فاتحہ خلف الامام

فاتحہ خلف الامام

سوال: نماز با جماعت میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھی جائے گی یا نہیں؟
جواب: سورہ فاتحہ امام کے پیچھے بھی پڑھی جائے گی۔ کیونکہ فان قرائتھا فریضة وھی رکن تبطل الصلوة بترکھا۔ ( غنیة الطالبین ص853 ) یعنی نماز میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے۔ کیونکہ یہ نماز کا رکن ہے اور اس کو ترک کرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔
سوال: ایک جگہ آپ نے فرمایا ہے کہ واذ قرء فانصتوا۔ ( غنیة الطالبین ص871 ) کہ جب امام قرأت کرے تم خاموش رہو۔ ایسی صورت میں تو نماز کا یہ رکن مقتدی سے رہ جائے گا اور اس کی نماز باطل ہو گی، اس مشکل کا کیا حل ہے؟
جواب: واضح رہے کہ نماز کے پندرہ ارکان ہیں۔ 
( 1 ) قیام ( 2 ) تکیر  تحریمہ ( 3 ) سورہ فاتحہ ( 4 ) رکوع ( 5 ) رکوع میں اطمینان ( 6 ) قومہ ( 7 ) قومہ میں اطمینان سے کھڑا ہونا ( 8, 9 ) دو سجدے (10 ) سجدوں میں اطمینان ( 11 ) جلسہ ( دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا ) ( 12 ) جلسہ میں اطمینان ( 13 ) آخری تشہد ( 14 ) درود اور (15 ) آخر میں سلام۔ ( غنیة الطالبین صفحہ 10 )
رکن کے بارے میں یہ بات یاد رہے کہ ان ترک عامدا او ساھیا بطلت ( غنیة الطالبین صفحہ 12 ) کہ کوئی رکن خواہ دانستہ ترک کر دیا جائے یا وہ بھول کر چھوٹ جائے۔ دونوں صورتوں میں نماز باطل ہو جاتی ہے۔
حضرت کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح رکوع اور سجدہ وغیرہ نماز کے رکن ہونے کی وجہ سے ہر شخص کے لیے خواہ وہ امام ہو یا مقتدی اپنے اپنے الگ ہی درکار ہیں اور اگر کوئی شخص رکوع یا سجدہ نہیں کرے گا تو اس کی نماز باطل ہو گی، ٹھیک ایسے ہی ایک رکن نماز کی حیثیت سے سورہ فاتحہ بھی ہر شخص کے لیے خواہ وہ امام ہو یا مقتدی اپنی اپنی الگ ہی درکار ہے اور اگر سورہ فاتحہ ترک ہو جائے گی تو نمازی خواہ امام ہو یا مقتدی، اس کی نماز ٹھیک ایسے ہی باطل ہو گی جس طرح سجدہ یا رکوع وغیرہ نہ کرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *