـ پھر کیا تھا میں دوپہر کے وقت اس درخت کے مالک کا پتہ معلوم کرتے ہوئے اس کے پاس پہنچ گیا اور انہیں سارا واقعہ سے باور کراتے ہوئے کہا کہ میرا روزانہ وقت سحر فلاں راستے سے گزرنا ہوتا ہے اور آپ کے درخت سے گرنے والے آم مجھے میسر ہوتے ہیں جسے میں اٹھا کر دیوار کے اس پار پھینک دیا کرتا ہوں کہ اس آم کا جو مالک ہے یہ آم اسی کو ملنے چاہئے لیکن میں نے آج ایسا نہیں کیا ہے اور آج مجھے ملنے والا یہ آم جو میرے پاس موجود ہے یہ آپ ہی کے درخت کا ہے جسے میں خود چل کر آپ تک پہنچانے کیلئے آیا ہوں تاکہ آپ کو اس آم کے ضائع ہونے کا نقصان سہنا نہ پڑے ـ تو اس نے کہا کہ آپ اسے اپنے استعمال میں لا سکتے تھے ـ میں نے جواب دیا کہ نہیں! ہم کسی کا بھی سامان بلا اجازت کے استعمال میں نہیں لاسکتے ہیں ـ یہ سن کر وہ غیر مسلم درخت کا مالک جو میرے پہنچنے سے قبل بستر پر لیٹا ہوا تھا میری یہ امانت داری دیکھ کر فوراً اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور مجھ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آپ روزہ سے ہیں؟ میرا جواب تھا جی ہاں! میں روزہ سے ہوں ـ بس اتنا ہی سننے کی دیر تھے کہ وہ شخص فوراً اپنے گھر کے اندر جاتا ہے اور چار آم لاکر مجھے پیش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جناب یہ سارے آم بھی اپنے استعمال کیلئے لے جائیں میری طرف سے ان آموں کو استعمال کرنے کی آپ کو پوری اجازت ہے، اور یہی نہیں بلکہ روزانہ دیوار کے اس کنارے گرنے والے ان تمام آموں کو بھی آپ اپنے استعمال میں لاسکتے ہیں جسے آپ روزانہ اٹھا کر دیوار کے اس کنارے میرے لئے پھینک دیا کرتے ہیں ـالحمدللہ عَزَّوَجَل یہ بات میں پوری ذمہ داری کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ مجھے یہ سوچ و فکر صرف اور صرف تحریک دعوت اسلامی سے ہی حاصل ہوئی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *